Naumann A Ansari

Sharing the Maximum Possible Detail
Muhammad Asad and Me

Muhammad Asad and Naumann

Home Coming Hearts

A Turkish Student Letter to Sheikh Al baani

بسم اللہ الرحمٰن الرحیمکیف اھتدیت
الی التوحید

راہ ہدایت کیسے ملی؟

تألیف:فَضیلَۃ الشّیخ/ محمّد بن جَمِیل زَینو
مدرس دارالحدیث الخریۃ مکہ مکرمہ

مترجم
شمس الحق بن اشفاق اللہ

کمپوزنگ: أبوبکرالسلفی

مقدمہ

الحَمدُ للہ، وَالصّلاۃ وَالسَلام عَلی رَسُولِ اللہِ۔ ۔ ۔ أمّا بَعد:
ترکیا کے شہر قونیہ کے ایک طالب علم کا مکتوب مجھے ملا جس کا مضمون یہ تھا :
محمد بن جمیل زینو۔ مدرس دارلاحدیث الخیریۃ مکہ مکرمہ کی جانب۔۔۔۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وربرکاتہ


استاذ مکرم: میں قونیہ میں کلیۃ الشریعہ کا طالب علم ہوں، آپ کی کتاب (اسلامی عقیدہ) کہیں ادھر اُدھر پڑی مجھے ملی میں نے اس کا ترکی زبان میں ترجمہ کر ڈالا مگر اس کی طباعت کے لئے آپ کے سوانح عمری درکار ہے، لہٰذا آنجناب سے گزارش ہے کہ یہ معلومات درج ذیل پتہ پر ارسال فرمائیں، آپ کا پیشگی مشکور ہوں۔ سلامتی ہو ہدایت کی اتباع کرنے والے پر[1]

“بلال باروجی”

اسی طرح میرے بعض احباب (طالب علموں) نے بھی مجھ سے مطالبہ کیا کہ اپنی سوانح عمری لکھوں اور وہ مراحل تھریر کروں جن سے پچپن سے لے کر 70 سالہ زندگی تک گذرا ہوں، اور یہ بیان کروں کہ سلف صالح کا صحیح اسلامی عقیدہ جو کتاب وسنت کی صحیح دلیلوں پر مبنی ہے مجھے کیسے ملا، یہ بڑی عظیم نعمت ہے اسے وہی شخص جان سکتا ہے جسے یہ لذت ملی ہو۔


رسول اکرم ﷺ نے سچ فرمایا:” ذَاق طَعمَ الاِیمَان ِ مَن رَضِی َ بِاللہِ رَباً، وَبِالاِسلَامِ دِیناً ، وَبِمُحمّد رَ سُولاً“۔[2] ۔


(جس نے اللہ کو رب، اور اسلام کو دین اور محمدﷺ کو اپنا رسول تسلیم کر لیا اس نے ایمان کی چاشنی پالی)۔


امید ہے کہ پڑھنے والا اس واقعہ سے عبرت و نصیحت حاصل کرے گا جو اسے حق و باطل کی تمیز میں فائدہ دے گی، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچائے اور اسے اپنی کوشنودی کا ذریعہ بنائے۔

محمد بن جمیل زینو
1/1/1415ھ


ولادت وپرورش

1. پاسپورٹ کے مطابق میں شامل کے شہر حلب میں 1925م[3] مطابق 1344ھ میں پیدا ہوا، بروقت میری عمر37 سال ہے، جب میں تقریباً دس سال کا ہوا تو ایک مدرسہ میں داخلہ اور لکھنا پڑھنا سیکھا۔
2. مدرسہ دار الحفاظ میں نام درج کرایا اور وہاں مسلسل پانچ سال رہ کر قرآن مجید مع تجوید حفظ کرلیا۔
3. حلب میں ایک مدرسہ جس کا نام (کلیۃ الشریعہ اعدادیہ) ہے اس میں داخلہ لیا، جاہں فی الحال ثانویہ شرعیہ تک تعلیم ہوتی ہے ، یہ اسلامی اوقاف کے تابع ہے، اس مدرسہ میں شری اور عصری علوم کی تعلیم ہوتی تھی، چنانچہ میں نے اس میں تفسیر، فقہ حنفی، نحو، صرف تاریخ، حدیث ، علوم حدیث ، علوم حدیث نیز دیگر علوم شرعیہ کی تعلیم حاصل کی۔
نیز عصری علوم مثلاً فزیا لوجی، کیمسٹری، ریاضیات ، فرانسیسی ذبان اور دیگر علوم مثلاً الجبرہ جس میں پرانے زمانے میں مسلمانوں کو تفوق حاصل تھا اس کی تعلیم حاصل کی۔
أ۔ اپنی یادداشت کے مطابق علم توحید میں ایک کتاب (الحصون الحمدیۃ) پڑھی، جس میں توحید ربوبیت پر خصوصی زور تھا، اور یہ کہ اس دنیا کا کوئی خالق اور پالنہار ہے۔ میں بعد سمجھ سکا کہ یہ ایک غلطی ہے جس میں بہت سے مسلمان اور مؤلفین، اور بہت سے جامعات ومدارس جس میں علوم شرعیہ کی تعلیم ہوتی ہے پڑے ہوئے ہیں، کیونکہ مشرکین جن سے رسول اکرمﷺ نے قتال کیا وہ بھی اعتراف کرتے تھے کہ اللہ ہی انہیں پیدا کرنے والا ہے۔
ارشاد الہی ہے: وَ لَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ فَاَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ(الزخرف:87۔)
(اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ انہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یقیناً یہ جواب دیں گے کہ اللہ نے، پھر یہ کہاں الٹے جاتے ہیں)۔
بلکہ شیطان ملعون بھی معترف تھا کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا رب ہے۔
اللہ تعالیٰ اس کی حکایت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغْوَيْتَنِيْ لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْاَرْضِ وَ لَاُغْوِيَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ (الحجر:39۔)
(کہا کہ اے میرے رب! چونکہ تونے مجھے گمراہ کیا ہے مجھے بھی قسم ہے کہ میں زمین میں ان کے لئے معاصی کو مزین کروں گا)۔
ب۔ البتہ توحید الوہیت جو ایک مسلم کی نجات کے لئے بنیاد ہے تو اسے نہ تو میں نے پڑھا اور نہ ہی اس کے متعلق کچھ جانا جس طرح دوسرے مدارس وجامعات کہ نہ تو وہاں اس کی تعلیم ہوتی ہے اور نہ ہی اس کے بارے میں طلبہ کچھ جانتے ہیں۔
حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اسی کی طرف دعوت دینے کا تمام رسولوں کو حکم دیا، اور آخری نبی جناب محمدﷺ نے بھی اپنی قوم کو اسی کی دعوت دی، جس کا انہوں نے انکار کیا اور تکبر کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق خبر دی ہے: اِنَّهُمْ كَانُوْۤا اِذَا قِيْلَ لَهُمْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ١ۙ يَسْتَكْبِرُوْنَ۠ (الصافات:35)
(یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو یہ سرکشی کرتے تھے)۔
کیونکہ عرب کے مشرکین اس کا معنی جانتے تھے، اور یہ بھی کہ اس کا اقرار کرنے والے کے لئے غیر اللہ کو پکارنا جائز نہیں،، بعض مسلمان زبانی طور پر اس کا اقرار کرتے ہیں اور غیر اللہ کو پکار کر اس کی مخالفت کرتے ہیں۔
ج۔ باقی رہی توحید اسماء وصفات ، تو مدرسہ میں صفات والی آیات کی تأویل کی جاتی تھی جس طرح اکثر اسلامی ممالک کے اندر مدرسوں میں تأویل کی جاتی ہے جو نہایت افسوسناک ہے۔
مجھے یاد ہے کہ وہاں کا مدرس اللہ تعالیٰ کے فرمان (الرَّحمَنُ عَلَی العَرشِ السَتوَی) میں” استوی” کا معنی “استولی” سے کرتا تھا یعنی گالب و قابض ہوا۔ اور بطور دلیل شاعر کا یہ قول پیش کرتا تھا:

قَدِاستَوَی بِشرُ عَلیَ العِرَاق۔۔۔۔۔۔۔۔۔مِن غَیرِ سَیف وَدَم مُھرَاقِ
(بشر عراق پر بغیر تلوار اور قتل وخونریزی کےقابض ہوگیا)۔

ابن جوزی نے کہا ہے کہ اس شعر کا کہنے والا مجہول ہے۔
دوسروں نے کہا کہ وہ نصرانی تھا۔
کلمہ” استوی” کی تفسیر بخاری شریف میں اللہ تعالیٰ کے فرمان(ثُمّ استَوَی الَی السّمَاءِ) تفسیر میں مذکور ہے۔
مجاہد اور ابوالعالیہ نے کہا کہ” استویٰ” کا معنی” عَلَاوَارتَفَعَ” یعنی بلند ہوا[4] ۔
تو کیا کسی مسلمان کے لئے یہ جائز ہے کہ بخاری شریف میں تابعین کے مذکور اقوال کو ترک کرکے کسی مجہول شاعر کے قول سے استدلال کرے؟ یہ فاسد تأویل جو اللہ تعالیٰ کے عرش پر بلند ہونے کی منکر ہے یہ امام ابو حنیفہ اور امام مالک وغیرہ کے عقیدہ کے خلاف بھی ہے چنانچہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ جن کا مذہب یہ لوگ پڑھتے پڑھاتے ہیں ان کا قول ہے(جس نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ میرا رب آسمان میں ہے یا زمین میں تو اس نے کفر کیا!! کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے(الرَّحمَنُ عَلَی العَرشِ السَتوَی
اور اس کا عرش ساتویں آسمان کے اوپر ہے)[5] ۔
4. 1948م میں مدرسہ سے مجھے انٹرمیڈیٹ کی سر ٹیفیکیٹ ملی ، اور ازہر بھیجی جانے والی ٹیم کے کمپٹیشن میں کامیاب ہوا، مگر اپنی صحت کے پیش نظر وہاں نہیں جاسکا اور شہر حلب کے دارالمعلمین میں داخل ہوگیا اور تقریباً 29/ سال تک تدریسی خدمات انجام دیتا رہا پھر تدریس ترک کردیا۔
5. تدریس سے مستعفی ہونے کے بعد1399ھ میں مکہ مکرمہ عمرہ کی ادائیگی کے لئے آیا اور سماحۃ / عبد العزیز بن باز سے متعارف ہوا، یہ جاننے کے بعد کہ میں عقیدتاً سلفی ہوں شیخ نے حرم مکی میں حج کے اوقات میں تدریس کے لئے میری تعیین فرمادی، اور جب حج کا موسم ختم ہوگیا تو دعوت و تبلیغ کے لئے مجھے اردن بھیج دیا، چنانچہ وہاں میں شہر “رمثا” کی صلاح الدین نامی جامع مسجد میں ٹھہرا، میں امامت و خطابت اور تدریس قرآن کے فرائض انجام دیتا رہا، اور ابتدائی مدارس کی زیارت بھی کرتا رہا اور طلبہ کی عقیدہ توھید کی رہنمائی کرتا رہا جسے وہ بحسن و خوبی قبول کرتے تھے۔
6. رمضان 1400ھ میں دوبارہ عمرہ کی غرض سے مکہ حاضر ہوا اور حج کے بعد تک وہاں تھہرا رہا، دارالحدیث الخیریۃ کے ایک طالب علم سے میرا تعارف ہوا ، وہاں مدرسین کی حاجت تھی(خصوصاً علوم حدیث کی تدریس کے لئے) اس نے مجھ سے انے یہاں تدریس کی پیش کش کی، میں نے ا س کے مدیر سے رابطہ قائم کیا، انہوں نے بھی اپنی رغبت ظاہر کی اور سماحۃ الشیخ عبد العزیزی بن باز۔ رحمہ اللہ ۔ سے آرڈر کروانے کا مطالبہ کیا، چنانچہ شیخ نے مدیر کو لکھا کہ بطور مدرس میری تقرری کرلیں، اس کے بعد میں مدرسہ میں آگیا اور بچوں کو تفسیر، توحید، قرآن وغیرہ پڑھانے لگا۔

میں نقشبندی تھا

بچپن ہی سے میں ذکر واذکار کی محفلوں اور مساجد کے دروس میں حاضر ہوتا تھا، طریقہ نقشبندیہ کے عالم نے مجھے دیکھا اور مسجد کے ایک گوشہ میں لے گیا اور نقشبندی طریقہ کے وظائف مجھے سکھانے لگا، مگر کم سنی کی وجہ سے مطلوبہ وظائف میں صحیح ڈھنگ سے ادانہ کرسکا البتہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ خانقاہ کی ان مجلسوں میں حاضر ہوتا تھا، اور ان کے اشعار وقصیدے سنتا تھا، ان اشعار میں جب شیخ کا نام آتا تو بہت زور سے آواز بلند کرتے، رات کے وقت یہ بھیانک آواز مجھے پریشان کرتی اور میرے لئے خوف و دہشت اور مرض کا سبب بنتی جب میں تھوڑا بڑا ہوا تو میرا ایک رشتہ دار مجھے محلّہ کی مسجد (خاتمہ) کی مجلس میں شرکت کے لئے لے جانے لگا، ہم حلقہ کی شکل میں بیٹھتے تھے، ایک شیخ ہمیں کنکریاں دیتا اور کہتا : (فاتحہ شریف، اخلاص شریف) پڑھو پس ہم فاتحہ ، اخلاص ، استغفار ، نبی ﷺ پر درود و سلام (جو ان کے یہاں مروج ہے) کنکریوں کی تعداد کے مطابق پڑھتے تھے، اس میں سے مجھے بعض چیزیں یاد ہیں: ” الّلھُمّ صَلّ عَلَی مُحَمّد عَدَدَالدّوَابِ”(اے اللہ تو محمدﷺ پر رحمت و سلامتی نازل فرما جانوروں کی تعداد کے برابر)، اسے وظائف میں بلند آواز سے کہتے تھے، اس کے بعد (خاتمہ) کی مجلس کا شیخ کہتا (رابطہ شریفہ) رکھو ، اس سے مقصود ہوتا کہ ذکر واذکار کے وقت شیخ کا بھی تصور کریں کیونکہ( ان کے گمان کے مطابق) شیخ انہیں اللہ کے ساتھ ملا دیتا ہے، تو وہ کچھ چیزیں خفیہ طور پر ہلکی آواز مٰں اور پھر بلند آواز میں کہتے، ان پر خشوع طاری ہوجاتا یہاں تک کہ میں نے بعض لوگوں کو جوش میں آکر کافی بلندی سے حاضرین پر چھلانگ لگاتا دیکھا، گویا وہ پہلوان ہے، ان کے اس تصرف اور شیخ طریقت کے ذکر کے وقت چیخنے پر میں حیران رہتا، ایک بار میں اپنے اس رشتہ دار کے گھر گیا، تو نقشبندی طریقہ کے پیروکاروں کے کچھ اشعار سنے وہ کہہ رہے تھے:

دُلَونِی بِاللہِ دُلّونِی عَلَی شَیخِ النَّصرِ دُلُّونِی
اللّی یُبرِی العَلِیل وَیشفِی المَجنُونَا !!


خدا کے واسطے میری رہنمائی کرو۔ شیخ النصر کی طرف میری رہنمائی کرو
جو مریضوں کو شفا دیتے ہیں۔ اور پاگلوں کو شفا اور عقل بخشتے ہیں!!

میں اندر نہیں گیا بلکہ دروازہ ہی پر کھڑا رہا، اور مکان مالک سے کہا:
کیا شیخ مریضوں اور پاگلوں کو شفا دیتے ہیں؟
انہوں نے کہا: جی ہاں۔
میں نے کہا: عیسیٰ بن مریم علیہ السلام جو رسول تھے اللہ نے انہیں مُردوں کو زندہ کرے اور مجذوم کو شفا دینے کا معجزہ عطا کیا تھا وہ بھی کہتے تھے” بِاذنِ اللہ” اللہ کے حکم سے۔
گھر کے مالک نے مجھ سے کہا: ہمارے شیخ بھی اللہ کے حکم سے ہی کرتے ہیں!
میں نے ان سے کہا: پھر آپ لوگ کیوں نہیں کہتے کہ اللہ کے حکم سے؟!
جبکہ شفا دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا:

وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ
(الشعراء:80)
( اور جب میں بیمار پڑ جاؤں تو مجھے شفا عطا فرماتا ہے)۔سلسلہ نقشبندیہ پر کچھ ملاحظات

1. یہ سلسلہ اپنے کچھ لطیف اور سرَی وظائف کی وجہ سے نمایاں حیثیت رکھتا ہے، ناچ گانے اور تالی وغیرہ بجانے سے بالکل پاک ہے جیسا کہ بہت سے دوسرے معروف سلسلوں میں پایا جاتا ہے۔
2. اذکار و وظائف کے لئے اجتماع ، سب کے لئے کنکریاں تقسیم کرنا، امیر مجلس کاتمہ کا انہیں ان چیزوں کے کرنے کا حکم دینا، کنکریوں کا پانی کے گلاس میں رکھ کر اس کا پانی پینا اور شفا کی امید لگانا یہ سب ایسی بدعات ہیں جن کی مشہور صحابی عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے تردید کی تھی، واقعہ اس طرح ہے کہ ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوئے تو ایک جماعت کو حلقہ کی شکل میں دیکھا ان کے ہاتھ میں کنکریاں تھیں ان میں ایک شخص کہتا : اس طرح تسبیح بیان کرو، اپنے ہاتھ کی کنکریوں کی تعداد کے مطابق ایسا کرو۔
تو عبد اللہ بن مسعود نے انہیں ڈانٹتے ہوئے فرمایا:” یہ تم کیا کر رہے ہو؟” لوگوں نے کہا: ابو عبد الرحمٰن یہ کنکریاں ہیں اس سے ہم تکبیر و تہلیل اور تسبیح بیان کرتے ہیں۔
فرمایا: اپنے گناہوں کو شمار کرو، میں ضمانت لیتا ہوں کہ تمہاری کوئی نیکی ضائع نہیں ہوگی، تمہاری بربادی ہو، اے امت محمدیہ! کتنی تمہاری تباہی آگئی؟ تمہارے نبی پاک کے صحابہ ابھی تمہارے درمیان کثرت سے موجود ہیں، اور یہ آپ کے کپڑے ابھی بوسیدہ نہیں ہوئے اور برتن بھی نہیں ٹوٹے ، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے کیا تمہارا طریقہ طریقہ محمدی سے افضل ہے کیا تم ضلالت و گمراہی کا دروازہ کھول رہے ہو؟!
اور یہ ایک صحیح منطقی مسئلہ ہے، کہ یا تو یہ لوگ رسول اکرمﷺ سے زیادہ ہدایت یافتہ تھے کیونکہ انہیں ایک ایسا عمل ملاجہاں تک نبی ﷺ کی معلومات نہ تھی، یا پھر گمراہی میں ہیں، اور احتمال اول قطعی طور پر باطل ہے کیونکہ نبی ﷺ سے افضل کوئی بھی نہیں ہے، لہذا دوسری صورت ہی لازم آتی ہے کہ وہ بدعت و گمراہی میں ہیں۔
3. رابطہ شریفہ: اس سے مقصود ہوتا تھا کہ ذکر واذکار کے دوران شیخ کی شکل اپنے تصور میں اس طرح رکھیں گویا انہیں دیکھ رہے ہیں ، اور وہ ان کی نگرانی کر رہے ہیں، اسی لئے آپ انہیں دیکھیں گے کہ وہ خشوع کا اظہار کرتے ہوئے ناپسندیدہ اور غیر واضح آواز میں چینختے ہیں، اصل میں یہی احسان کا درجہ ہے جو رسول اکرم ﷺ کے ارشاد گرامی سے واضح ہے: “ الِا حسَانُ أَن تَعبُدَ اللہَ کَأَنّکَ تَراہُ، فَان لَم تَکۃن تَرَاہ فَا نّہ یَرَاک“[6] ۔
(احسان یہ ہے کہ آپ اللہ کی اس طرح عبادت کریں گویا آپ اسے دیکھ رہے ہیں، اگر یہ تصور ہیں کرسکتے تو اتنا تو خیال ہی رکھیں کہ وہ آپ کو دیکھ رہا ہے)
اس حدیث میں رسول اللہﷺ ہماری رہنمائی کررہے ہیں کہ ہم اللہ کی عبادت اس طرح کریں گویا اسے دیھ رہے ہیں، اور اگر ہم اسے نہیں دیکھتے تو وہ ہمیں دیکھ رہا ہے ، یہ احسان کا درجہ صرف اللہ کے لئے ہے جسے ان لوگوں نے اپنے شیخ کو دے دیا ہے اور یہ شرک ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے، جیسا کہ ارشاد باری ہے: وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَيْـًٔا(النساء:36)
(اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو)۔
لہذا ذکر بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے اس میں کسی دوسرے کو شریک کرنا جائز نہیں ، خواہ کوئی فرشتہ ہو یا رسول اور مشایخ کا درجہ تو بہر حال ان سے کمتر ہے پھر انہیں شریک کرنا بدرجہ اولیٰ جائز نہیں! اور حقیقت یہ ہے کہ ذکر و اذکار میں شیخ کا تصور سلسلہ شاذلہ اور دیگر صوفیہ کے سلاسل میں پایا جاتا ہے جیسا کہ عنقریب آئے گا۔
4. شیخ کے ذکر کے وقت ان کا چینخنا یا غیر اللہ(مثلاً اہل بیت یا اولیاء اللہ) سے مدد طلب کرنا منکرات میں سے ہے بلکہ شرک ہے جس سے شریعت نے منع کیا ہے، تو جب اللہ کے ذکر کے وقت چینخنا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مخالف ہے ، ارشاد باری ہے: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ(الأنفال:2)
(بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں)۔
نیز رسول اکرمﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ ، وَلَا غَائِبًا ، اِنَّکُم تَدعُونَ سَمِیعاً قَرِیباً وَھُومَعَکُم [7] ۔
(اے لوگو! اپنے اوپر رحم کھاؤ، تم کسی بہرے اور غائب ذات کو نہیں پکار رہے ہو بلکہ ایسی ہستی کو پکار رہے ہو جو سننے والی اور قریب ہے اور وہ تمہارے ساتھ ہے)۔
تو معلوم ہوا کہ اولیاء کے ذکر کے وقت آواز بلند کرنا، خشوع پیدا کرنا اور رونا سخت ترین منکر ہے کیونکہ یہ اس طریقہ پر دلالت کرتا ہے جس کی اللہ نے مشرکین کے متعلق حکایت بیان کرتے ہوئے فرمایا: وَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اِذَا ذُكِرَ الَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ۠(الزمر:45)
(جب اللہ اکیلے کا ذکر کیا جائے تو ان لوگوں کے دل نفرت کرنے لگتے ہیں جو آخرت کا یقین نہیں رکھتے اور جب اس کے سوا اور کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل کھل کر خوش ہو جاتے ہیں)۔
5. سلسلہ نقشبدیہ میں شیخ کی شان میں غلو ہوتا ہے، ان کا اعتقاد ہے کہ وہ بیماروں کو شفا دیتے ہیں ، جبکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ابراہیم علیہ السلام کا قول ذکر کرتے ہوئے فرمایا: وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ(الشعراء:80)
( اور جب میں بیمار پڑ جاؤں تو مجھے شفا عطا فرماتا ہے)۔
اور اس مومن لڑکے کا واقعہ جو مریضوں کو دعا کرتا تھا پس اللہ تعالیٰ شفا دیتا تھا جب اس سے بادشاہ کے ہمنشین نے کہا: ” اگر تم نے مجھے شفا دیدی تو تمہارے لئے یہ سار امال ہوگا!” لڑکے نے جواب دیا: ” میں کسی کو شفا نہیں دیتا ہوں صرف اللہ شفا دیتا ہے اگر تم اللہ پر ایمان لے آؤ تو میں اللہ سے دعا کرتا ہوں وہ تمہیں شفا دے گا”۔
6. صرف لفظ(اللہ) سے ان کا ذکر کرنا اور اسے ہزار وں بار دہرانا یہی ان کا خاص وظیفہ ہے، جبکہ صرف لفظ (اللہ) سے ذکر کرنا نہ رسول اللہﷺ سے ثابت ہے اور نہ صحابہ و تابعین سے اور نہ ہی ائمہ مجتہدین سے ثابت ہے بلکہ یہ صوفیہ کی بدعت ہے کیونکہ لفظ(اللہ) مبتدا ہے، اس کے بعد خبر نہ آنے کی وجہ سے کلام ناقص رہ جاتا ہے، اگر کوئی آدمی (عمر ) کا نام باربار دہرائے ، تو ہم کہیں گے کہ تم عمر سے کیا چاہتے ہو؟ اور جواباً وہ (عمر۔عمر) ہی کہے تو ہم اسے پاگل کہیں گے، کچھ نہیں معلوم کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے؟
مفرد ذکر پر صوفیہ اللہ تعالیٰ کے فرمان(قُل اللہُ) سے دلیل پکڑتے ہیں، اگر یہ ماقبل کا کلام پڑھتے تو جانتے کہ اس کا مقصود: قُلِ اللہُ أنزِلَ الکِتابَ” ہے۔ آیت اس طرح ہے: وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖۤ اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَيْءٍ١ؕ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِيْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى۔۔۔ قُلِ اللّٰهُ١ۙ( الانعام:91) ۔
( اور ان لوگوں نے اللہ کی جیسی قدر کرنا واجب تھی ویسی قدر نہ کی جب کہ یوں کہہ دیا کہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز نازل نہیں کی، آپ یہ کہئے کہ وہ کتاب کس نے نازل کی ہے جس کو موسیٰ لائے تھے۔۔۔ اے نبی آپ بتادیجئے کہ : اللہ۔)
یعنی کہہ دیجئے کہ اللہ نے کتاب نازل فرمایا ہے۔

میں سلسلہ شاذلیہ کی طرف کیسے منتقل ہوا؟

سلسلہ شاذلیہ کے ایک شیخ سے میرا تعارف ہوا جو شکل و صورت اور اخلاقی حیثیت سے بہتر تھے انہوں نے میرے گھر آکر میری زیارت کی اور میں بھی ان کے گھر گیا، مجھے ان کے کلام کی لطافت ، ان کی گفتگو ، اخلاق اور نوازش پسند آئی اور میں نے ان سے مطالبہ کیا کہ سلسلہ شاذلیہ کے وظائف مجھے بھی سکھادیں، چنانچہ انہوں نے اس مذہب کے مخصوص وظائف مجھے بتلائے ، ان کی ایک خاص خانقاہ تھی جہاں بعض نوجوان اکھٹا ہوتے تھے، اور نماز جمعہ کے بعد ذکر واذکار کرتے تھے۔ ایک بار میں نے ان کے گھر پر ان سے ملاقات کی ، میں نے دیکھا طریقہ شاذلی کے بہت سارے مشایخ کی تصویریں دیوار پر لگی ہوئی ہیں میں نے انہیں تصاویر لٹکانے کی ممانعت یاد دلائی، تو حدیث کے واضح ہونے کے باوجود انہوں نے بات نہ مانی، حالانکہ یہ حدیث ان کو بھی معلوم تھی، اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: “ اِنّ البَیہتَ الّذِی فِیہ الصُّوَر لاتَد خُلُہ المَلائِکَتۃ[8] ۔
(بیشک وہ گھر جس میں تصویریں ہوتی ہیں اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے)۔
نیز آپ ﷺ کا ارشاد گرامی :” نَھَی رَسُول اللہِ ﷺ عَنِ الصُّورِ فِی البَیتِ وَنَھَی الرَّجُلَ أَن یَصنَعَ ذَلک“[9] ۔
(رسول اکرمﷺ نے گھر میں تصویریں رکھنے اور آدمی کو اسے بنانے سے منع کیا ہے)۔
تقریباً ایک سال بعد مجھے شیخ کی زیارت کی خواہش ہوئی ، جب میں عمرہ کی ادائیگی کے لئے سفر پر تھا، چنانچہ شیخ نے میرے لڑکے اور دوست کے ساتھ مجھے شام کے کھانے پر بلایا، کھانے سے فارغ ہونے کے بعد کہا: کیا تم ان نوجوانوں سے کچھ دینی اشعار سنو گے۔
میں نے کہا: جی ہاں!
انہوں نے پاس بیٹھے ہوئے نوجوانوں کو جن کے چہروں پر نورانی داڑھی تھی۔ شعر پڑھنے کا حکم دیا، سب نے ایک آواز ہو کر شعر پڑھنا شروع کیا جس کا خلاصہ یہ ہے:
(جس نے اللہ کی عبادت جنت کی آرزیا جہنم کے خوف سے کی تو اس نے بت کی پوجا کی)۔
میں نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ قرآن میں ایک آیت کے اندر انبیاء کی تعریف کرتے ہوئے فرماتا ہے: اِنَّهُمْ كَانُوْا يُسٰرِعُوْنَ فِي الْخَيْرٰتِ وَ يَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًا١ؕ وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِيْنَ(الانبیاء:90)
(یہ بزرگ لوگ نیک کاموں کی طرف جلدی کرتے تھے اور ہمیں لالچ طمع او ڈر خوف سے پکارتے تھے اور ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے)۔
شیخ نے مجھ سے کہا: یہ قصیدہ جسے یہ لوگ پڑھ رہے ہیں یہ میرے آقا عبد الغنی النابلسی کا ہے!
میں نے کہا: کیا شیخ کا کلام اللہ کے کلام سے فوقیت رکھتا ہے جبکہ وہ اللہ کے کلام کے مخالف بھی ہے؟!
تو اشعار پڑھنے والوں میں سے ایک شخص نے کہا: میرے آقا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو شخص اللہ کی عبادت جنت کی لالچ میں کرتا ہے وہ تاجر ہے۔ میں نے اس سے کہا: سیدنا علی کا یہ قول تمہیں کس کتاب میں ملا؟ اور کیا یہ صحیح ہے؟
پس وہ خاموش ہو گیا۔
میں نے اس سے کہا: کیا یہ بات عقل میں آتی ہے کہ علی رضی اللہ عنہ قرآن کی مخالف کریں گے حالانکہ وہ اللہ کے رسول کے صحابہ میں سے ہیں، اور جنت کی بشارت پانے والے لوگوں میں سے ہیں؟
پھر میں نے ان سے بات جاری رکھتے ہوئے اپنے دوست کی طرف متوجہ ہوکر کہا: اللہ تعالیٰ مومنوں کی صفات حمیدہ بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا(السجدۃ:16)
(ان کی گردنیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں اپنے رب کو خوف و امید کے ساتھ پکارتے ہیں)۔
لیکن وہ سب میرے جواب پر مطمئن نہیں ہوئے، میں نے بھی ان سے جدال ترک کر دیا اور اٹھ کر نماز کے لئے مسجد چلا گیا، ان میں سے ایک نوجوان میرے پیچھے آگیا، ان میں سے ایک نوجوان میرے پیچھے آگیا، اور مجھ سے کہنے لگا: ہم آپ کے ساتھ ہیں اور آپ ہی حق پر ہیں مگر ہم شیخ کی تردید میں بول نہیں سکتے۔
میں نے اس سے پوچھا : تم حق بات کیوں نہیں کہہ سکتے؟
اس نے کہا: اگر ہم بولیں گے تو وہ ہمیں رہائش گاہ سے نکال دیں گے۔
یہ صوفیاء کا ایک اصول ہے، کیونکہ تصوف کے مشایخ اپنے شاگردوں کو ہمیشہ یہ وصیت کرتے ہیں کہ شیخ کتنی بھی غلطی کرے اس پر اعتراض نہ کریں، ان کا بہت مشہور قول ہے:” وہ مرید کامیاب نہیں ہوسکتا جس نے اپنے شیخ سے کہا : کیوں!!؟”۔
وہ رسول اکرمﷺ کے اس ارشاد مبارک سے تجاہل برتتے ہیں ، آپ نے فرمایا: کُلُّ بَنی آدَمَ خَطَاء خَیرُ الخَطّائِینَ التَوَبُون“۔
(ہر انسان خطا کار ہے اور خطاکاروں میں سب سے بہترین توبہ کرنے والے ہیں)۔
امام مالک رضی اللہ عنہ کا قول ہے: “کُلُّ وَاحِد یُوخَذُ من قَولِہ وَیُرَدالا الرّسُولﷺ۔
(رسول اکرم ﷺ کے فرمان کے علاوہ ہر آدمی کاقول قبول بھی ہو سکتا ہےاور مردود بھی ہوسکتا ہے)۔

نبی ﷺ پر درود و سلام کی مجلس

ایک مرتبہ درود و سلام کی مجلس میں حاضر ہونے کے لئے بعض شیوخ کے ساتھ ایک مسجد میں گیا ہم ذکر و اذکار کے حلقہ میں داخل ہوئے ، دیکھا کہ وہ لوگ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ناچ رہے ہیں!! گرتے پڑتے ہیں، اٹھتے اور پھر جھکتے ہیں!! اور اللہ ، اللہ ۔۔۔۔۔ کہتے ہیں!
حلقہ سے ایک ایک آدمی نکل کر درمیان میں آتا ہے اور اپنے ہاتھ سے حاضرین کی طرف اشارہ کرتا ہے تاکہ حرکت و میلان میں نشاط پیدا کریں۔۔۔!! ہوتے ہوتے میری باری آتی ہے، صدر مجلس نے میری طرف نکلنے کا اشارہ کیا تاکہ میں ان کی حرکت و رقص میں اضافہ کروں ، مگر ایک شیخ جو ہمارے سارھ تھے انہوں نے معذرت کی اور کہا کہ : وہ کمزور ہے اس لئے اسے چھوڑ دو۔ کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ میں اس طرح کا کام نا پسند کرتا ہوں، اور صدر نے بھی مجھے بغیر حرکت کے ٹھہرا ہوا دیکھ کر چھوڑ دیا اور حلقہ کے درمیان نکلنے سے معاف کردیا۔
میں سریلی آوازوں میں قصائد سنتا رہا، مگر یہ شرکیات اور غیر اللہ سے مدد حاصل کرنے سے خالی نہ تھے! میں نے یہ بھی دیکھا کہ عورتیں اونچی جگہوں پر بیٹھی ہیں اور مردوں سے لطف اندوز ہو رہی ہیں ان میں سے ایک نوجوان لڑکی بے پردہ تھی اس کے بال پنڈلی ، ہاتھ اور گردن سب کھلے ہوئے تھے ، میں نے اپنے دل میں اسے بہت برا سمجھا اور مجلس کے اختتام پر صدر مجلس سے کہا: اوپر ایک لڑکی بے پردہ ہے، اگر آپ مسجد میں اسے دوسری عورتوں سے ساتھ پردہ کی نصیحت کرتےتو نیک کام ہوتا ۔
اس نے کہا: ہم عورتوں کو نصیحت نہیں کر سکتے اور نہ انہیں کچھ کہہ سکتے ہیں!
میں نے کہا: کیوں؟
اس نے کہا: اگر ہم ان کو نصیحت کریں گے تو پھر ذکر کی مجلسوں میں وہ حاضر ہی نہ ہوں گی!
میں نے اپنے دل میں “ لاحَولَ وَلا قُوّۃَ الا بِاللہِ” پڑھتے ہوئے کہا: یہ کون سا ذکر ہے جس میں عورتیں عریاں شریک ہوں اور انہیں کوئی نصیحت نہ کرے؟ کیا رسول اکرم ﷺ یہ پسند کرسکتے تھے جن کا فرمان ہے:” مَن رَأَی منکُم مُنکَراً فَلیُغَیرہُ بیَدِہ ، فَاِن لَم یَستَطِع فَبِلسَانِہ، فَاِن لَم یَستَطع فَبِقَلبِہ، وَذَلِکَ أَضعَف الایمَان“۔مسلم۔
(تم میں سے جو شخص منکر دیکھے اسے چاہئے کہ اپنے ہاتھ سے روک دے اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے منع کرے، ایسا نہ کرسکےتو دل سے برا سمجھے، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے)۔

سلسلہ قادریہ

سلسلہ قادریہ کے ایک شیخ نے ہمارے نحو وتفسیر کے استاذ کے ساتھ ہماری دعوت کی، ہم ان کے گھر گئے، شام کے کھانے سے فارغ ہونے کے بعد حاضرین کھڑے ہو کر ذکر واذکار اور اچھل کودکرنے لگے اور جھوم جھوم کر اللہ،اللہ کرنے لگے۔ میں ان کے ساتھ بغیر حرکت کھڑا تھا ، پھر کرسی پر بیٹھ گیا یہاں تک کہ پہلا چکر ختم ہوگیا، میں نے دیکھا کہ ان کے اوپر سے پسینہ بہہ رہا ہے، پسینہ صاف کرنے کے لئے ایک رومال لائے، چونکہ آدھی رات ہو چکی تھی اس لئے میں انہیں چھوڑ کر اپنے گھر چلا گیا، دوسرے دن حاضرین مجلس میں سے ایک شخص سے میری ملاقات ہوئی جو ہمارے ساتھ مدرس تھا۔
میں نے اس سے پوچھا: تم لوگ اپنی ھالت پر کب تک جمے رہے؟
اس نے جواب دیا: رات دو بجے تک وہاں رہے، پھر اپنے گھر سونے چلے گئے۔
میں نے کہا: نماز فجر کب ادا کی؟
اس نے کہا: ہم وقت پر نہیں ادا کر سکے، بلکہ فوت ہو گئی!!
میں نے اپنے جی میں کہا اس ذکر کے بھی کیا کہنے ہیں جس میں نماز ضائع ہو جائے، مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول یاد آیا جو اللہ کے رسول ﷺ کی صفت بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں:” کَانَ یَنَام أوَّلَ اللّیل وَیُحییِ آخِرَہ” ۔بخاری ، مسلم۔
(آپ ﷺ اول رات میں سوتے تھے اور آخری حصہ میں شب بیداری کرتے )۔
اور یہ صوفیاء حضرات اس کے برخلاف رات کے اول حصہ میں بدعات اور ناچ گانے کے ساتھ شب بیداری کرتے ہیں اور آخری حصہ میں سوکر نماز ضائع کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشا د ہے: فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ، الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ(الماعون:4-5(
(ان نمازیوں کے لئے افسوس اور ویل ہے جو اپنی نماز سے غافل ہیں)۔
یعنی اس کے وقت سے موخر کرتے ہیں۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:” رَکَعتَا الفَجرِ خَیر مِنَ الدُّنیَا وَمَا فیھَا” ترمذی۔
(فجر کی دو رکعتیں دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے افضل ہیں)۔

ذکر میں تالی بجانا

میں ایک مسجد میں تھا جس میں نماز جمعہ کے بعد ذکر ک محفل شروع ہوئی، میں بیٹھ کرانہیں دیکھنے لگا، ان کا جوش اور مستی بڑھانے کے لئے ایک آدمی تالیان بچانے لگا، میں نے اس کی طرف اشارہ کیا کہ یہ حرام ہے مگر اس نے تالی بچانا بند نہیں کیا، جب وہ فارغ ہوگیا تو میں نے اسے پھر نصیحت کی مگر اس نے قبول نہیں کی، ایک مدت بعد پھر میں نے اس سے ملاقات کی اور اسے بتایا کہ تالی بجانا مشکرین کا کام ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ان کے متعلق فرماتا ہے: وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَيْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِيَةً١ؕ(الأنفال:35)
(اور ان کی نماز کعبہ کے پاس صرف یہ تھی سیٹیاں بجانا اور تالیاں بجانا)۔
المکاء: سیٹی بجانا۔
التصدیۃ: تالی بجانا۔
اس نے مجھے جواب دیا کہ فلان شیخ نے اسے جائز قرار دیا ہے!
میں نے اپنے دل میں کہا کہ: ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا یہ قول صادق آتا ہے:
اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ١ۚ(التوبۃ:31)
(ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنایا ہےاور مریم کے بیٹے مسیح کو )۔
چنانچہ جب عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے جو اسلام لانے سے قبل نصرانی تھے یہ آیت سنی تو کہا اے اللہ کے رسول: ہم تو ان کی عبادت نہیں کرتے !
تو نبیﷺ نے فرمایا:”ألَیسَ یُحِلّون لَکُّم مَاحَرّم اللہُ فَتُحلّو نَہ وَیُحَرّمُون مَاأحَلّ اللہُ فَتُحَرّ مُونَہ؟ قَالَ بَلَی ، قَالَ النّبِی ﷺ فَتلکَ عبَادَتھُم“۔ ترمذی، بیھقی
(کیا ایسی بات نہیں تھی کہ وہ اللہ کی حرام کردہ چیزیں تمہارے لئے حلال کر دیتے تھے پس تم انہیں حلال مان لیتے تھے، اور اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزیں حرام کہہ دیتے تو تم انہیں حرام مان لیتے تھے؟ کہا: ہاں ضرور ایسا ہوتا تھا۔ آپﷺ نے فرمایا: یہی ان کی عبادت ہے)۔
ایک بار ایک دوسری مسجد میں ذکر میں حاضر ہوا، شعر پڑھنے والا دوران ذکر تالیاں بجاتا تھا، فارغ ہونے کےبعد میں نے اس سے کہا: تمہاری آواز بڑی پیاری ہے، مگر یہ تالی بجانا حرام ہے۔
اس نے کہا: گانے کے نغمے بغیر تالی کے جَمتے ہی نہیں ہیں! اور اس سے پہلے ایک بڑے شیخ نے مجھے دیکھا مگر انہوں نے کوئی اعتراض نہیں کیا!
اس ذکر کے اندر حاضرین کو دیکھا گیا کہ وہ اللہ کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں اور اس طرح کہتے ہیں: (اللہ۔ آہ۔ ھِی۔ ھُو۔ یَاھُو!) اس قسم کی تبدیلی اور تحریف حرام ہے جس پر قیامت کے دوز ان کا محاسبہ ہوگا۔

لوہے کی سلاخوں سے کھیلنا

ہمارے گھر سے قریب ہی صوفیاء کی ایک کانقاہ تھی، میں ان کا ذکر و اذکار دیکھنے وہاں گیا، عشاء کے بعد اشعار پڑھنے والے آئے، سب داڑھی منڈائے ہوئے تھے اور ایک آواز ہوکر کہنے لگے:

ھَات کَاسَ الرّاح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وَاسقنَا الأَقَدَاح
شراب کا پیالہ لاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ہمیں جام پلاؤ

یہ شعر باربار دہراتے ہوئے لچک رہے تھے، ان کا صدر اکیلے یہ شعر دہراتا پھر اس کے پیچھے دوسرے لوگ دہراتے جو گانے بجانے والی جماعتوں کے بالکل مشابہ تھے! مسجد جو نماز اور قرآن کے لئے بنی ہے اس میں شراب کا ذکر کرتے ہوئے ذرا بھی نہیں شرماتے نہ تھے، کیونکہ اس شعر میں” الراح” کے معنی شراب کے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں اور نبیﷺ نے حدیث پاک میں شراب حرام قرار دی ہے، پھر زور زور سے دف بجنے لگے، ان میں سے ایک بوڑھا آدمی آگے بڑھا اور اپنی قمیص نکال کر زور زور سے چینخنے لگا(یاجدّاہ۔ اے میرے دادا)! اس کا مقصود اپنے گزرے ہوئے آباء واجداد میں سے کسی کے ذریعہ فریاد کرنا تھا جو رفاعی سلسلہ کا پیرو کار رہا ہو، کیونکہ یہ عمل ان کے یہاں مشہور ہے! پھر لوہے کی ایک سنحیچی لیکر اپنی کمر کے چمڑے میں داخل کرلیا، اور “ہائے دادا” کی چیخ لگا تارہا، پھر دوسرا شیخ جو فوجی لباس پہنے ہوئے تھاآیا، داڑھی منڈائے ہوئے تھا، شیشہ کا ایک گلاس لیکر اپنے دانتوں سے چبانے لگا!
میں نے اپنے جی میں کہا: یہ اگر واقعی فوجی ہے تو اپنے دانتوں سے گلاس توڑنے کے بجائے یہودیوں سے جاکر کیوں لڑائی نہیں کرتا، یہ 1967 کا واقعہ ہے جب یہود سرزمین عرب کے اکثر حصہ پر قبصہ کئے ہوئے تھے اور عرب فوج شکست خوردہ ہوکر پیچھے ہٹ آئی تھی اور لڑائی ناکام ہوچکی تھی یہ فوجی انہیں میں سے تھا مر کچھ نہیں کرسکا۔

ان تمام کاموں پر چند باتیں غور طلب ہیں جو درج ذیل ہیں:

1. بعض لوگ اس کام کو کرامت سمجھتے ہیں، وہ نہیں جانتے کہ یہ شیطانوں کا کام ہے جو ان کے ارد گرد اکھٹا ہو کر گمراہی پر ان کی مدد کرتے ہیں! کیونکہ ان لوگوں نے اپنے باپ دادا سے فریاد کرکے اللہ کے ذکر سے اعراض اور اس کے ساتھ شرک کیا، جیسا کہ ارشاد باری ہے: وَ مَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَيِّضْ لَهٗ شَيْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيْنٌ،وَ اِنَّهُمْ لَيَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِيْلِ وَ يَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ(الزخرف:36۔37)
(اور جو شخص رحمٰن کی یاد سے غفلت کرے ہم اس پر ایک شیطان مقرر کر دیتے ہیں وہی اس کا ساتھی رہتا ہے، اور وہ انہیں راہ سے روکتے ہیں اور یہ اسی خیال میں رہتے ہیں کہ یہ ہدایت یافتہ ہیں)۔
اللہ تعالیٰ ان کے لئے شیطانوں کو مسخر کردیتا ہے تاکہ انہیں مزید گمراہ کریں، ارشاد باری ہے:
قُلْ مَنْ كَانَ فِي الضَّلٰلَةِ فَلْيَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا١ۚ۬(مریم:75)
(کہہ دیجئے کہ جو گمراہی میں ہوتا ہے رحمٰن اس کو خوب لمبی مہلت دیتا ہے)۔
2. اس میں کوئی تعجب نہیں کہ شیطان ان کی مدد کرتا ہے اور انہیں یہ قدرت حاصل ہو جاتی ، کیونکہ سلیمان علیہ السلام نے اپنے بعض لشکریوں کو ملکہ بلقیس کا تخت لانے کا حکم دیا تھا قَالَ عِفْرِيْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِيْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ١ۚ(النمل:39)
(ایک قوی ہیکل جن کہنے لگا آپ اپنی اس مجلس سے اٹھیں اس سے پہلے ہی پہلے میں اسے آپ کے پاس لادیتا ہوں)۔
اور جن لوگوں نے ہندوستان کا سفر کیا ہے مثلاً ابن بطوطہ وغیرہ انہوں نے مجوس کے یہاں اس سے بھی بڑھ کر چیزیں دیکھی ہیں!
3. یہاں معاملہ کرامت اور ولایت کا نہیں ہے، بلکہ لوہے کے چھڑیوں سے کھیلنا شیا طین کا کام ہے جو گانے اور موسیقی وغیرہ کے پاس موجود ہوتے ہیں جو کہ شیطان کی بانسری ہے، اور اکثر و بیشتر اس طرح کا کام کرنے والے لوگ اللہ کی نافرمانی کےمرتکب ہوتے ہیں، بلکہ کھلم کھلا اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں، تویہ اولیاء اور اصحاب کرامات کیسے ہو ں گے؟! جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِيَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ،الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا يَتَّقُوْنَ(یونس:62۔63)
(یاد رکھو اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور برائیوں سے پرہیز رکھتے ہیں)۔
تو ولی وہ پرہیز گار مومن ہے جو شرک و معاصی سے دور رہتا ہے اور خوشحالی و سختی ہر حالت میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتا ہے، کبھی اس کے پاس کرامت آٹومیٹک بغیر مانگے اور بغیر لوگوں کے سامنے اس کا اظہار کئے آجاتی ہے۔
4. شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اس قسم کے لوگوں کے کرتوتوں کے متعلق ذکر کرتے ہوئے کہا ہے: تلاوت قرآن اور نماز کے وقت یہ افعال ان سے سرزد نہیں ہوتے، کیونکہ یہ ایمانی و شرعی عبادات ہیں جو رسول اکرمﷺ کی سنت کے مطابق ہیں اور شیطانوں کو دور بھگاتی ہیں ۔۔۔۔ اور ان کی عبادتیں شرک وبدعت پر قائم ہیں ، شیطانی و فلسفی طرز پر ہیں وہ شیطانوں کو جمع کرتی ہیں۔
5. ان شعبدہ بازوں سے جو لوہے کے چھڑوں سے خود کو ماررہے تھے ایک سلفی آدمی نے مطالبہ کیا کہ اپنی آنکھ میں ایک(پن) سوئی داخل کرلے، تو وہ ڈر کے مارے ہمت نہ کرسکا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اپنے چمڑوں میں لوہےکی جو سلاخ داخل کر رہے تھے وہ کوئی مخصوص سلاخ ہوتی ہے، اور وہ لوگ جو اس قسم کا کام کرتے تھے پھر توبہ کرنے کے بعد س خون کی حقیقت بیان کی جس کے بعد میں جاکر دھولیتے تھے۔
6. ایک سچے مسلمان نے مجھ سے بیان کیا جس نے اپنی آنکھوں سے ایک فوجی کو لوہے کی سلاخ سے مارتے ہوئے دیکھا تھا، اور سلاخ کی جگہ سے خون بہہ رہا تھا، جب اسے اسکے کمانڈر کے پاس لے گئے اس نے کہا کہ: ہم تمہارے پیر پر بارود سے مارتے ہیں اگر تم سچے ہو تو صبر کرو اور برداشت کرکے دکھاؤ، مگر جب اس پر چوٹ نے اثر کیا تو رونے ، چلانے اور واویلا کرنے لگا، اور دہائی دینے لگا، چوٹ برداشت نہ کرسکا، دوسرے فوجی اس پر ہنسنے اور اس کا مذاق اڑانے لگے!!

خلاصہ

لوہے کی سلاخوں سے مارنانہ رسول اکرم ﷺ سے ثابت ہے اور نہ ہی صحابہ و تابعین اور ائمہ مجتہدین سے، اگر اس میں بھلائی ہوتی تو وہ ہم سے سبقت لے جاتے، یہ بعد کے بدعتیوں کی ایجاد ہے جو شیطانوں سے مدد طلب کرتے اور اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں، حالانکہ رسول اکرم ﷺ نے ہمیں اس طرح کی بدعت سے ڈرایا ہے جیسا کہ ارشاد گرامی ہے:”اِیّاکُم وَمُحدَثَاتِ الأُمُور، فَاِنّ کُل مُحدَثَۃ بِدعَۃ، وَکلّ بِدعَۃ ضَلَالَۃ وَکُلّ ضَلَالَۃ فِی النّارِ”۔
(نئی چیزوں سے بچو کیونکہ ہر نئی چیز بدعت ہے ، اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے)۔
ان بدعتیوں کے کارنامے رسول اکرمﷺ کے فرمان کے ذریعہ مردود ہیں، آپﷺ نے فرمایا:” مَن عَمِلَ عَمَلاً لَیسَ عَلَیہ أَمرُنَافَھُورَدّ” مسلم۔
(جس نے کوئی ایسا کام کیا جو ہمارے طریقہ پر نہیں تو وہ مردود ہے)۔
یہ بدعتی حضرات مُردوں اور شیطانوں سے مدد طلب کرتے ہیں، حالانکہ یہ شرک ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں ڈرایا ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: اِنَّهٗ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ(المائدۃ:72)
(یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے، اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے اور گنہگاروں کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا)۔
نیز نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:” مَن مَاتَ وَھُوَ یَد عُومِن دُون اللہ نِداً دَخَلَ النّار” بخاری۔
(جس کی موت اس حالت میں ہوئی کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا تھا وہ جہنم میں داخل ہوگا)۔
ند کے معنی: ہمسر اور شریک ۔
ان پر اعتقاد رکھنے والا یا ان کی مدد کرنے والا ہر شخص انہیں میں سے ہے۔

سلسلہ مولویہ

ہمارے شہر میں سلسلہ مولویہ کی ایک مخصوص خانقاہ تھی، یہ ایک بڑی مسجد تھی جس میں نمازیں ادا کی جاتی تھی، اس مسجد میں بہت سارے مردے دفنائے ہوئے تھے، اس پر چہار دیواری بنی ہوئی تھی، قبروں پر خوبصورت پتھروں ے قبے بنائے ہوئے تھے، جس پر قرآنی آیتین، مُردے کا نام اور اشعار لکھے ہوئے تھے، اور یہ لوگ ہر جمعہ یاد یگر مناسبات پر” مجلس” منعقد کرتے تھے، اور اپنے سروں پر خاکی رنگ کی اونی ٹوپی پہنتے ، اور ذکر کے وقت بانسری اور بعض دوسرے موسیقی کے آلات بجاتے جس کی آواز دور سے سنائی دیتی، میں نے دیکھا کہ ایک شخص حلقہ کے درمیان کھڑا ہوا ہے، وہ اس جگہ سے بغیر حرکت کئے ناچ رہا ہے، اور میں نے دیکھا کہ اپنے شیخ جلال الدین وغیرہ سے مدد طلب کرتے وقت اپنے سروں کو جھکاتے ہیں۔
1. امر تعجب یہ ہے کہ بہت سارے مسلم ممالک میں یہود ونصاری کی طرح مسجدوں میں مردوں کو دفناتے ہیں اور یہ مسجد بھی انہی میں سے ایک تھی، چنانچہ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فعرمایا:” لَعَنَ اللہُ الیَھُودَوَالنّصَارَی اتّخَذُوا قُبُورَأَ نبِیَائِھم مَسَاجدیُحَذّرُمَاصَنَعُو ا“بخاری۔
(اللہ تعالیٰ یہود ونصاریٰ پر لعنت کرے جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجد بنالیا، آپ ان کے کردار سے لوگوں کو ڈرارہے تھے)۔
قبروں کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے سے نبی اکرمﷺ نے منع فرمایا، جیسا کہ ارشاد گرامی ہے:” لا تَجلِسُوا عَلَی القُبُور، وَلاتُصَلُّوااِلَیھَا” مسلم، احمد۔
(قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ ہی اس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھو)۔
اور قبروں پر تعمیری کام مثلاً تاریخی یاد گار، قبے اور دیوار وغیرہ قائم کرکے اس پر لکھنا، اسے چونا کاری کرنا تو اس کے متعلق نبی اکرم ﷺ کا فرمان سنئے:
“نَھَی أَن یُجَصّص القَبر، وَأَن یُبنَی عَلَیہِ” مسلم۔
(آپ ﷺ نے قبروں کو پختہ کرنے اور اس پر تعمیر کرنے سے منع فرمایا ہے)۔
ایک دوسری روایت میں ہے :” نَھَی أَن یُکَتب عَلَی القَبر شَیء” ترمذی۔
(آپﷺ نے قبرپر کچھ بھی لکھنے سے منع فرمایاہے)۔
یجصص کے معنی: چونا یا پینٹ وغیرہ سے لیپ کرنا۔
2. البتہ مسجدوں میں ذکر واذکار کے وقت آلات موسیقی کا استعمال تو یہ متأخرین صوفیہ کی بدعت ہے، جبکہ رسول اکرمﷺ نے موسیقی حرام قراردی ہے، ارشاد فرمایا:” ليكوننّ من أمتي قوم يستحلون الحر والحرير والخمر والمعازف“۔
(میری امت میں ایسی قومیں ہوں گی جو شرمگاہ(زنا کاری)، ریشم ، شراب اور گانے بچانے کے آلات حلال کرلیں گی)۔
عید ے دن یا نکاح کے موقع پر عورتوں کے لئے دف بجانا آلات موسیقی سے مستثنی ہے۔
3. یہ لوگ مسجدوں میں بانسری کے ساتھ ذکر قائم کرنے کے لئے ادھر اُدھر جایا کرتے ، شب بیداری کرتے ،اور محلّہ والے بدترین سارنگیوں کی آواز سنتے ۔
4. ان میں سے ایک شخص کو میں پہنچانتا تھا یہ اپنے لڑکے کو ہیٹ پہنا تا تھا جسے کفار پہنتے ہیں، میں نے اسے چپکے سے لیکر پھاڑدیا، ہیٹ پھاڑنے کی وجہ سے صوفی مجھ سے ناراض ہوگیا اور مجھے ڈانٹا۔
میں نے اس سے کہا کہ تمہارے لڑکے کے اس طرح کا لباس پہننے پر جو کفار پہنتے ہیں مجھے غیر ت آگئی بہر حال میں نے اس سے معذرت کی، وہ اپنی آفس میں ایک تختی لگائے ہوئے تھا جس پر لکھا تھا(اے حضرت مولانا جلال الدین)۔
میں نے اس سے پوچھا: تم اس شیخ کو کیسے پکارتے ہو جو نہ سنتے ہیں اور نہ تمہارا جواب دے سکتے ہیں؟ وہ میری بات سن کر کاموش ہی رہا۔
یہ سلسلہ مولویہ کا خلاصہ ہے۔

ایک صوفی شیخ کا عجیب و غریب درس

ایک مرتبہ کسی شیخ کے ساتھ ایک مسجد کے درس میں حاضرہوا اس میں بہت سارے اساتذہ و مشائخ حاضر تھے، وہ ابن عجیبہ کی کتاب (الحِکم) پڑھ رہے تھے ، درس کا موضوع ” صوفیہ کے نزدیک نفس کی تربیت” کے متعلق تھا ایک شخص نے کتاب مذکور میں سے یہ عجیب و غریب قصہ پڑھا:
(ایک صوفی حمام میں غسل کے لئے داخل ہوا جب یہ صوفی باتھ روم سے نکلا تو وہ رومال جو باتھ روم کے مالک نے غسل کرنے والے کو بدن پوچھنے کے لئے دیا تھا چوری کرلیا، لیکن اس کا ایک کنارہ ظاہر رہنے دیا تاکہ لوگ اسے دیکھ کر ڈانٹیں اور برا بھلا کہیں، تاکہ اس سے اس کے نفس کی تذلیل ہو اور صوفیہ کے طریقہ پر اس کی تربیت ہو، اور واقعی وہ صوفی باتھ روم سے اسی طرح نکلا، باتھ روم کا مالک اس کے پاس پہنچا اور رومال کا کنارہ اس کے کپڑے کے نیچے دیکھ کر اسے ڈانٹا اور برا بھلا کہا، سارے لوگ سن رہے تھے اور اس صوفی شیخ کو دیکھ رہے تھے جس نے باتھ روم سے رومال چوری کیا تھا ، لوگ اس پرپل پڑے گالی گلوج دینے لگے اور وہ سب کچھ اس کے ساتھ کیا جو چور کے ساتھ کرتے ہیں، اس طرح اس صوفی آدمی کے متعلق غلط تصور لوگوں نے اپنے دل میں بٹھالیا۔
ایک دوسرے صوفی نے اپنے نفس کی تربیت اور تذلیل کرنا چاہی ، تواپنی گردن میں اخروٹ سے بھرا ہوا ایک تھیلا باندھا ، اور بازار کی طرف نکلا، جب بھی اس کے پاس سے کوئی بچہ گزرتا اس سے کہتا:” میرے چہرے پر تھوکو تمہیں اخروٹ دوں گا”۔ بچہ شیخ کے چہرے پر تھوکتا اور وہ اسے ایک اخروٹ دیتا ، اس طرح اخروٹ کی لالچ میں بچوں کا شیخ کے چہرے پر تھوکنا جاری رہا، اور صوفی شیخ خوش تھا۔
یہ قصے سن کر قریب تھا کہ میں غصہ سے پھٹ پڑتا، اور اس فاسد تربیت سے میرا سینہ تنگ ہوگیا مذہب اسلام جس نے انسان کو عزت بخشی ہے اس طرح کے کاموں سے براءت کا اظہار کرتا ہے۔ ارشاد باری ہے: وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ۔۔۔۔۔۔ (الاسراء:70)
(یقیناً ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی اور انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں)۔
نکلنے کے بعد میں نے اپنے ساتھ کے شیخ سے کہا: تربیت نفس کا یہی صوفی طریقہ ہے! کیا نفس کی تربیت حرام طریقہ پر چوری کرنے سے ہوسکتی ہے جس پر شریعت نے چور کا ہاتھ کا ٹنے کا حکم دیا ہے؟ یا یہ کہ نفس کی تربیت تذلیل اور اعمال خسیسہ کے ارتکاب سے ہوسکتی ہے؟ اسلام اس عمل کا بالکل منکر ہے، اور عقل سلیم بھی اس کی منکر ہے جس کے ذریعہ اللہ نے انسان کو فضیلت بخشی ، اور کیا یہی وہ حکمتیں ہیں جن کی وجہ سے شیخ نے اپنی کتاب کا نام (الحِکم لابن عجیبہ) رکھا!! یہ بات قابل ذکر ہے کہ وہ شیخ جو درس کی صدارت کر رہے تھے ان کے بہت سارے شاگرد اور پیرو کار تھے، ایک مرتبہ شیخ نے اعلان کیا کہ وہ حج کا ارادہ کررہے ہیں، ان کے بہت سارے شاگرد ان کے پاس اپنا نام لکھوانے گئے تاکہ حج میں ان کی رفاقت رہے، یہاں تک کہ عورتوں نے بھی اپنا نام لکھوایا، بلکہ بسا اوقات بعض کو اس کے لئے اپنے زیورات بھی بیچنے کی ضرورت پڑی ، اس طرح خواہشمند وں کی بہت بڑی تعداد ہوگئی، اور شیخ کے پاس بہت سارا مال اکھٹا ہوگیا، پھر دوبارہ شیخ نے حج کی عدم استطاعت کا اعلان کیا، مگر کسی کا بھی مال واپس نہیں لوٹایا، بلکہ حرام طریقہ پر کھاگئے!! اللہ رب العزت کا فرمان ان پر صادق آیا: يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّهْبَانِ لَيَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ١ؕ۔۔۔۔۔(التوبۃ:34)
(اے ایمان والو! اکثر علماء اور عابد لوگوں کا مال ناحق کھا جاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روک دیتے ہیں)۔
میں نے ان کے بعض پیروکاروں سے جو سرمایہ دار تھے اور شیخ کے ساتھ معاملات کرچکے تھے شیخ کے متعلق کہتے ہوئے سنا:” سب سے بڑا دجال اور عظیم حیلہ ساز ہے”!!

صوفیہ کے یہاں مسجدوں کا ذکر

1. محلّہ کی مسجد میں جہاں میری رہائش تھی ایک بار صوفیہ کی مجلسِ ذکر میں حاضر ہونے کا موقع ملا، دوران ذکر حلقہ میں جہاں محلّہ والے اکھٹا تھے ایک کوش گلو آدمی اشعار وقصائد پڑھنے کے لئے آیا، اس صوفی سے جو قصیدہ میں نے سنا اس کی ایک بات مجھے یاد ہے، وہ کہہ رہا تھا:” اے غیب جاننےو الو!! ہماری مدد کرو، ہمیں بچاؤ، ہماری مدد کرو وغیرہ۔۔۔۔ حالانکہ مردوں سے حاجات طلب کرنا اللہ کا کفر ہے، اگر وہ سنیں بھی تو ان کی پکار قبول نہیں کرسکتے خود اپنے لئے نفع کے مالک نہیں چہ جائیکہ دوسروں کے لئے، قرآن کریم نے انہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: وَ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا يَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِيْرٍ،اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا يَسْمَعُوْا دُعَآءَكُمْ١ۚ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ١ؕ وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ١ؕ وَ لَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيْرٍ(فاطر:13۔14)
(جنہیں تم اس کے سوا پکار رہے ہو وہ تو کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کےبھی مالک نہیں، اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار سنتے ہی نہیں اور اگر بالفرض سن بھی لیں تو فریاد رسی نہیں کریں گے بلکہ قیامت کے دن تمہارے اس شرک کا صاف انکار کرجائیں گے، آپ کو کوئی بھی حق تعالیٰ جیسا خبردار خبریں نہ دیگا)۔
ذکر سے فارغ ہونے اور وہاں سے نکلنے کے بعد میں نے شیخ سے جو امام مسجد تھے اور اس محفل میں شریک تھے کہا: اس ذکر کو ذکر نہیں کہہ سکتے، کیونکہ میں نے اس میں اللہ کا کوئی ذکر نہیں سنا اور نہ ہی اللہ سے حاجت روائی اور کوئی دعا سنی، بلکہ میں نے تو مُردوں سے جو موجود نہیں دعا و پکار سنی، اور رجال غیب کون ہیں جو ہماری مدد کرسکتے ہیں اور مصیبتوں سے نجات دے سکتے ہیں۔ اس پر شیخ خاموش رہ گئے!
ان پر سب سے بڑا رد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: وَ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ۠ نَصْرَكُمْ وَ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ(الأعراف:197)
(اور تم جن لوگوں کی اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو وہ تمہاری کچھ مدد نہیں کرسکتے ارو نہ وہ اپنی مدد کرسکتے ہیں)۔
2. دوسری مرتبہ ایک دوسری مسجد میں گیا جس میں نمازیوں کی بہت بڑی تعداد تھی، مسجد میں ایک صوفی شیخ تھے جن کے پیرو کار بھی تھے، نماز کے بعد ذکر کے لئے کھڑے ہوئے ،د وران ذکر یہ لوگ نا چ کود کرنے لگے اور یہ کہتے ہوئے چیخنے لگے (اللہ۔ آہ۔ھی۔۔۔۔!!) ایک شعر پڑھنے والا شیخ سے قریب ہوا ، اور ان کے سامنے ناچنے اور تھرکنے لگا گویا گانے یا ناچنے والا ہے، وہ اپنے شیخ کے حسن کی تعریف میں اشعار پڑھ رہا تھا، اور شیخ خوشی سے مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہے تھے۔۔۔!!

صوفیہ کا لوگوں کے ساتھ برتاؤ

1. میں نے مذکورہ صوفی شیخ کے ایک شاگرد سے حانوت (دوکان) خریدی ، اور ان سے یہ شرط رکھی کہ کرایہ دار کے کرایہ کی ادائیگی پر ضمانت لے لیں اس پر وہ راضی ہو گئے، ایک وقفہ کے بعد کرایہ دار نے کرایہ روک لیا، سابق مالک جس سے میں نے خریدا تھا اس کی طرف رجوع کیا ، مگر اس نے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ اس کے پاس ادائیگی کے لئے کچھ نہیں ہے، تھوڑے دنوں بعد یہ صوفی اپنے شیخ کے ساتھ حج کے لئے چلا گیا، جس پر مجھے بہت تعجب ہوا، اور اس کا جھوٹ مجھ پر کھل گیا، پھر میں نے اپنی آپ بیتی اور جو دھوکہ میرے ساتھ اس آدمی نے کیا تھا شیخ کے بعض قریبی شاگردوں سے بیان کیا۔ مگر اس نے بھی کچھ نہیں کیا، بلکہ جواب دیا: ہم اس کا کیا کریں؟ اگر وہ منصف ہوتا تو اسے بلاتا اور لوگوں کے حقوق کی ادائیگی کا اس سے مطالبہ کرتا۔
میں اس ضامن کے مکان کا چکر لگاتارہتا تھا، ا س کے پاس بننے کا کارکانہ تھا، شیخ کے ایک شاگرد نے مجھے دیکھ لیا جو اشعار پڑھا کرتا تھا اور ناچتے ہوئے شیخ کے سامنے تھرکتا تھا، اس نے سمجھ لیا کہ میں اس کے ساتھی کی تلاش میں ہوں ، میں نے اس سے اس کا پتہ معلوم کیا ، اور اس کا کرتوت ذکر کیا، تو مجھ سء انصاف کی بات کرنے کے بجائے الٹا مجھے گالیاں دینے لگا، میں اسے چھوڑ کر چلا آیا اور دل مٰں کہا یہی صوفیہ کے اخلاق ہیں۔ جس سے نبی اکرمﷺ نے ہمیں ڈرایا ہے:” أربَع مَن کُنّ فِیہِ کَانَ مُنَافِقاً خَالِصاً، وَمَن کَانَت فِیہِ خصلَۃ مِنھُنّ کَانَت فِیہِ خَصلَۃ مِنَ النّفَاق حَتّی یَدَعھَا: اِذَا حَدّثَ کَذَبَ، وَاِذَاوَ عَدَأَخلَفَ وَاِذَاعَاھَدغَدَرَوَاِذَ ا خَاصَمَ فَجَرَ” بخاری، مسلم۔
(چار صفات جس کے اند رپائی جائیں وہ پکّا منافق ہے، اور جس میں ان میں سے ایک صفت ہوگی اس کے اندر نفاق کی ایک خصلت ہوگی یہاں تک کہ اسےچھوڑ دے: (1) بات کرے تو جھوٹ بولے، (2) وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے،(3) عہدو پیمان کرے تو بدعہدی کرے(4) لڑائی جھگڑا کرے تو گالی گلوج بکے)۔

Islamic Sahaafat or Western Journalism

مسلم صحافت کی تاریخ پونے دو سوسال پرانی ہے، اس طویل عرصے میں اپنی تمام تر جد و جہد اور صحافتی تقاضوں کی تکمیل کے باوجود اسے کبھی بھی وہ عروج حاصل نہیں ہوسکا جو دوسری قوموں کی صحافت کا مقدر ٹھہرا- ان پونے دو سوسالوں میں ذرائع ابلاغ کا دائرہٴ کار وسیع تر ہوتا گیا، لیکن مسلم صحافت غیرمنقسم ہندوستان سے مسلم سماج اور اس کے بعد مسلمانوں کے مذہبی یا اردو پسند حلقوں میں سمٹتی چلی گئی- ان گزرے ہوئے سالوں میں کبھی کسی تحریک یا جذبے کے زیر اثر مسلم صحافت کا دائرہ وسیع ہوتا ہوا دکھا بھی تو صرف اس وقت تک جب تک مذکورہ تحریک یا جذبے میں حرارت باقی رہی- ان کی یخ بستگی کے ساتھ ہی مسلم صحافت کی یہ وسعت سمٹ کر پھر اپنے محور پر گردش کرنے لگی- آگے چل کر مسلم صحافت کے بطن سے ہی مسلمانوں کی مذہبی صحافت نے بھی اپنے بال و پر نکالے، لیکن بہ استثنائے چند ان کے ذمہ داران کی صحافتی تقاضوں سے بے خبری مذہبی رسالوں کو طویل زندگی نہیں دے سکی اور اگر وسائل کی فرواوانی نے کسی کو لمبی عمر تک زندہ بھی رکھا تو اسے عوام کی جانب سے قبولیت کا خلعت عطا نہیں ہوسکا-

 مذہبی صحافت کی عدم مقبولیت نے ہی شاید موٴرخین کو اس کی مبسوط تاریخ لکھنے سے بے پروا رکھا، ناقدین نے اس کے محاسن و معائب پر گفتگو نہیں کی اور محققین نے اس کے لیے اپنی بساط تحقیق نہیں بچھائی- دنیا کی مختلف قوموں اور زبانوں یہاں تک کہ مسلم صحافت کی تاریخ اور عروج و زوال پر بھی ہمیں کثیر سرمایہ ملتا ہے، جب کہ مذہبی صحافت کی تاریخ، اس کے عناصر و اسالیب، رجحانات اور محاسن و معائب پر مشتمل چند مبسوط علمی و تحقیقی مضامین بھی نہیں ملتے-کسی بھی ترقی یا زوال کے دو بنیادی عناصر ہوتے ہیں: ایک داخلی اور دوسرا خارجی- داخلی عناصر کا تعلق صلاحیت، پیش کش او رطریق کار سے ہوتا ہے، جب کہ خارجی عناصر حالات اور ماحول پر مشتمل ہوتے ہیں- ترقی کا مدار دونوں عناصر کی صحیح تنظیم و ترتیب پر ہے، ان میں سے کسی ایک کی ناہمواری زوال اور نامقبولیت کا باعث بن جاتی ہے- عام مسلم صحافت اور مسلم مذہبی صحافت کی تاریخی کڑیوں کو مختلف ادوار میں جوڑنے کی کوشش کی جائے تو ہر دور میں ذرائع ابلاغ کے ہمہ گیر اثرات کے باوجود دونوں کی نامقبولیت کو مذکورہ نکتے میں دیکھا جاسکتا ہے-

مسلم صحافت کے داخلی عناصر تو ہر دور میں صحیح رہے، لیکن بدقسمتی سے اس کے دائرہٴ اثر کو خارجی عناصر نے کبھی وسیع اور ہمہ گیر ہونے کا موقع نہیں دیا، یہ خارجی عناصر مختلف زمانے میں مختلف رہے جن کی تفصیل یہ ہے:

۱- انگریزی سرکار کی سیاسی قلا بازیاں ۲- ۱۸۵۷ء کے الم ناک حادثے ۳- لسانی تعصب ۴- ہندوٴں اور مسلمانوں کا مذہبی اور معاشرتی تناوٴ ۵-تقسیم ہند ۶-اردو زبان کا اسلامائزیشن ۷-اور تقسیم ہند کے بعد اقلیتی اور اکثریتی مفادات پر حکومتوں کا جانب دارانہ رویہ-

جب کہ مذہبی صحافت سے عوام کی عدم دلچسپی کا سبب خارجی عناصر کے ساتھ داخلی عناصر بھی رہے، جن کی تفصیل یہ ہے:

۱-پیش کش کا روایتی طریق کار۲- Outdatedموضوعات کا انتخاب۳- عصری مفاہیم اور اسالیب سے بے خبری۴- صحافتی اصول سے ناآشنائی۵- فروعی مسائل پر جنگ و جدال۶- رسائل کی اشاعت میں وقت، محنت اور توجہ کی کمی ۷- صحافت کی اہمیت و اثرات سے غفلت

ان دونوں عناصر کو سمجھنے کے لیے مسلم اور مذہبی صحافت کے تاریخی ادوار کا جائزہ ضروری ہے-

برصغیر میں مطبوعہ صحافت کا آغازاور مسلمان:- برصغیر میں مطبوعہ صحافت کی ابتدا کلکتہ سے ۱۷۷۹ء میں ”کلکتہ جنرل ایڈورٹائزر“ کی اشاعت سے ہوئی، اس ہفت روزہ انگریزی اخبار کو جیمز آگسٹس ہیکی نے جاری کیا، جسے عرف عام ”ہیکی کا گزٹ“ بھی کہتے ہیں- وقت گزرنے کے ساتھ جیسے جیسے ایسٹ انڈیا کمپنی کا تسلط ہندوستان کے مختلف علاقوں پر بڑھتا گیا انگریزی صحافت میں بھی توسیع ہوتی گئی، یہاں تک کہ انیسویں صدی کے ربع اول تک انگریزی اخبارات کی تعداد ایک درجن سے زائد ہوگئی-یہ بھی واضح رہے کہ انگریزی صحافت کی توسیع ان علاقوں (بنگال اور اس کے مضافات) میں ہو رہی تھی جہاں مسلمان نہایت پسماندگی کی حالت میں گزر بسر کر رہے تھے، کیوں کہ انگریزوں کے متعدد اقدامات نے انہیں معاشی، سماجی اور تعلیمی حیثیت سے کمزور کردیا تھا، جب کہ ہندوٴں میں (جو پہلے سے ہی مسلمانوں کے زیر اقتدار تھے) انگریزی تعاون سے اصلاحی تحریکیں شروع ہوچکی تھیں، ان اصلاحات اور ہندوستانیوں میں عیسائیت کی تبلیغ کے لیے جگہ جگہ عیسائی مشنریاں بھی قائم کی جاچکی تھیں، جنہیں مسلمان قبول کرنے کو تیار نہیں تھے-اس وقت انگریزوں نے محسوس کیا کہ اس مقصد کی تکمیل کے لیے مختلف علاقائی زبانوں میں اخبارات و رسائل بھی جاری کیے جائیں- چنانچہ ہندوٴں اور عیسائی مشنری کے زیر اہتمام فارسی، ہندی، بنگالی اور گجراتی زبانوں میں اخبارات نکلنا شروع ہوئے-

اس سلسلے میں کلکتہ سے ۱۸۱۸ء میں ڈاکٹر مارش مین نے بنگالی زبان کا پہلا رسالہ ماہنامہ ”ڈگ درشن“، کلکتہ سے ہی اپریل ۱۸۲۲ء میں ہندو مصلح راجہ رام موہن رائے نے فارسی کا پہلا ہفت روزہ ”مرأة الاخبار“، ممبئی سے۱۸۲۲ء میں مرزبان جی نے گجراتی زبان کا اولین اخبار ہفت روزہ ”بمبئی سماچار“ اور کلکتہ سے ہی ۱۸۲۶ء میں جگل کشور شکلا نے ہندی کا پہلا ہفت روزہ اخبار ”اودنت مارتنڈ“ جاری کیا- اس تفصیل کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں رہ جاتا کہ برصغیر کی ابتدائی مطبوعہ صحافت میں مسلمانوں کا نام و نشان بھی نہیں تھا-

اردو صحافت کے آغاز کا مقصد اور مسلمان:-اردو کی مطبوعہ صحافت کا آغاز بھی ایسٹ انڈیا کمپنی کے زیر اہتمام ۱۸۲۲ء میں ہفت روزہ ”جام جہاں نما“ کلکتہ سے ہوا، جس کا مدیر و مہتمم منشی سدا سکھ کو بنایا گیا، لیکن اردو صحافت کی اشاعت اور فروغ کا مقصد عیسائیت کی تبلیغ یا ہندوستانیوں کی اصلاحات نہیں تھی، اگر ایسا ہوتا تو مذکورہ اخبار کو کلکتہ کی بجائے اردو کے مراکز یا علاقوں سے جاری کیا جاتا، کلکتہ اور اس کے مضافات میں تو مسلمانوں کے درمیان بھی اردو مقبول نہیں تھی تو وہاں کے عام ہندوستانی کیا پڑھتے؟ شاید اسی وجہ سے مذکورہ اخبار کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ور وہ مختصر سی مدت میں بند ہوگیا- اردو صحافت کے آغاز کا مقصد موٴرخین نے جو بیان کیا ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ مسلمانوں کے تقریباً ہزار سالہ دور حکومت میں فارسی کو علمی، ادبی اور تہذیبی زبان کا درجہ حاصل تھا، یہ مسلمانوں کے اقتدار کی نشانی تھی جبکہ اردو صرف شعر و سخن کی زبان تھی- انیسویں صدی کے ابتدائی ادوار میں جب ایسٹ انڈیا کمپنی کی سیاسی اور عسکری قوت بڑھنے لگی تو انگریزوں نے چاہا کہ ہندوستانیوں بالخصوص مسلمانوں کا رشتہ ان کے ماضی سے کاٹ کر انہیں ذہنی و فکری حیثیت سے بھی غلام بنایا جائے- اس مشن اور خواہش کی تکمیل کے لیے فارسی زبان کا خاتمہ ضروری تھا-انگریزی کا چلن اس وقت عام نہیں تھا، اس لیے ان کی نگاہ انتخاب اردو پر پڑی اور انہوں نے اردو کو فروغ دینے کا منصوبہ بنایا- ۱۸۰۰ء میں فورٹ ولیم کالج کا قیام اسی مقصد کے تحت ہوا تاکہ فارسی کے بالمقابل اردو زبان کو ہندوستانیوں میں عام کرنے کی تحریک چلائی جاسکے اور اسی مقصد کے تحت مذکورہ ہفت روزہ اخبار بھی جاری کیا گیا-یہاں تک کہ ۱۸۳۰ء میں فارسی کو ختم کرکے اردو سرکاری زبان بنا دی گئی- اس طرح انگریزوں کی سیاسی قلابازیوں اور منصوبوں کے نتیجے میں انیسویں صدی کے ربع اول سے ۱۸۵۷ء تک ہندوستان کی مقامی زبانوں (فارسی، اردو، بنگالی، گجراتی، مراٹھی) میں تقریباً سو اخبارات ورسائل جاری ہوئے،جن میں مسلمانوں کی حصہ داری پچیس فیصد سے زیادہ نہیں رہی، اس کے برخلاف ہندوٴں نے انگریزوں کے تعاون سے مطبوعہ صحافت کے اس ابتدائی دور میں غیرمعمولی دلچسپی کا مظاہرہ کیا-

مسلم صحافت:-برصغیر میں مسلم صحافت کو چار ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

پہلا دور ۱۸۳۳ء سے ۱۸۵۷تک،دوسرا دور ۱۸۵۸ء سے ۱۹۰۰ء تک،تیسرا دور ۱۹۰۱ء سے ۱۹۴۷ء تک اور چوتھا دور ۱۹۴۸ء سے تاحال

پہلا دور: -برصغیر میں مغلوں کے زوال کے ساتھ ہی مسلمانوں کے(ہر محاذ پر)زوال کی تاریخ شروع ہوتی ہے،چنانچہ مسلم صحافت بھی اس کا شکار ہوئی اور بر صغیر میں مطبوعہ صحافت کے تقریباً ۵۲/سالوں اور ہندو صحافت کے ۱۳/سالوں کے بعد ۱۸۳۱ء میں مسلم صحافت کا آغاز ہوتا ہے- ۱۸۳۱ء میں مولوی سراج الدین نے کلکتہ سے پہلا فارسی اخبار ”آئینہ سکندر“ جاری کیا،جبکہ مولانا محمد حسین آزاد کے والد مولوی محمد باقرنے ۱۸۳۶ء میں دہلی سے ”دہلی اردو اخبار“کے نام سے پہلا اردو اخبار نکالا-اس طرح ۱۸۵۷ء تک فارسی اور اردو زبانوں میں مختلف مقامات سے مسلمانوں نے مزید چند اخبارات و رسائل جاری کیے،جن کی کل تعداد تیس کے آس پاس ہوگی-

مسلم صحافت کے اس پہلے پڑاوٴ میں مسلمانوں کے پاس نہ کوئی منصوبہ تھا اور نہ کوئی مشن یا تحریک جس کو وہ اپنی صحافت کے ذریعے آگے بڑھاتے،اس لیے مسلم صحافت کا پہلا دور صحافتی نقطہٴ نظر سے بد رنگ اور پھیکا ہی رہا-اسی وجہ سے مسلم صحافت اپنے پہلے دور میں براہ راست کوئی نمایاں خدمت بھی نہیں انجام دے سکی اور نہ ہی کوئی اخبار عوام میں بہت زیادہ مقبول ہوسکا-اس دورکے اکثر اخبارات و رسائل آخری مغل تاجدار بادشاہ غازی کے شب و روز کا اشتہار بنے ہوئے تھے یا پھراستادان شعر و سخن کی آپسی چپقلش کے نمائندے-مثلاً اس وقت استاد ذوق اور مرزا غالب کی فنی رقابت عروج پر تھی،لہذا مسلم اخبارات بھی دو حصوں میں بٹے ہوئے تھے،ایک گروپ غالب کے پرستاروں کا تھاتو دوسرا ذوق کا گرویدہ اور دونوں ہی گروپ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے- ایک بارغالب کو قمار بازی کے الزام میں سزا ہوگئی توبشمول ”دہلی اردو اخبار“ ذوق کے حامیوں نے اپنے اخبارات میں اس خبر کو خوب اچھالا-اسی طرح مسلم صحافت کا پہلا فارسی اخبار”آئینہٴ سکندر “ کو مرزا نوشہ کی سرپرستی حاصل تھی ،اس لیے ہر خبر کی سرخی کے نیچے ان کا ایک فارسی کا شعر بھی ہوا کرتا تھا-شعرا کے منظوم کلاموں کی کثرت اشاعت ان پر مستزاد،جس نے صحافت کو مشاعرہ گاہ بناکر رکھ دیا تھا-ان اخبارات میں ملکی اور بین الاقوامی خبریں بھی ہوتی تھیں،جن کے مآخذ و مراجع انگریزوں اور ہندوٴں کے زیر ادارت نکلنے والے اخبارات ہی ہواکرتے،اس لیے واقعات کے حقائق کا تعین بھی مشکل تھا اور خبروں کے بین السطور سے صحیح تجزیہ و تبصرہ بھی پریشان کن-ہاں!ان میں کچھ اخبارات ایسے بھی تھے جو انگریز افسروں کے ناروا ظلم وجبر کے خلاف آواز حق بھی بلند کرتے تھے،مگر ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی-

جہاں تک مذہبی صحافت کی بات ہے ،جس میں عموماً مذہبی امور پر مسلمانوں کی رہنمائی مقصود ہوتی ہے،اسلامی تعلیمات کی تبلیغ و اشاعت ہوتی ہے اور مذہبی و ملی مسائل کا تاریخی و تجزیاتی مطالعہ ہوتا ہے ،مسلم صحافت کے اس پہلے دور میں اس کا کوئی سراغ نہیں ملتا-حیرت کی بات ہے کہ انگریز و ں نے اپنی طاقت کے ابتدائی مرحلے میں ہی عیسائیت کی تبلیغ کا آغاز مختلف شعبوں سے کردیا تھا جس میں صحافت بنیادی کردار ادا کررہی تھی،لیکن مسلمانوں کی جانب سے کوئی مجلہ یا رسالہ شروع نہیں کیا گیا،حالانکہ رد عمل میں اس کام کا آغاز ناگزیر تھا-اس کے علاوہ ۵۷ء سے پہلے ملک کے سیاسی حالات بھی ایسے نہیں تھے جیساکہ اس کے بعد ہوئے،مادی انقلاب نے ہندوستان کے دروازے پردستک بھی نہیں دی تھی اور نہ ہندوستانی مسلمانوں کی مذہبی تپش کو کسی ”ازم“ نے ٹھنڈا کیا تھا-یہ سچائی ہے کہ اس وقت مسلمان سیاسی سطح پر جوجھ رہے تھے ،مگر مسلم دشمنی کی ایک بڑی وجہ ان کے مذہبی اور ایمانی معاملات بھی تھے-انگریزوں کے ذریعے فارسی زبان کے خاتمے کی کوشش اوراسلامی علوم و فنون کو مٹانے کی جدو جہد اسلام دشمنی کے روشن استعارے تھے-

یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر دین کی رہنمائی اور اشاعت اس کے علما ہی کرتے ہیں ،اسلام کا استحکام اور تبلیغ بھی علمائے شریعت کے ذریعے ہی ہوتی رہی ہے-حیرت ہے کہ برصغیر میں مسلم صحافت کے آغاز اور عروج میں علمانے ہی کمان سنبھالی ،لیکن اپنے پہلے صحافتی دور میں انھوں نے ہی مذہبی صحافت کو بالکل نظر انداز کردیا ،دوسرے لفظوں میں صحافت کے ذریعے اسلام کے استحکام و تبلیغ کی کوشش سے پہلو تہی کی گئی-مسلم صحافت کا آغاز و ارتقا اگر علما کے ذریعے نہیں ہوا ہوتا تو یہ شکایت اتنی بر محل نہیں ہوتی جتنی مذکورہ حالت میں ہوجاتی ہے- یہ شکایت اس وقت اور بھی بامعنی ہوجاتی ہے جب یہ تکلیف دہ تاریخ سامنے آتی ہے کہ اس وقت علماء کا ایک بڑا طبقہ منقولات اور دینی و ملی ضرورتوں سے صرف نظر کر کے یونانی فلسفے کی درس و تدریس اور عقول عشرہ، خرق والتئام فلک اور جزء الذی لایتجزیٰ کے رد و ابطال میں مصروف تھا- قدیم فلسفے کی تردید پر مشتمل ان لاحاصل مصروفیات کا ایک عظیم دفتر آج بھی بطور یاد گار لائبریریوں میں محفوظ ہے- ستم یہ ہے کہ علما کی تدریس کا ایک بڑا حصہ آج بھی ان کے بطلان پر صرف ہورہا ہے، حالانکہ برصغیر میں نہ اس وقت مذکورہ نظریات کا کوئی پرستار تھا اور نہ آج کوئی ان کا حامی و موید ہے- ایسے میں یہ سوال اپنی پوری توانائی کے ساتھ ہمارے سامنے کھڑا ہوجاتا ہے کہ مذہبی حلقے میں یونانی فلسفے کے تردید وابطال کی یہ ہنگامہ آرائیاں کیوں اور کس کے لیے تھیں؟ ہزار کوششوں کے باوجود بھی میں آج تک اس کا کوئی تسلی بخش جواب اپنے آپ کو دے کر مطمئن نہیں کرسکا- یہ بات بھی بڑی حیران کن ہے کہ سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں ہی یوروپ کے اندر برپا ہونے والے جدید سائنسی انقلاب نے یونانی فلسفے کو رد کردیا تھا اور اس کے بالمقابل ڈارون ازم، مارکسزم اور فرائڈ کے جنسی فلسفے کی بنیاد رکھ دی گئی تھی، جو براہ راست مذہبی افکار و عقائد سے متصادم تھے اور بشمول برصغیر دنیا کے بڑے خطے کے ذہن و فکر کو تہ و بالا کر رہے تھے، مگر یوروپ کا یہ جدید فلسفہ نہ اس وقت علماء کی دلچسپی کا موضوع تھا اور نہ آج ہے- ممکن ہے دو سو سالوں کے بعدجب کسی نئے فلسفے کی بنیاد پڑے تو وہ یوروپ کے مذکورہ نظریات کی تدریس و تردید کی طرف متوجہ ہوں-

دوسرا دور:-مسلم صحافت کے دوسرے دور کا آغاز ۱۸۵۷ء کی بغاوت کے بعد شروع ہوتا ہے اور انیسویں صدی کے اختتام پر تمام ہوجاتا ہے- ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد مسلمانوں بالخصوص علما پر مصائب و آلام کے پہاڑ ٹوٹ پڑے، کیوں کہ اس جنگ کی پیشوائی یہی لوگ کر رہے تھے، اس لیے قید و بند کی صعوبتیں، سرکاری مناصب سے معزولی، سزائے موت ، تعلیمی، سیاسی اور معاشی پابندیاں انہی کے حصے میںآ ئیں- برصغیر میں مسلمانوں کی اس دار و گیر کے نتیجے میں مسلم صحافت بھی بے پناہ متاثر ہوئی اور متعدد اخبارات بند کردیے گئے- دہلی ارد و اخبار کے مدیر مولوی باقر کو مسٹر ٹیلر پرنسپل دہلی کالج کے قتل کی سازش کے الزام میں گولی مار دی گئی، جب کہ ان کے صاحبزادے مولانا محمد حسین آزاد مصنف ”آب حیات“ گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہوگئے، اس کے علاوہ مسلم اخبارات کے بہت سے مدیروں اور مالکوں کو جیل میں ڈال دیا گیا-انقلاب۱۸۵۷ء کے بعد مسلم صحافت کے وجودکا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ ۱۸۵۳ء تک اردو زبان کے اخبارات کی تعداد ۳۵ تھی، جب کہ ۱۸۵۸ء میں یہ تعداد گھٹ کر صرف بارہ رہ گئی، ان بارہ میں بھی صرف چھ اخبارات جنگ سے پہلے کے تھے اور چھ نئے تھے- ان بارہ اخبارات میں سے صرف ایک کی ادارت ایک مسلمان کے پاس تھی، باقی تمام غیرمسلموں کی زیر ادارت تھے- گویا یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ۱۸۵۷ء کے انقلاب کے بعد مسلم صحافت عملی طور پر ختم ہوگئی تھی- دوسری طرف ہندو صحافت نے جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد اپنے اخبارات کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف سخت انتقامی کارروائی کا مطالبہ کیا اور گنگا نہا لیا- مسلم صحافت تو عملی طور پر ختم ہوچکی تھی اور جو رہ گئی تھی خوف نے ا ن کے لہجے میں اعتدال پیدا کردیا تھا، ان حالات میں برصغیر کے اندر ہندو صحافت ہی رہ گئی تھی جسے حکومت کی سرپرستی حاصل تھی-

۱۸۵۷ء کے بعد تین چار سالوں تک مسلم صحافت نہایت محدود اور کمزور رہی- ۶۰ء کے بعد مسلمانوں نے ایک بار پھر اپنی بکھری ہوئی طاقت و ہمت کو یکجا کیااور اپنی صحافت کو نئے سرے سے مستحکم کرنے کی جد و جہد کا آغاز کیا- نتیجے میں ایک کے بعد ایک اخبار و رسالہ نکلنا شروع ہوئے، یہاں تک کے اس صدی کے آخر تک مسلم صحافت کی آواز موٴثر اور مضبوط ہو کر آزادی وطن کے احتجاجوں اور نعروں میں تبدیل ہوگئی-

تاریخی ادوار کے حساب سے مسلم صحافت کے دوسرے دور کا آغاز ۱۸۵۸ء سے ہوتاہے، اس دور میں ۱۹۰۰ء تک سیکڑوں مسلم اخبارات و رسائل منظر عام پر آئے، لیکن مورخین اور صحافتی تحقیق کاروں کے مطابق اپنے مشمولات، اسلوب، پیش کش اور ذہن سازی کی وجہ سے جو مقبولیت اور شہرت سرسید احمد خاں(۱۸۱۷ء/۱۸۹۸ء )کے اخبار اور رسالے کو ملی وہ کسی دوسرے کے حصے میں نہ آسکی-سرسید کی مقبول او رموٴثر صحافت کی وجہ سے ہی محققین نے مسلم صحافت کے دوسرے دور کے باقاعدہ آغاز کا سہرا ان کے سر باندھا ہے- مسلم صحافیوں کی لمبی فہرست میں سر سید پہلے شخص تسلیم کیے گئے جنہوں نے صرف مسلمانوں کی اصلاحات کے لیے صحافت کے میدان میں آنے کا فیصلہ کیا اور ان میں جدید علوم کے حصول کی تحریک پیدا کرنے کے لیے علی گڑھ سے ۱۸۶۶ء میں ہفت روزہ” سائنٹفک سوسائٹی“ جاری کیا، جو بعد میں علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ کے نام سے بھی مشہور ہوا- یہ انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں شائع ہوتا تھا تاکہ انگریزوں اور ہندوستانیوں بالخصوص مسلمانوں کو متوجہ اور متاثرکرسکے- بقول ڈاکٹر مسکین علی حجازی:

 ”انہوں(سرسید) نے اس اخبار کو صحت کے اعتبار سے اس مقام پر پہنچادیا جہاں پہلے کوئی اردو اخبار نہیں پہنچا تھا، علاوہ ازیں انہوں نے اپنے مدلل، منطقی، عام فہم اداریوں، تبصروں اور مضامین سے اخبار کو مفید اور وقیع بنایا-“(صحافتی زبان،ص:۱۹،مطبوعہ سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور)

انگریزوں نے اپنی سیاسی قوت کے ابتدائی دور میں فارسی دشمنی میں اردو کے فروغ کی جو کوشش شروع کی تھی، وہ انقلاب ۱۸۵۷ء کے بعد کامیاب ہونا شروع ہوگئی تھی، اس لیے مسلم صحافت کے دوسرے دور میں فارسی کے مقابلے میں اردو اخبارات و رسائل کثیر تعداد میں نکلے، لیکن ان کا اسلوب ادیبانہ اور عربی و فارسی آمیز تھا- یہ اسلوب مسلم صحافت کے قبول عام میں بڑی رکاوٹ تھا- مسلم صحافت کے اسلوب کو بھی اپنے اخبار کے ذریعہ عام فہم بنانے میں سرسید نے بنیادی رول ادا کیا، جس کے اثرات بعد کے اخبارات میں بھی دکھائی دیے-

مسلم صحافت کے پہلے دور کی طرح دوسرے دور میں بھی مذہبی صحافت کا نام و نشان نظر نہیں آتا، سوائے اس کے کہ کچھ اخبارات و رسائل کبھی کسی شمارے میں اپنی مضامین شائع کردیا کرتے تھے- سرسید کے اخبار کے علاوہ دوسرے دور کی پوری مسلم صحافت پہلے پہل صحافت برائے صحافت پر عامل رہی، لیکن اپنے اخیر دور میں اس کی پوری توجہ آزادی وطن کی جد و جہد پر مرکوز ہوگئی- یہ صحیح ہے کہ دوسرے دور میں مسلم صحافت کا مرکزی موضوع آزادی وطن رہا اور یہ بھی سچ ہے کہ اس دور میں مذہبی صحافت کہیں نظر نہیں آتی، لیکن میری رائے میں باقاعدہ مذہبی صحافت کا آغاز اسی دور سے ہوتا ہے- یہ الگ بات ہے کہ اس آغاز کو وسعت نہیں مل سکی-

برصغیر میں صحافت کی مفصل تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ سرسید احمد خاں نے ہی مذہبی صحافت کی بنیاد رکھی اور ۲۴/ دسمبر ۱۸۷۰ء میں علی گڑھ سے ”تہذیب الاخلاق“ جاری کیا- اس رسالے کا مقصد مسلمانوں کی دینی رہنمائی اور ان کی معاشرت کی اصلاح تھی- سرسید نے ”تہذیب الاخلاق“ کے پہلے ہی شمارے میں ”تمہید“ کے زیر عنوان اپنے مقصد کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ:

”بس ہمارا مطلب ہندوستان کے مسلمان بھائیوں سے ہے اور اس مقصد کے لیے یہ پرچہ جاری کرتے ہیں تاکہ بذریعہ اس پرچے کے جہاں تک ہوسکے ان کے دین و دنیا کی بھلائی میں کوشش کریں-“(ص:۱)

اس رسالے کے تعلق سے محمد افتخار کھوکھر نے تاریخ صحافت میں لکھا ہے کہ:

”تہذیب الاخلاق نے مسلمانوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا کردیا- اس اخبار نے مسلمانوں کو فرسودہ روایات، رسومات کی اندھا دھند تقلید ترک کرنے کا مشورہ دیا، مسلمانوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ اپنی زندگیوں میں اسلام کو رائج کریں، لڑکیوں کے لیے بھی تعلیم کا انتظام کریں اور ہر قسم کے علوم و فنون سے استفادہ کریں-“ ( ص: ۸۳/ مطبوعہ مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد،پاکستان)

یہ بات بھی بڑی عجیب ہے کہ تہذیب الاخلاق کی بے پناہ شہرت و مقبولیت کے باوجود اس صدی کے آخر تک مذہبی صحافت کا کوئی دوسرا نقش سامنے نہیں آسکا، اس عرصے میں اگر کوئی مذہبی رسالہ جاری ہوا بھی ہوگا تو اس کی عدم مقبولیت تاریخ صحافت میں اپنا اندراج نہیں کراسکی-

مسلم صحافت کے پہلے دور کی طرح دوسرے دور میں بھی مسلم صحافیوں اور علماء کی سرگرمیوں کے موضوعات اور ان کی ترجیحات مختلف تھیں، جن میں مذہبی صحافت کی گنجائش نہیں تھی، جس کا خمیازہ موٴرخین کی بے اعتنائی، عوام کی عدم دلچسپی اور نامقبولیت کی شکل میں مذہبی صحافت آج تک بھگت رہی ہے، جب کہ اسلام کی تبلیغ اور مسلمانوں کی دینی رہنمائی کا یہ ایک بڑا اور موٴثر ذریعہ ہوسکتا تھا- سرسید نے اس نوشتہ دیوار کو پڑھ لیا اور مذہبی صحافت کے ذریعہ مسلم سوسائٹی میں ذہنی و فکری انقلاب برپا کردیا- آج اسی کا نتیجہ ہے کہ برصغیر کی اصلاحی، صحافتی، ادبی اور تعلیمی تاریخ کے حوالے سے موٴرخین، محققین اور لکھنے والوں کی کوئی بات سرسید کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوتی-

مذہبی صحافت کے آغاز و ارتقا میں سرسید کے نمایاں کردار کے اعتراف کے ساتھ یہ بات بھی اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ انہوں نے اپنی مذہبی صحافت اور مذہبی تحریروں کے زریعے دین کی جو تعبیر و تشریح پیش کی وہ” اعتزالی فکر“ کی نئی شکل تھی، جو امت مسلمہ کے شدید مذہبی انحرافات کا سبب بن گئی- سرسید کی تعلیمی، صحافتی اور اصلاحی میدانوں میں گرانقدر خدمات کے باوجود علما سے ان کے شدید اختلافات کی وجہ مذکورہ تعبیر و تشریح ہی تھی- یہ نظریاتی اختلافات آگے چل کر ان کی تعلیمی، اصلاحی اور صحافتی تحریکوں پر بھی براہ راست اثر انداز ہوئے- سرسید کی مذہبی تشریحات اور امت مسلمہ پر ان کے اثرات کے حوالے سے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا یہ اقتباس قابل مطالعہ ہے:

”سرسید کے کام کو اصلاح اور تنقید عالی کے الفاظ سے تعبیر کرنا اور یہ کہنا کہ مسلمانوں میں ان کے بعد جتنی اہم مذہبی، سیاسی، اجتماعی، ادبی، تعلیمی تحریکیں اٹھی ہیں ان سب کا سررشتہ کسی نہ کسی طرح ان سے ملتا ہے، دراصل مبالغہ کی حد سے متجاوز ہے- سچ یہ ہے کہ ۵۷ء کے بعد سے اب تک جس قدر گمراہیاں مسلمانوں میں پیدا ہوئیں ان سب کا شجرہٴ نسب بالواسطہ یا بلا واسطہ سرسید کی ذات تک پہنچتا ہے، وہ اس سرزمین میں تجدد کے امام اول تھے اور پوری قوم کا مزاج بگاڑ کے دنیا سے رخصت ہوئے-“(ترجمان القران، شوال ۱۳۵۹ھ بحوالہ مولانا مودودی کے ساتھ میری رفاقت کی سرگزشت اور اب میرا موقف، مولانا منظور نعمانی، ص: ۹۲، مطبوعہ الفرقان بک ڈپو، لکھنوٴ)

تیسرا دور:- مسلم صحافت کا تیسرا دور ۱۹۰۱ء سے شروع ہوکر ۱۹۴۷ء میں آزادی اور تقسیم ہند پر ختم ہوتا ہے- اس دور کو مسلم صحافت کا سب سے تابناک اور زریں دور کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا- اس کے کئی اسباب تھے:

۱-            بیسویں صدی کے آغاز میں انگریزی سرکار کے آمرانہ رویوں سے تنگ آکر مسلمانوں میں بھی سیاسی حقوق کی بازیافت کی جد و جہد تیز تر ہوگئی-

۲-            ۱۸۵۷ء کے انقلاب کے ساتھ آزادی وطن کی جس تحریک کی ابتدا ہوئی تھی، انیسویں صدی کے آغاز میں وہ تحریک ایک نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ پرجوش ہوگئی-

۳-            ۱۹۱۱ء میں انگریزی حکومت کی جانب سے بنگال کی تقسیم کی منسوخی اور ۱۹۱۳ء میں مسجد کانپور کی شہادت نے مسلمانوں میں بے بسی اور محرومی کا احساس جگایا، نتیجے میں مسلم قائدین اور صحافیوں نے انگریزوں کے ساتھ مصالحت کی پالیسی کو ترک کرنے کا فیصلہ کرلیا-

۴-            پہلی جنگ عظیم(۱۹۱۴ء-۱۹۱۸ء)میں سلطنت عثمانیہ کو ختم کرنے کی کوششیں جاری تھیں، جس کے نتیجے میں تحریک خلافت شروع ہوگئی-

۵-            تحریک خلافت کے ساتھ ساتھ تحریک ترک موالات اور تحریک ہجرت بھی جاری تھی اور اس کے ساتھ سانحہ جلیانوالہ باغ بھی ہوچکا تھا، جس نے ملک میں انگریزوں کے خلاف ہیجان برپا کر دیا –

۶-            سلطنت عثمانیہ کے خلاف۱۹۱۱ء میں جنگ طرابلس اور ۱۳/۱۹۱۲ء میں جنگ بلقان برپاہوگئی- اس طرح پوری دنیا میں مسلمانوں کے مذہبی، سماجی اور سیاسی مستقبل پر سوالیہ نشان لگا ہو اتھا،جس کو مسلم قائدین اچھی طرح محسوس کرنے لگے-

ان اسباب کی وجہ سے مسلم صحافت ایک نئے مگر زیادہ بامقصد اور موٴثر دور میں داخل ہوگئی، جس میں مصلحتوں، مصالحتوں اور خوشامدانہ لہجوں کی گنجائش نہیں تھی- اس وقت مسلم صحافت کی جو نئی صورت حال تھی اس میں جوش، جذبہ، توانائی،بغاوت، مبارزت طلبی، جرأت و بے خوفی تھی-مسلم صحافت کی اس نئی طرز کی قیادت مولانا ظفر علی خان، مولانا محمد علی جوہر اور مولانا ابوالکلام آزاد کر رہے تھے-

اول الذکر نے زمیندار (۱۹۱۰ء)،ثانی الذکر نے کامریڈ (۱۹۱۱ء)، ہمدرد(۱۹۱۲ء) اور موٴخر الذکر نے الہلال (۱۹۱۲ء) کے ذریعے مسلمانو ں میں اپنے حقوق کی بازیابی، آزادی وطن کی جد و جہد اور مذہبی تحفظات کی جو روح پھونکی، وہ آزادی ہند پر جا کر ختم ہوئی- ان تینوں نے بقول ڈاکٹر مسکین علی حجازی ”صحافت کو نعرہٴ رستاخیز کا رنگ دے دیا-“ اس جرأت و بے خوفی کی وجہ سے انہیں ناقابل برداشت اذیتوں اور مشکلات کا بھی سامنا رہا، سالہا سال نظر بندی اور قید و بند میں زندگی گزارے، متعدد بار چھاپہ خانے اور ضمانتیں ضبط کی گئیں اور مختلف نوعیت کی سزائیں دی گئیں- آخر مسلسل ضمانتوں، ضبطیوں اور نظر بندیوں کے پیش نظر مولانا ظفر علی خان کا زمین دار ۱۹۱۳ء میں، مولانا محمد علی جوہر کا کامریڈ ۱۹۱۴ء اور ہمدرد ۱۹۱۵ء میں اور مولانا آزادکا الہلال ۱۹۱۴ء میں بند ہوگیا-کچھ عرصے کے بعد ہمدرد اور الہلال دوبارہ جاری کیے گئے،لیکن پہلا ۱۹۲۷ء اور دوسرا ۱۹۲۹ء میں پھر بند ہوگیا- مذکورہ تینوں شخصیات کی صحافت سے عملی طور پر دستبردار ی کے بعد گوکہ مسلم صحافت کا وہ رنگ ڈھنگ نہیں رہا، لیکن ان تینوں نے مسلم صحافت کو جو نیا عنوان اور ولولہ دیا تھا اس نے برصغیر میں مسلم صحافت کو زندہ رہنے کا حوصلہ دے دیا، جس کے سہارے ۱۹۴۷ء تک سیکڑوں اخبارات و رسائل نکلتے رہے اور اپنی اپنی سطح پر صحافتی ذمہ داریاں پوری کرتے رہے- مسلم صحافت کے اسی دور میں صحافت میں جذبات نگاری کی بنیاد پڑی، عالم اسلام کے مسائل اٹھانے کی وجہ سے برصغیر کے مسلمانوں کا اسلامی دنیا سے ایک نیا رشتہ قائم ہوا، چونکا دینے و الی زبان فروغ پائی،صحافت میں تاجرانہ رنگ آیا ، ہفت روزہ اخبارات کثرت سے روزناموں میں تبدیل ہوئے ، صحافت کا دائرہٴ اثر بہت وسیع ہوگیا اور سب سے اہم بات یہ کہ مسلم صحافت عوام کی ترجمان بن گئی، جس کی وجہ سے اخبارات کے سرکولیشن میں بے پناہ اضافہ ہوا اور ان کی تعداد بھی بہت بڑھ گئی-

مسلم صحافت کے اس انقلابی عہد میں اگر مذہبی صحافت کی بات کی جائے تو بیسویں صدی کے آغاز سے مذہبی صحافت کا باقاعدہ اجرا اور برصغیر کے مختلف خطوں سے اس کی اشاعتوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے-اس عرصے میں ۱۹۴۷ء تک تقریباً ڈیڑھ سو مذہبی رسائل و جرائد کا سراغ ملتا ہے-مسلم صحافت کے اس تیسرے دور میں مولانا آزاد کے ”الہلال“کو اگر مذہبی صحافت کے زمرے میں لایا جائے تو اس کے علاوہ کوئی بھی مجلہ یا رسالہ شہرت اور مقبولیت کی اس بلندی تک نہیں پہنچ سکا جہاں تک الہلال کے رسائی تھی-جہاں تک اس دور کی مذہبی صحافت کی افادیت کا تعلق ہے ،اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس ڈیڑھ سو رسائل کی فہرست میں ایسے کئی رسائل اور مجلات سامنے آئے جو اپنے اپنے حلقوں میں مسلمانوں کی دینی و شرعی رہنمائی کا ذریعہ بنے نیز ان کے ذریعے بالواسطہ اردو زبان کا فروغ بھی ہوا،کیونکہ اس دور میں فارسی زبان عملی طور پر ختم ہوچکی تھی اور جتنے بھی رسائل و جرائد منظر عام پر آرہے تھے وہ سب کے سب اردو میں تھے-ان میں قاضی عبد الوحید فردوسی کا ماہنامہ تحفہٴ حنفیہ،پٹنہ(۱۹۰۸ء)اور مفتی عمر نعیمی کا السواد الاعظم،مراد آباد (۱۹۱۸ء) خاص طور پرقابل ذکر ہیں-اول الذکر نے تحریک ندوہ کے مسلکی اشتراک و اتحاد کی پالیسی کے خلاف اہل سنت و جماعت کی طرف سے بنیادی کردار ادا کیا جبکہ موخر الذکر نے قیام پاکستان کی تحریک میں اپنے مشمولات اور فکر انگیز مضامین کے ذریعے نمایاں حصہ لیا-لیکن پہلا قاضی عبدالوحید کے انتقال کے بعد اور دوسرا تقسیم ہند کے بعد جاری نہ رہ سکا-ان کے علاوہ اس دور کے مذہبی رسائل و جرائد میں ہفت روزہ الفقیہ،امرتسر(۱۹۱۸ء) ماہنامہ ترجمان القرآن ،حیدرآباد(۱۹۳۲ء)ماہنامہ معارف،اعظم گڑھ(۱۹۱۶ء)اور ہفت روزہ پیغام،کلکتہ (۱۹۲۱ء) کا فی اہم تھے اور اپنے مشمولات اور اثرات کے اعتبار سے تمام معاصر رسائل پر فوقیت رکھتے تھے لیکن جب بات صحافت کے وسیع اثرات کی کی جائے تواس بات کو بھی ماننا ہوگا کہ اس دور میں کوئی بھی مذہبی مجلہ یا رسالہ وسیع پیمانے پر مسلم معاشرے میں قابل ذکر اثرات قائم نہیں کرسکا-اس کی بنیادی وجہ” داخلی عناصر“(جس کی تفصیل ابتدا میں بیان کردی گئی)کی بے ترتیبی کے ساتھ ”مسلمانوں کی مسلکی تقسیم“بھی تھی-

بر صغیر کی مسلم تاریخ میں محققین کے ذریعے یہ بات تسلیم کر لی گئی ہے کہ مسلمانوں کے درمیان مسلکی فرقہ بندی کی ابتدا شاہ اسماعیل دہلوی (۱۷۷۹ء/۱۸۳۱ء ) کے ذریعے ہوئی ،جب انھوں نے ۱۲۴۰ھ(۲۵/۱۸۲۴ء)میں ’تقویة الایمان‘نامی کتاب لکھی-اس کتاب کی اشاعت سے قبل مسلمانوں میں دو ہی فرقے مشہور تھے ،ایک شیعہ اوردوسرا سنی-اس کتاب کی اشاعت کے بعد مختلف ادوار میں متعدد فرقے وجود میں آئے،جیسے وہابی،اہل حدیث،اہل قرآن،دیوبندی،چکڑالوی،نیچری وغیرہ-ہر فرقہ اصول اور فروع میں خاص نظریات کا حامی و داعی تھا-اس طرح مسلمانان ہند مختلف فرقوں اور مسلکوں میں بٹتے چلے گئے-ظاہر ہے کہ مسلمانوں کی یہ مسلکی تقسیم صرف نظریاتی اور فکری سطح تک محدود نہیں رہی،بلکہ ۵۷ء کے بعد ایک انسٹی ٹیوشن کی شکل میں جتنے مدارس وجود میں آئے ،مساجد تعمیر ہوئیں ،تنظیمیں اورتحریکیں تشکیل پائیں، کتابیں لکھی گئیں ان سب پر مسلکی رنگ غالب رہا، کیونکہ ہر سطح اور ہر محاذ سے اپنے اپنے مسلک کی تبلیغ اور دفاع کی کوششیں کی جارہی تھیں-اس ماحول میں جب مذہبی صحافت کی ابتدا ہوئی تو مسلکی تقسیم کا اثر اس پر بھی پڑا-کسی بھی مسلک کے صحیح یا غلط اور اس کے حق تبلیغ و دفاع کی بحث سے قطع نظر اس دور کے تمام مذہبی رسائل اپنے اپنے مسلک کی نمائندگی کر رہے تھے،اس لیے ان میں سے کوئی ایک بھی امت کا رسالہ نہیں بن سکا-مذہبی صحافت کی یہ مسلکی تقسیم اس کی عام مقبولیت ،توسیع اور اثرات میں رکاوٹ بن گئی،اس لیے کہ ہر پرچہ اپنے خاص مسلکی نظریات کے ساتھ صرف اپنے ہی حلقے میں پڑھا جارہا تھا-یہ بات بالکل قطعی ہے کہ ہر چیز کے کچھ اپنے تقاضے اور اصول ہوتے ہیں ،جن کی پاسداری ضروری ہوتی ہے- صحافت کے بھی اپنے تقاضے اور اصول ہیں،جس کوحد سے زیادہ نظریاتی تسلط،تقسیم،ادعائیت،موضوعیت اور جانب داریت راس نہیں آتی-

چوتھا دور:-منقسم اور آزاد ہندوستان میں مسلم صحافت کا چوتھا اور آخری دور ۱۹۴۸ء سے شروع ہوا اور آج( ۲۰۱۰ء) تک جاری ہے-حالانکہ اکیسویں صدی کے آغاز سے سائنسی ایجادات اور ترقیات کے سہارے صحافت وسیع اور موٴثر ترین ہو کر ایک نئے دور میں داخل ہوگئی ہے- اب کسی بھی جمہوری ملک کی تنظیم و تعمیر میں صحافت کو عدالت، پارلیمنٹ اور انتظامیہ کے ساتھ چوتھے ستون کی حیثیت سے تسلیم کرلیا گیا ہے-یعنی ایک جمہوری ملک میں صحافت کو وہی حیثیت حاصل ہے جو عدالت ،پارلیمنٹ اور انتظامیہ کو ہے ،لیکن ذرائع ابلاغ کی اس نئی صورت حال کو بہت دن نہیں گزرے ہیں، اس لیے مسلم صحافت کے پانچویں دور کی حیثیت سے اس مختصر عہد کا مستقل جائزہ قبل از وقت ہوگا-

ہندوستان کی آزادی اور تقسیم کے بعد مسلم صحافت اپنے چوتھے دور میں بہت زیادہ ترقی نہیں کرسکی، بلکہ اکیسویں صدی کے اختتام تک تدریجاً نہایت محدود ہوگئی- اس کی متعدد وجوہات ہیں:

۱- ۱۹۴۷ء میں تقسیم ہند کے بعد پاکستان وجود میں آیا اور مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ہجرت کر کے وہاں چلی گئی- اس تقسیم اور ہجرت کے نتیجے میں موجودہ ہندوستان کے مسلمان عددی طور پر اقلیت میں آگئے-

۲- مغلیہ سلطنت کے خاتمے کے بعد مسلمانوں پر جو سیاسی، معاشی اور تعلیمی زوال آیا، اسے ہر دور کی سیاست اور مسلمانوں کی داخلی کمزوریوں نے کبھی ختم ہونے کا موقع نہیں دیا- تقسیم ہند کے بعد مسلمانوں کی صورت حال اور بھی ابتر ہوگئی، جس کا بالواسطہ اثر مسلم صحافت پر بھی پڑا-

۳- تقسیم ہند سے پہلے متحدہ ہندوستان کی زبان اردو تھی، انگریزی سرکار کی عنایتوں سے جب ہندو مسلم کشمکش کا آغاز ہوا تو لسانی تعصبات کا دور شروع ہوا- پہلے فارسی کو ختم کرکے اردو کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی، جب اردو فروغ پا گئی توحکومت کے تعاون سے ہندی اور دوسری مقامی زبانوں کو ترجیح دی جانے لگی، کیوں کہ اردو مسلمانوں کی علمی، ادبی، ثقافتی اور صحافتی زبان بن گئی تھی، جب کہ ہندو اردو سے دھیرے دھیرے کنارہ کش ہو کر ہندی اور دوسری مقامی زبانوں کے فروغ کی کوششیں کر رہے تھے- اس لیے آزادی سے قبل ہندوتو اردو کے ساتھ دوسری زبانوں میں بھی اخبارات نکال رہے تھے، لیکن مسلمانوں کی صحافتی سرگرمیاں صرف اردو میں تھیں- اس صورت حال کا اثر یہ ہوا کہ اردو کو مسلمانوں کی زبان بنادیا گیا اور تقسیم ہند کے بعد ہندوستان کی قومی زبان ہندی قرار دے دی گئی- گویا مسلمانوں سے اچانک قوت گویائی چھین لی گئی اور انہیں گونگا بنادیا گیا، کیوں کہ وہ اردو کے علاوہ کسی اور زبان سے آشنا نہیں تھے-

۴- تقسیم ہند کے بعد غیر مسلم حکومتوں کی تعلیمی وزارت کی زیر نگرانی ابتدائی درجات سے اعلیٰ درجات تک جو تعلیمی نصاب ترتیب دیا گیا، اس میں اردو کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی- اس لیے ۱۹۴۷ء کے بعد جو نسلیں پڑھ کر نکلیں وہ عمومی طور پر اردو سے نابلد ہوتی گئیں اور اگر مسلمانوں کی اپنی کوششوں اور حکومتوں کی ووٹ بینک پالیسی کے تحت اردو میڈیم اسکول و کالج قائم بھی ہوئے تو ان کا نظام و نصاب اتنا کمزور تھا کہ وہاں سے نکلنے کے بعد معاشی خوشحالی کا تصور نہیں کیا جاسکتا تھا، اب بھی یہی صورت حال ہے، اس لیے مسلمان بھی اپنے بچوں کو عموماً اردو میڈیم سے تعلیم نہیں دلواتے- اس طرح موجودہ ہندوستان میں اردو معاشیات کی زبان نہ رہ کر صرف ادب کی زبان رہ گئی-اس کا اثر یہ ہوا کہ مسلمانوں کی نئی نسلیں بھی اردو سے ناواقف ہوگئیں- ۴۷ء کے بعد مسلم صحافت کا ذریعہ اظہار چوں کہ اردو ہی رہا، جس کے قارئین مسلمانوں میں بھی رفتہ رفتہ کم ہوتے چلے گئے- جو ہیں ان کا تعلق یا تو مذہبی حلقے سے ہے یا پھر اردوپسند حلقے سے-

۵- ۴۷ء کے بعد مسلم صحافت پر ملک کی نئی سیاسی و سماجی صورت حال اور نئے ماحول و مزاج کا کوئی اثر نہیں ہوا، وہ آزادی وطن سے پہلے جس طرح اردو میں تھی، آزادی کے بعد بھی (اردو کے اجنبی ماحول میں) بدستور اردو میں ہی رہی- مسلمانوں نے اپنی صحافت کو موٴثر اور مستحکم کرنے کے لیے نہ اس وقت دوسری زبانوں کا سہارا لیا اور نہ اب برقی صحافت کے موجودہ دور میں اپنی آواز اور مسائل کو حکومت اور عوام تک وسیع پیمانے پر پہنچانے کے لیے وہ اس طرف متوجہ ہیں- موجودہ ہندوستان میں مسلمانوں کے پاس نہ اپنا کوئی چینل ہے نہ انگریزی اور ہندی میں کوئی موٴثر اور کثیر الاشاعت اخبار- تعلیم کی کمی نے ان کی فکر کو اپنے روشن مستقبل سے بے نیاز کر رکھا ہے- دوسروں کے سہارے اپنی زندگی گزارتے گزارتے انہوں نے اپنی خود داری، عزت نفس اور قوت ارادی کو گروی رکھ دیا ہے-

۶- ۴۷ء کے بعد جتنی بھی حکومتیں آئیں انہوں نے مسلم صحافت یعنی اردو اخبارات کو عمداً نظرانداز کیا اور حکومتی سطح پر جس طرح کی مراعات اور سہولتیں دوسری زبانوں کی صحافت کو ملتی رہیں وہ مسلم صحافت کو نہیں مل سکی- اس صورت حال سے آج بھی مسلم صحافت دو چار ہے-

ان تمام اسباب و وجوہات کی بنیاد پر مسلم صحافت کی محدودیت کے باوجود کچھ اخبارات نے قومی اور ملی سطح پر نمایاں رول ادا کیا- ان میں روزنامہ قومی آواز دہلی و لکھنو، آزاد ہند کلکتہ، انقلاب ممبئی، سیاست حیدر آباد، منصف حیدرآباد، اخبار مشرق کلکتہ اوراردو ٹائمز ممبئی قابل ذکر ہیں، لیکن یہ تمام اخبارات جہاں جہاں سے نکل رہے تھے، ان ہی علاقوں اثر انداز تھے – قومی آواز کے علاوہ آج بھی یہ تمام اخبارات نکل رہے ہیں اور اپنے اپنے علاقوں میں مسلمانوں کی اردو ریڈرشپ کے درمیان بہت مقبول اور اثر انداز ہیں- ان کے درمیان ۷۰ء اور ۸۰ء کے دہے میں دو ایسے بھی اخبارات سامنے آئے جو اپنے اثرات اور ریڈرشپ کے اعتبار سے مذکورہ تمام اخباروں پر فوقیت لے گئے- ایک ”نئی دنیا“ اور دوسرا” اخبار نو“- اس کے تین اہم اسباب تھے: ایک تو یہ کہ یہ دونوں اخبارات ہفت روزہ تھے، جس کی وجہ سے پورے ملک میں پہنچتے تھے- دوسرا ان اخبارات میں مسلم مسائل کا تجزیہ اور ان پر تبصرہ خاص زاویے سے کیا جاتا تھا، جن میں وقتی جذباتیت، جوش وولولہ، احتجاج اور مظلومیت کا غلبہ رہتا تھا، تیسرا یہ کہ ۸۰ء اور ۹۰ء کے دہے میں مسلمانوں کے ایسے سیاسی اور سماجی مسائل سامنے آئے جن میں انہیں محسوس ہوا کہ ان کے مذہبی، سیاسی اور سماجی تشخصات اور وجود کو مٹانے کی کوششیں کی جارہی ہیں، وہ تھے، بابری مسجد کے تحفظ کا مسئلہ، شاہ بانو کیس میں مسلم پرسنل لاء کا تحفظ اور ہندو فرقہ واریت- اس عہد میں ان دونوں اخبارات نے آزاد ہندوستان میں مسلم صحافت کی تاریخ میں مقبولیت اور اثرات کا نیا ریکارڈ قائم کیا- لیکن مذکورہ مسائل جیسے جیسے سرد پڑتے گئے، مسلمانوں میں سیاسی اور فکری شعور بالغ ہوتا گیا اور اکیسویں صدی کے اختتام کے ساتھ ذرائع ابلاغ ایک نئے دور میں داخل ہوئی، اخبار نو اور نئی دنیا کی مقبولیت اور اثرات کا دائرہ سمٹتا چلا گیا-

جہاں تک روزناموں کی بات ہے تو اکیسویں صدی کے آغاز سے مذکورہ روزناموں نے انگریزی اور ہندی اخبارات کی طرز پر اپنے مشمولات کو زیادہ بامعنی اور چہروں کو رنگین بنالیا، لیکن یہ تبدیلیاں(اردو زبان کے انحطاط کی وجہ سے) ان کی مقبولیت میں بہت زیادہ اضافے کا باعث نہیں بن سکیں- اکیسویں صدی کے آغاز سے مسلم صحافت کے افق پر چند مزید روزناموں کا اضافہ بھی ہوا، تاہم ان کے سرکولیشن اور اثرات حوصلہ افزا نہیں ہیں-ان نئے اخبارات میں روزنامہ ”راشٹریہ سہارا“ دہلی استثنائی حیثیت کا حامل ہے، جو آزاد ہندوستان میں اپنی وسیع اشاعت، ملٹی ایڈیشنز اور مقبولیت کے اعتبار سے پہلا اخبار بن گیا ہے- حالانکہ یہ اخبار غیر مسلم کمپنی کی ملکیت میں ہے، لیکن مسلم صحافیوں کی زیر ادارت یہ مختلف شہروں سے اپنی تمام اشاعتوں میں جس طرح مسلمانوں کی حمایت و حق میں آواز بلند کرتا رہا ہے، محض مسلمانوں کی ملکیت نہ ہونے کی وجہ سے اسے مسلم صحافت کے زمرے سے خارج نہیں کیا جاسکتا ، بلکہ ملک گیر سطح پر اسے مسلمانوں کی آواز حق کا بڑا آرگن کہا جائے تو غلط نہ ہوگا-

 ۴۷ء کے بعد مسلم صحافت کے اس آخری دور میں اگر مذہبی صحافت کی بات کی جائے تو اس کی اشاعت و اثرات کو دیکھ کر بہت خوشی نہیں ہوتی- ۴۷ء سے قبل مذہبی صحافت کی جو داخلی اور خارجی صورت حال تھی، وہ ۴۷ء کے بعد مزید بگڑتی چلی گئی اور جو اہم مذہبی رسائل و جرائد تھے، وہ یا تو بند ہوگئے یا پھر تقسیم کے بعد پاکستان منتقل ہوگئے- وقت گزرنے کے ساتھ برصغیر کے مذہبی کینوس پر مسلکی تقسیم کا رنگ جب مزید گہرا ہوا تو مذہبی صحافت کا دائرہٴ اثر بھی بہت محدود ہوتا چلا گیا- اب ہمیں اگر مذہبی صحافت کی اشاعت، اثرات اور مشمولات کا جائزہ لینا ہو تو انہیں مسلکی خانوں میں تقسیم کر کے ہی لیا جاسکتا ہے- ۴۷ء کے بعد کی یہ تمام صورت حال کے باوجود اگر مذہبی صحافیوں نے اس کے داخلی عناصر پر توجہ دی ہوتی تو آج مذہبی صحافت کا رنگ ہی الگ ہوتا، کیوں کہ بقول شخصے دنیا میں دوہی چیزیں قابل فروخت ہیں، ایک جنسیات اور دوسری مذہبیات- دراصل انسان مجموعہ ہے جسم اور روح کا-اس کی جسمانی طلب کی انتہا اگر جنسی لذتوں کا حصول ہے تو روحانی تسکین کا ذریعہ مذہب-اس لیے مذہبی صحافت سے عوام کی عدم دلچسپی، اس کی محدود اشاعت، مختصر زندگی اور بے ثمری کا ٹھیکرا عوام اور صحافت کے ”مذہبی عنوان“ کے سر پھوڑنے کی بجائے اپنے رویوں پر غور کرنا چاہیے- اپنا محاسبہ انہیں یہ احساس ضرور دلائے گا کہ ہائی ٹیک ذرائع ابلاغ کی موجودہ صدی میں مذہبی رسائل کی پیش کش کا طریق کار کتنا پرانا ہے- سائنسی انقلاب کے ذریعے مادیت اور صارفیت کا جو سیلاب آیا ہے وہ مذہب، روحانیت اور انسانیت کو نگلنے کے لیے بے تاب ہے- جس سے معاشرے میں بے شمار جدید مسائل پیدا ہوگئے ہیں-ان جدید مسائل سے منہ پھیر کر مذہبی صحافت کے لیے جن موضوعات کا انتخاب کیا جارہا ہے، وہ کتنا غیر مفید اور بے فیض ہے-موجودہ صدی میں صحافت کو موٴثر ترین بنانے کے لیے ترسیل کی زبان کو دلچسپ، معروضی اور عام فہم بنانے کی کوشش تیز تر ہوتی جارہی ہے، جب کہ مذہبی صحافت کا اسلوب کتنا پیچیدہ اور فہم سے بالا تر ہے- مسلمانوں کی معاشی، تعلیمی اور سماجی مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے دور جاہلیت کے قبائل کی طرح فروعی مسائل پر طویل جنگ و جدال ان پر مستزاد-

مذہبی صحافت کے مذکورہ تمام مسائل کے ساتھ مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر میں کچھ رسائل ایسے بھی نکلے جو معاصر مذہبی رسائل میں اپنی تحریری، فکری اور علمی انفرادیت کی وجہ سے اپنے اپنے حلقوں میں مقبول ہوئے- ان میں اہل سنت و جماعت کا پندرہ روزہ ”جام کوثر“ کلکتہ ، ماہنامہ ”جام نور“ کلکتہ، ماہنامہ ”پاسبان“ الٰہ آباد اور ان کے بعد ماہنامہ ”حجاز جدید“ دہلی(۱۹۸۸ء) قابل ذکر ہیں-اول الذکر دونوں رسائل علامہ ارشدالقادری(۱۹۲۵ء/۲۰۰۲ء) کی زیر ادارت ۶۱/۱۹۶۰ء میں نکلے اور تین چار سالوں میں بند ہوگئے- اپنے مختصر عہد میں یہ دونوں رسائل اپنے مدیر کے اسلوب تحریر اور انداز فکر کی وجہ سے بے حد مقبول ہوئے- اسی طرح دیوبندی مکتب فکر کا ”الجمعیة“ دہلی اور ماہنامہ ”تجلی“ دیوبند-جماعت اسلامی کا سہ روزہ ”دعوت“ دہلی اور مولانا وحید الدین خان کا ”الرسالہ“ دہلی مذہبی معاصر رسائل و اخبارات میں نمایاں رہے-

 اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ صحافت خواہ وہ سیاسی ہو، ملی یا مذہبی، اپنے آپ میں کشش اور اثر اندازی کی صلاحیت رکھتی ہے-اس کے ذریعے وسیع پیمانے پر ذہن سازی، فکری تعمیر و ترقی، دعوت و تبلیغ اور اصلاحات کا ناقابل تنسیخ نقش معاشرے میں قائم کیا جاسکتا ہے- شرط یہ ہے کہ صحافت کو جبری اصول و نظام کی بجائے اس کے اپنے اصول اور تقاضوں کے تحت چلایا جائے-

سلفی دعوت: نرمی یا شدت؟(ایک مفید مناقشہ) از: شیخ‌البانی(رحمہ اللہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

                                                 السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

                                                            سلفی دعوت

 

                                                           نرمی یا شدت؟

                                                         (ایک مفید مناقشہ)

 

                              فضیلۃ الشیخ محمد ناصر الدین البانی (رحمہ اللہ علیہ)

ترجمہ

طارق علی بروہی

سائل: سلفی لوگ مشہور ہیں کہ ان میں بہت شدت پائی جاتی ہے اور رفق ونرمی کی بہت قلت ہوتی ہے، میری بھی یہی رائے ہے؟

الشیخ: کیا آپ بھی انہی میں سے ہیں؟

سائل: جی، میں امید کرتا ہوں (کہ میں انہی میں سے ہوں)۔

الشیخ: امید کرتے ہو کہ ان میں سے ہو، یعنی سلفی ہو؟

سائل: جی، بالکل۔

الشیخ: اچھی بات ہے، تو کیا آپ ان متشدد وشدت پسند سلفیوں میں سے ہیں؟

سائل: میں اپنے نفس کا تزکیہ(پارسائی) تو بیان نہیں کرسکتا۔۔۔

الشیخ: اس وقت معاملہ اپنی پارسائی بیان کرنے کا نہیں ہے بلکہ حقیقت حال بیان کرنے کا ہے۔ معاملہ تو وہ ہے جیسا کہ آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات نصیحت کا سبب ہو، لہذاجب میں نے آپ سے یہ دریافت کیا کہ کیاآپ بھی انہی متشدد سلفیوں میں سے ہیں؟ تو اس میں اپنے آپ کی پارسائی بیان کرنے کا معاملہ کہاں سے آگیا، کیونکہ اس وقت آپ ایک فی الواقع چیز کا بیان کررہے ہیں۔ جیسے اگر آپ مجھ سے یہی سوال کریں گے تو میں کہوں گا میرے خیال میں میں تو متشدد سلفیوں میں سے نہیں ہوں، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہيں کہ میں اپنے آپ کی پارسائی بیان کررہا ہوں بلکہ میں تو فی الواقع جو معاملہ ہے اس کا تذکرہ کررہا ہوں۔ تو ذرا اس بات پر غور کریں آپ۔

سائل: جی یا شیخ، جو آپ کا جواب ہے وہی میرا بھی جواب ہے۔

الشیخ: (اگر آپ سلفی کہلانے کے باوجود خود کو متشدد نہیں سمجھتے) تو اس کا مطلب ہوا کہ مطلقاً یہ کہنا کہ (سب) سلفی متشدد ہوتے ہیں صحیح نہیں، بلکہ صحیح یہ ہے کہ کہا جائے کہ ان میں سے بعض متشدد ہوتے ہیں۔ کیا یہاں تک بات واضح ہوگئی آپ پر؟

سائل: جی بالکل۔

الشیخ: چناچہ ہم یہ کہیں گے کہ بعض سلفی ہوتے ہیں کہ جن کے اسلوب میں کچھ شدت پائی جاتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ صفت صرف سلفیوں ہی کے ساتھ مخصوص ہے؟

السائل: نہیں تو۔۔

الشیخ: تو پھر یہ سوال پوچھنے کا کیا فائدہ ہوا؟! پہلی بات تو یہ ہوئی۔۔

اور دوسری بات یہ کہ: جس نرمی کی ہم بات کرتے ہیں کہ جسے اپنانا چاہیے، کیا وہ ہروقت وہرپل واجب ہے؟

السائل: نہیں ایسا تو نہیں۔۔

الشیخ: پس یہ ثابت ہوا کہ نہ آپ کے لئے اور نہ کسی اور کے لئے مندرجہ ذیل نتائج نکالنا جائز ہوگا:

1- نہ آپ کے لئے اور نہ کسی اور کے لئے یہ جائز ہوگا کہ آپ بعض مخصوص افراد کی صفت کو پوری جماعت پر چسپاں کردیں۔

2- آپ کے لئے یہ بھی جائز نہیں کہ آپ مطلقاً یہ صفت مسلمانوں کے کسی بھی فرد پر چسپاں کردیں خواہ وہ سلفی ہو یا (جیسا کہ ہم غیرسلفی منہج والوں کو کہتے ہیں)خلفی ہو، الا یہ کہ کسی معین معاملے میں اس نے تشدد برتا ہو۔ جبکہ ہم اس بات پر بھی متفق ہیں کہ ہمیشہ ہی نرمی کرتے رہنا بھی کوئی مشروع ومطلوب نہيں ہے۔ ہم تو پاتے ہیں کہ رسول اللہ نے کبھی کبھی ایسی شدت بھی اختیار کی کہ جو آج اگر کوئی سلفی کرے تو بیچارے کے خلاف لوگ شدید قسم کا احتجاج کریں گے۔ مثلاً آپ ابوالسنابل کا قصہ جانتے ہیں، آپ کو یاد ہے؟

سائل: نہیں۔

الشیخ: ایک عورت کا شوہر فوت ہوگیا جبکہ وہ حاملہ تھی، پس وفات کے بعد اس کا وضع حمل ہوگیا۔ اور اسے رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف سے یہ بات پہنچ چکی تھی کہ حاملہ عورت کا اگر شوہر فوت ہوجائے تو اس کی عدت وضع حمل ہے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ وضع حمل کے بعد انہوں نے زینت وسرما وغیرہ استعمال کیا کیونکہ وہ نکاح کے لئے حلال ہوچکی تھیں۔ انہیں ابو السنابل رضی اللہ عنہ نے دیکھ لیا، جبکہ ابوالسنابل نے پہلے انہیں نکاح کا پیغام بھیجا تھا توا نہوں نے منع کردیا تھا۔ ابوالسنابل نے انہیں کہا کہ: تیرے لئے نکاح حلال ہی نہيں جب تک تو وفات کی پوری عدت یعنی قاعدے کے مطابق چار ماہ اور دس دن نہ گزار لے[1]۔ جیسا کہ ظاہر ہوتا ہے وہ بہت پکی دین دار خاتون تھیں انہوں نے پردہ کیا اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم)کےپاس جاپہنچیں اور جو کچھ ابوالسنابل نے انہیں کہا تھا وہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)سے بیان کیا۔ اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)نے فرمایا: ‘‘كَذَبَ أَبُو السَّنَابِلِ’’[2] (ابوالسنابل جھوٹ بولتا ہے!)

کیا یہ شدت ہے یا نرمی ہے؟

سائل: جی یہ تو شدت ہے۔

الشیخ: (یہ شدت) کس کی طرف سے ہے؟ جو کہ سب سے بڑے شفیق ونرمی فرمانے والے ہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ﴾

(آل عمران: 159)

(اللہ تعالی کی رحمت سے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ان کے لئے بہت نرم وشفیق ہیں اور اگر آپ سخت دل وسخت مزاج ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے چھٹ جاتے)

پس ہم اس بات پر متفق ہوگئے ہیں کہ ہمیشہ نرمی برتنا کوئی مستقل قاعدہ ہے ہی نہیں (کہ جس کی پابندیکی جائے)۔

بلکہ ایک مسلمان سے جو مطلوب ہے وہ یہ کہ نرمی کو اس کے اپنے لائق مقام پر رکھےاور شدت یا سختی کو اس کے اپنے لائق مقام پر رکھے۔

اسی طرح سےمسند احمد میں ہے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)خطبہ ارشاد فرمارہے تھے تو صحابہ میں سے کسی نے کہا: ‘‘مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ’’ (جو کچھ اللہ اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)چاہیں) تو آپ نے (سختی سے اسے روک دیا) فرمایا: ‘‘أَ جَعَلْتَنِي لِلَّهِ نِدًّا’’[3] (کیا تو نے مجھے اللہ کے برابر والا بنادیا)

کیا یہ شدت ہے یا نرمی؟

سائل: یہ تو ایک بات کرنے کا ایک نبوی اسلوب ہے۔

الشیخ: اسے میں ڈگمگانے کا نام دیتا ہوں، یعنی جس طرح سے دوٹوک جواب آپ نے مجھے پہلے دیا کہ جب میں نے ابوالسنابل کی حدیث بیان کی آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)نے اسے کہا: ابو السنابل جھوٹ بولتا ہے، تو اس بارے میں آپ نے سیدھا جواب دیا یہ تو شدت ہے(مگر اب تھوڑی محتاط روش اختیار کررہے ہیں!)۔

سائل: چلیں صحیح ہے یہ بھی شدت ہے۔

الشیخ: اور یہ دوسری مثال ہوگئی، صحیح؟

سائل: دراصل نبی (صلی اللہ علیہ وسلم)نے اسے صرف بیان کیا تھا کہ : کیا تو نے مجھے اللہ کا برابر والا بنا دیا۔

الشیخ: یہی تو ڈگمگانا ہے- بارک اللہ فیک- کیونکہ میں نے آپ سے نہیں پوچھا کہ اسے بیان کیا وضاحت کی یا نہ کی، میں نے تو بس یہی پوچھا کہ شدت یا نرمی؟ تو اب کیوں آپ کا جواب دینے کا طرزعمل کچھ بدل

سا گیا ہے؟

پہلی مثال میں کہ ابو السنابل جھوٹ بولتا ہے اس کے بارے میں تو آپ نے نہیں کہا کہ یہ تو محض اسے بیان کرنے، وضاحت کرنے کے لئے تھا؟ ہم بھی مانتے ہیں کہ اسے وضاحت کی، بیان کیا مگر کیا وہ بیان نرمی سے تھا جیسا کہ ہم اس قاعدے پر متفق ہوئے تھے یا پھر شدت سے تھا؟

آپ نے بالکل دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا کہ یہ تو شدت ہے، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ اب اس دوسرے جواب میں آخر کیا چیز آپ کے سامنے ظاہر ہوئی جو پہلے نہ ہوئی تھی؟

سائل: کیونکہ دوسرے جواب میں نہیں کہا کہ جھوٹ بولتے ہو، بلکہ کہا کہ کیا تو نے مجھے اللہ تعالی کا برابر والا بنادیا۔

الشیخ: اللہ اکبر! یہ تو اس سے بھی بڑھ کر انکار ہے۔ بارک اللہ فیک۔

سامعین میں سے کسی نے کہا: یا شیخ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)نے ایک اور موقع پر صحیح مسلم میں ایک خطیب کو کہا: ‘‘بِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ’’ (تو کتنا برا خطیب ہے!)۔

الشیخ: بالکل، یہ تو ایک اور مثال ہوگئی، کیا آپ کو یہ حدیث یاد آئی؟

خطیب نے کہا: ‘‘يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَقَدْ غَوَى’’ (جس نےاللہ تعالی کی اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)کی اطاعت کی تو وہ ہدایت پاگیا، اور جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی تو وہ گمراہ ہوگیا) اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)نے فرمایا: ‘‘بِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ’’[4] (تو کتنا برا خطیب ہے!) کیا یہ شدت ہے یا نرمی؟

سائل: ہاں یہ تو شدت ہے۔

الشیخ: الغرض- بارک اللہ فیک- ایک اسلوب ہوتاہے نرمی کااور ایک اسلوب ہوتا ہے سختی کا۔ اور ہم اب اس بات پر متفق ہوگئے ہیں کہ یہ کوئی مستقل قاعدہ نہیں ہے کہ بس نرمی نرمی نرمی کئےجاؤ اور نہ ہی یہ کوئی مستقل قاعدہ ہے کہ سختی سختی سختی کئے جاؤ۔

سائل: جی۔

الشیخ: بلکہ کبھی ایسے کرو اور کبھی ویسے۔اب دیکھو کہ سلفیوں پر عمومی طور پر جو یہ تشدد کا بہتان لگایا جاتا ہے ، کیا آپ نہیں محسوس کرتے یہ بات کہ سلفی لوگ دوسرے فرقوں، جماعتوں اور تنظیموں سے بڑھ کر شرعی احکام کی معرفت اور اس کی جانب لوگوں کو دعوت دینے کا اہتمام کرتے ہیں؟

سائل: بلاشبہ۔

الشیخ: بلاشبہ۔ بارک اللہ فیک۔ تو پھر اس حیثیت سے کہ یہ لوگ دوسروں سے بڑھ کر ان باتوں کا اہتمام کرتے ہیں یہی سبب بن جاتا ہے ان کو شدت پسند کہنے کا، کیونکہ جو دوسرے لوگ ہیں وہ امربالمعروف ونہی عن المنکر (نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا) ہی کو شدت پسندی گردانتے ہیں خواہ وہ کتنے ہی نرمی سے کیا جائے بلکہ بعض تو کہہ دیتے ہیں اس کازمانہ گیا، اور بعض تو بالکل ہی حد سے تجاوز کرتے ہوئے یہ تک کہہ جاتے ہیں کہ آج توحید وشرک کا بیان کرنا امت کی صفوں میں انتشار کا باعث ہے۔

پس جس نتیجے تک میں آپ کے ساتھ پہنچنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ یہ مسئلہ ہر شخص کی اپنی نسبت کے لحاظ سے ہے۔ یعنی ایک انسان خود ہی دعوت کے بارے میں کوئی جذبہ نہیں رکھتا خصوصاً فروعی مسائل کی تحقیق جسے یہ لوگ القشور (چھلکے)[5] کا نام دیتے ہیں یا ثانوی امور کہتے ہیں۔ تو اس قسم کا شخص بھلے آپ کتنے ہی اچھے اور پیارے اسلوب سے دعوت یا ان مسائل پر تحقیق کریں وہ اسے شدت کا بے موقع استعمال ہی کا نام دے گا۔

اور جیسا کہ آپ ہماری طرح سلفی ہیں آپ کے لئے بھی یہ جائز نہیں کہ لوگوں میں یہ تاثر پھیلاتے پھریں کہ سلفی متشدد ہوتے ہیں اگرچہ ایسے بدظن لوگ اب تک کم ہی ہیں۔ کیونکہ ہم تو اس بات پر متفق ہوگئے ہیں کہ بعض متشدد ہوتے ہیں اور بعض نہیں، بلکہ یہ بات تو خود صحابہ کرام (صلی اللہ علیہ وسلم) میں بھی پائی جاتی تھی کہ ان میں سے کچھ نرم مزاج اور کچھ سخت مزاج تھے۔

شاید کہ آپ کو وہ اعرابی والا قصہ یاد ہوگا کہ اس نے مسجد میں آکر پیشاب کرنا شروع کردیا تھا، تویاد ہے اس پر صحابہ نے کیا ارادہ کیا تھا؟ اسے مارنے پیٹنے کاارادہ فرمایا تھا، کیا یہ نرمی ہے یا شدت؟

سائل: یہ تو شدت ہے۔

الشیخ: لیکن انہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)نے کیا فرمایا: ‘‘دَعُوهُ’’[6] (اسے چھوڑ دو، کرنے دو)

چناچہ یہ بات معلوم ہوئی کہ بہت کم ہی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو شدت سے مستقل طور پر بچ سکیں، لیکن حق بات تو یہی ہے کہ دعوت میں اصل اصول حکمت اور اچھے طور پر وعظ ونصیحت کرنا ہی ہے۔ اور حکمت کا یہ تقاضہ ہے کہ نرمی کو اس کے مقام پر رکھا جائے اور شدت کو اس کے مقام پر رکھا جائے(ناکہ ہمیشہ نرمی ہی کرتے رہنا)۔

لہذا میں نہیں سمجھتا کہ اس بات کا انصاف سے کوئی دور کا بھی واسطہ ہے، بلکہ شریعت سے بھی کوئی واسطہ نہیں کہ جو تمام اسلامی جماعتوں میں سب سے بہترجماعت ہو،اتباع کتاب وسنت اور جس چیز پر سلف صالحین تھے اس کی جانب سب سے زیادہ حریص ہو اسے متشدد کہا جائے۔ بلکہ انصاف تو یہ ہے کہ کہا جائے ان میں سے بعض ہوتے ہیں (اور یہ کوئی عیب تو نہیں) اور اس کا کون انکار کرسکتا ہے، جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تک میں بعض تشدد کو بے موقع استعمال کرجاتے تھے تو ہم جیسے خلف (لغوی معنی کے اعتبار سے خلف نہ کی خلفیوں کی طرح خلف) میں تو بالاولی ایسے متشدد پائے جائیں گے۔

چلیں اب ہم ایک معین شخص کی بات کرتے ہیں کہ وہ واقعی نرمی مزاج وشفیق ہے کیا وہ بھی کبھی نہ کبھی بے موقع شدت استعمال کرنے سے بچ سکتا ہے؟

سائل: ہرگز نہیں۔

الشیخ: تو پھر – بارک اللہ فیک – اس مسئلہ میں تو کوئی نزاع باقی ہی نہ رہا۔ ہمارے ذمہ تو صرف یہی باقی رہا کہ اگر ہم کسی شخص کو وعظ ونصیحت میں شدت استعمال کرتے ہوئے دیکھیں تو اسے نصیحت کریں اگر وہ سنبھل جائے تو بہتر ہے ورنہ ہوسکتا ہے کہ وہ اسے کسی خاص تناظر میں صحیح طور پر استعمال کررہا ہو جسے ہم نہیں جانتے تو وہ ہمیں بیان کردے گا اور معاملہ ختم ہوجائے گا۔

سائل: لیکن شیخ بہت سے سلفی شدت کا استعمال کرتے ہیں نرمی کا استعمال تو کرتے ہی نہیں، اور شدت کو بےموقع ہی استعمال کرتے ہیں جبکہ نرمی کو اس کے موقع محل پر بھی استعمال نہیں کرتے۔ اور یہ لوگ قلیل نہیں کہ ہم یہ کہہ دیں کہ ہر جماعت میں ایسے کچھ لوگ ہوتے ہیں بلکہ ایسے سلفی بہت کثیر تعداد میں ہیں۔ اور میں اپنے سوال میں سلفیوں کو دوسری جماعتوں پر قیاس نہیں کررہا ، مجھے دوسری جماعتوں سے کوئی سروکار نہیں۔ مجھے صرف اور صرف سلفیوں سے غرض ہے کہ ان میں سے شدت پسندی کرنے والے اور اپنے دشمنی والے اسلوب کی وجہ سے سلفی منہج سے لوگوں کو متنفر کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔میرا سوال سے یہی مقصود تھا کہ جسے محمد بھائی ریکارڈ بھی کررہے ہیں کہ آپ ایسے سلفیوں کو نصیحت کیجئے جوشدت پسندی اور تنگ دلی کا شکار ہیں، یہی اصل مقصود تھا۔

الشیخ: -بارک اللہ فیک۔ مجھ جیسا شخص کیا نصیحت کرے گا جبکہ سلفیوں اور غیرسلفیوں کو یہ آیت نصیحت کررہی ہے کہ:

﴿ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾

(النحل: 125)

(اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اوراچھے کلام کے ساتھ بلاؤ اور ان سے اس طور پر بحث مباحثہ کرو جو بہت احسن ہو)

اور یہ حدیث سب جانتے اور پڑھتے ہیں یعنی سیدہ عائشہ کا واقعہ کہ جب یہودی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)پر سلام کیا اپنی زبان کو ٹیڑھا کرتے ہوئے :السام علیکم کہا (یعنی تم پر موت ہو)۔ تو یہ ٹیڑھی زبان کے ساتھ کیا گیا سلام آپ رضی اللہ عنہا نے سن لیا تو پردے کے پیچھے انتہائی غصہ میں آگئی اور جیسا کہ بعض روایات کے الفاظ ہیں شدید غصہ میں گویا پھٹ پڑیں اور یہ جواب ارشاد فرمایا: ‘‘عَلَيْكُمُ السَّامُ، وَغَضِبُ اللَّهِ وَلَعْنَتُهُ، يَا إِخْوَةَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ’’[7] (تم پر موت، اللہ کا غضب اور لعنت ہو اے بندروں اورخنزیر کے بھائیوں) اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)نے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ‘‘وَعَلَيْكُمْ’’(تم پر بھی یہی ہو) سے زیادہ کچھ نہ فرمایا۔ جب وہ یہودی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)کے پاس سے چلا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس فعل پر نکیر کرتے ہوئے فرمایا کہ : ‘‘يا عائشة ما كان الرفق في شيء إلا زانه ، وما كان العنف في شيء إلا شانه’’[8] (اے عائشہ نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے خوشنما بنادیتی ہے اور سختی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے بدنما بنادیتی ہے) اس پر آپ نے فرمایا: ‘‘يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا ! قَالَ رَسُولُ اللَّهِ أَوَلَمْ تَسْمَعِي مَا قُلْتُ: وَعَلَيْكُمْ’’ (یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)کیا آپ نے سنا نہیں جو انہوں نے کہا، اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)نے فرمایا: اور کیا تم نے سنا نہیں جو میں نے جواب دیا، میں نے کہا: تم پر بھی ہو یعنی جو کچھ تم نے کہا وہی)

ملاحظہ کیجئے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جو اپنے لڑکپن سے ہی گھرانۂ نبوت ورسالت میں پلی بڑھی ان سے بھی نرمی کے موقع پر سختی ہوگئی تو پھر ہم ان سے کہیں درجہ کم تر سلفیوں کے بارے میں کیا کہیں گے جنہوں نےگھرانۂ نبوت ورسالت میں تو پرورش نہیں پائی بلکہ میں تو اب یہ بھی کہوں گا جو آپ نے شاید میری کسی کیسٹ میں سنا بھی ہو کہ آج عالم اسلام کی مصیبت جیسا کہ اصطلاح آجکل استعمال کرتے ہیں کہ” اسلامی بیداری” کے مقابلے میں یہ ہے کہ اس (نام نہاد) اسلامی بیداری کی صحیح اسلامی تربیت ہی مفقود ہے!۔

لہذا میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ اس علمی بیداری کے نتیجے میں ہونے والی اسلامی بیداری کی حدود میں پرورش پانے والی ان نسلوں پر تربیتی آثار کو ظاہر ہونے میں کافی طویل عرصہ لگے گا ۔

مگر یہ سب کچھ بعض افراد کے اپنے تصرفات واعمال ہیں جو اللہ تعالی کے رحمت کے سائے میں جی رہے ہیں کہ ان میں سے کوئی (صحیح دعوتی انداز کو اپنانے میں) قریب ہے تو کوئی بعید۔ اسی لئے فکری اور علمی زاویے سے آپ کو کوئی بھی ایسا نہیں ملے گا جو آپ پر اس بات پر جھگڑے کہ دعوت الی اللہ میں اصل اصول تو نرمی، اچھی بات وموعظت ہونی چاہیے لیکن جو بات اہمیت کی حامل ہے وہ اس کی عملی تطبیق ہے۔ اس تطبیق کے لئے کسی مربی ومرشد (استاد) کی ضرورت ہے جس کے تحت دسیوں طالبعلم تربیت پائيں اور وہ ان سے دست شفقت کے تحت تربیت پاکر فارغ ہوں اور پھر دوسروں کی اسی طرح سے تربیت کریں ۔ اور پھر اسی طرح سے صحیح اسلامی تربیت کی رفتہ رفتہ ترویج ہو۔

اور بلاشبہ یہ بات جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا آسان نہیں بلکہ:

﴿وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ﴾

(حم السجدۃ: 35)

(یہ خوبی تو نہیں ملتی مگر اسے جو صبر کرے اور یہ نہیں ملتی مگر اسے ہی جو بڑے نصیبوں والا ہو)

اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ وہ ہمیں امت وسط (میانہ رو امت) بنادے جو کسی افراط وتفریط کا شکار نہ ہو۔

سائل: جزاک اللہ خیرا ًیا شیخ۔

حاضرین میں سے کسی نے کہا: یا شیخ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب کوئی سنی سلفی کسی گھمنڈی ومتکبر بدعتی سے ملتا ہے تو جیسے اللہ تعالی نے سیدنا موسی علیہ السلام کو متکبر فرعون کے سامنے نرمی سے بات کرنے کا حکم فرمایا[9] اس کے باوجود سیدنا موسی علیہ السلام نے اسے یہ کہہ دیا تھا کہ:

﴿وَإِنِّي لَأَظُنُّكَ يَا فِرْعَوْنُ مَثْبُورًا﴾

(بنی اسرائیل: 102)

(اور مجھے لگتا ہے کہ اے فرعون تو یقینا ًہلاک وبرباد کیا گیا ہے)

یعنی یا شیخ ہم کالج میں پڑھتے ہیں اللہ کی قسم ڈاکٹریٹ تک کئے ہوئے لوگ ہمارا مذاق اڑاتے ہیں جب ہم کہتے ہیں کہ قال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)۔۔۔یعنی اگر انسان اپنے عمومی مزاج سے تھوڑا ہٹ کر ان کے ساتھ سختی برتے، جس شدت کو شاید اس موقع پر شدت نہیں کہا جائے گا، اور مجھے وہ مثال بہت اچھی لگتی ہے جو میں نے آپ سے ایک بار سنی تھی کہ:

قال الحائط للوتد لم تشقني قال سل من يدقني

(دیوار نے کیل سے کہا کیوں مجھ پر سختی کرتی ہو؟ کیل نے کہا اس سے پوچھو جو مجھے ٹھوک رہا ہے!)

الشیخ: صحیح۔

الشیخ: بہرحال اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ وہ ہمیں حکمت عطاء فرمائے کہ ہم ہر چیز کو اس کے اپنے مقام پر رکھنے والے بن جائیں۔

حاضرین میں سے کسی نے کہا: یا شیخ احکام الجنائز میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ جب انہوں نے کسی شخص سے کہا: ‘‘استغفروا لأخيكم’’ (اپنے بھائی کے لئے مغفرت کی دعاء کرو) تو اس نے کہا: ‘‘لا غفر الله له’’ (اللہ تعالی اسے نہ بخشے)

الشیخ: ان بہت سی مثالوں کے بعد ہمیں ابو عبداللہ بھائی نے ایک اور اثر یاد دلادیا کہ صحابہ میں سے کوئی شخص شاید کہ عبداللہ بن مسعود رضہ اللہ عنہ یا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ۔

حاضرین میں سے کسی نے بتایا: نہیں بلکہ خود عمر رضی اللہ عنہ تھے۔

الشیخ: کیا خود عمررضی اللہ عنہ ؟

حاضرین میں سےکسی نے کہا:جی خود عمر رضی اللہ عنہ نے کسی شخص کو کہا: ‘‘استغفروا لأخيكم’’ (اپنے بھائی کے لئے مغفرت کی دعاء کرو) تو اس نے کہا: ‘‘لا غفر الله له’’ (اللہ تعالی اسے نہ بخشے)

الشیخ : اب اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ۔ اگر تم مجھے ایسی بات کرتے ہوئے دیکھتے تو کہہ اٹھتے کہ شیخ متشدد ہیں۔ لیکن یہاں بھی وہی بات ہے کہ شریعت کے لئے غیرت کا آجانا جس کی وجہ سے الفاظ میں ایسی سختی ہوجائے، جبکہ دوسرے اس موقع کو ایسا نہیں سمجھے کہ اس انسان جیسی غیرت کا مظاہرے کرتے ہوئے ایسا سخت کلام کریں۔ اور ہمارے یہاں شام میں کہا جاتا ہے کہ : “شو هذه الشدة يا رسول الله” (یہ شدت دیکھیں اے اللہ کے رسول ) اور یہ شامی لہجہ بالکل غلط ہے، کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)سے ایسے مخاطب ہوتے ہیں! یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کلام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے صادر ہوا حالانکہ یہ کلام تو اس شخص کا تھا۔ سبحان اللہ! اسی لیے ایک شخص کو چاہیے کہ اس مسئلہ کے تمام جوانب پر غوروفکر کرکے ہی کوئی نتیجہ نکالے تاکہ اس کا حکم مکمل عدل پر مبنی ہو۔

پھر ابھی ابھی میرے دل میں ایک اور بات آئی کہ اگر اسے تہمت کہنا درست ہو تو اس تہمت (کہ سلفی متشدد ہوتے ہیں)کے پھیلنے کے اسباب میں سے یہ بھی ہے کہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ جو باکثرت کلام کرتا ہے اس کی خطاء بھی زیادہ ہوجاتی ہیں۔ پس جب شرعی مسائل پر کلام کرنے والے ہوتے ہی سلفی ہیں (دوسرے تو صحیح عقیدے، شرک، سنت وبدعت کی اتنی بات کرتے ہی کہاں ہیں) تو ظاہر ہے ان کی غلطیاں بھی کثرت سے ہوجاتی ہیں۔ وہ کوئی بات نہیں کرتے مگر فوراً ان کی غلطیاں نمایاں ہوکر لوگوں کو دکھنے لگتی ہیں۔ اور انہی غلطیوں میں سے وہ شدت ہے جو ان لوگوں میں نہیں جو ان مسائل میں پڑتے ہی نہیں ، حالانکہ اگر یہ لوگ انصاف کی نظر سے اس شدت کو جو عمومی طور پر ان سے صادر ہوتی ہے دیکھیں تو وہ ان کے عدل وانصاف اور نرمی سے نصیحت کرنے کے مقابل میں ایسی ہی ہوگی جیسے بعض سلف سے اور امام الانبیاء علیہم السلام سے ہم نے کچھ مثالیں بیان کی جس میں شدت تھی۔ لیکن اس کبھی کبھار کی شدت کی وجہ سے ہمارے لیے جائز نہیں کہ ہم ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر جو کسی مخصوص جزئی معاملے میں شدت برت جاتے تھے شدت پسند ی کا مستقل حکم لگا دیں۔ بلکہ یہ تو وہ شدت ہے جس میں کبھی بھی میں، آپ اور دوسرے لوگ پڑتے رہتے ہیں۔

والحمد الله والصلاة والسلام على رسول الله

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حواشی:

[1]: اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ﴿وَأُولاتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾ (الطلاق: 4) (اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ وہ وضع حمل کرلیں) (ط ع)

[2]: صحیح بخاری 3991 اور ” كَذَبَ أَبُو السَّنَابِلِ” کے الفاظ مسند احمد 4261 کے ہيں۔ (ط ع)

[3]: مسند احمد 1842، 2557 میں “أَجَعَلْتَنِي لِلَّهِ عَدْلًا” کے الفاظ ہیں، احمد شاکر نے صحیح کہا 3/253 ۔البتہ ” أَ جَعَلْتَنِي لِلَّهِ نِدًّا ” کے الفاظ بھی صحیح ہیں دیکھیں تحذیر الساجد للالبانی ص 145۔ پھر آگے فرمایا کہ: “بَلْ مَا شَاءَ اللَّهُ وَحْدَهُ ” (بلکہ کہہ کہ جو اکیلا اللہ تعالی چاہے) (ط ع)

[4]: صحیح مسلم 873، اسی حدیث میں آگے فرمایا: “قُلْ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ” (بلکہ کہو جو اللہ تعالی کی اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وعلیہ وسلم) کی نافرمانی کرے تو۔۔) یعنی اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وعلیہ وسلم) کو ایک ہی ضمیر میں جمع نہ کرو۔ (ط ع)

[5]: یہ خاص اصطلاح ہے جو اخوان المسلمین اور جماعت اسلامی قسم کی جماعتیں استعمال کرتی ہیں کہ دین کی تقسیم لب اور قشور یعنی پھل کے اصل گودے اور اس کے اوپر کے چھلکے سے کررکھی ہے۔ لہذا ان کے نزدیک لب بڑے بڑے اہم احکام ہیں جیسے اقامت دین، خلافت، سیاست، معیشت وغیرہ وغیرہ، اور قشور ثانوی اور کسی قدر قابل نظر انداز احکام جیسے خاص طریقے سے نماز پڑھنا، ظاہری وضع قطع جیسے داڑھی رکھنا، ٹخنوں سے اونچے پائنچے کرنا وغیرہ ہیں۔ جیسے استاد مودودی کہتے ہیں: (داڑھی، رفع الیدین، آمین بالجہر پر زور دینا بدعت ہے تحریف دین ہے۔عادت رسول ہے سنت نہیں)۔ (رسائل ومسائل ج 1 ص 189، ترجمان قرآن مئی جون 1945ع)) بلکہ اس سے بڑھ کر ارکان اسلام تک ان کے نزدیک خلافت والے بڑے مقصد کا محض تربیتی کورس ہیں(مجلہ کوثر9 فروری، 1991ع)۔ شیخ البانی رحمہ اللہ کی اس پر ایک مکمل تقریر بھی ہے “لاقشور فی الاسلام” (اسلام میں یہ تقسیم اہم وغیراہم کی کوئی حقیقت نہیں)۔ بلکہ اپنے فتاوی میں دوسرے مقام پر فرماتے ہیں خود پھل کے اصل گودے کی حفاظت اس کے چھلکے سے ہی ہوتی ہے ورنہ وہ پھل جسے وہ اصل اسلام کہہ رہے ہیں سڑ جاتا ہے!۔ (ط ع)

[6]: صحیح بخاری 6128، صحیح مسلم 286 پھر آپ (صلی اللہ علیہ وعلیہ وسلم)نے اس نجاست پر پانی کا ڈول بہا دینے کا حکم ارشاد فرمایا۔ (ط ع)

[7]: صحیح بخاری 6024 اور صحیح مسلم 2167، بخاری 6030 میں اور مسند اسحاق بن راھویہ 1685 میں ہے کہ: اللہ تعالی ان کی بددعاء ہمارے خلاف قبول نہیں کرے گا لیکن ہماری تو ان کے خلاف قبول فرمالے گا۔ (ط ع)

[8]: صحیح مسلم 2597 کے الفاظ ہیں: “إِنَّ الرِّفْقَ لَا يَكُونُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ، وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ” (بے شک نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے زینت بخشتی ہے، اور جس چیز سے بھی اٹھا لی جاتی ہے اسے بدنما کردیتی ہے)

[9]:

(طہ: 44) (تم دونوں(موسی وہارون علیہم السلام ) اس (فرعون) سے نرمی سے بات کرنا ہوسکتا ہے کہ وہ نصیحت حاصل کرے یا (اللہ سے) ڈر جائے) (ط ع) اس آیت کی جانب اشارہ ہے

بلیک واٹر اور بکس

اگر مارشل لاء نہیں تو پھر نیشنل گارڈز

اگر مارشل لاء نہیں تو پھر نیشنل گارڈز

اگر مارشل لاء نہیں تو پھر نیشنل گارڈز

حماس کمانڈر کا قتل مگر اس بار۔۔۔۔

حماس کمانڈر کا قتل مگر اس بار۔۔۔۔

حماس کمانڈر کا قتل مگر اس بار۔۔۔۔