سلفی دعوت: نرمی یا شدت؟(ایک مفید مناقشہ) از: شیخ‌البانی(رحمہ اللہ

by Ahmed ansari


بسم اللہ الرحمن الرحیم

                                                 السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

                                                            سلفی دعوت

 

                                                           نرمی یا شدت؟

                                                         (ایک مفید مناقشہ)

 

                              فضیلۃ الشیخ محمد ناصر الدین البانی (رحمہ اللہ علیہ)

ترجمہ

طارق علی بروہی

سائل: سلفی لوگ مشہور ہیں کہ ان میں بہت شدت پائی جاتی ہے اور رفق ونرمی کی بہت قلت ہوتی ہے، میری بھی یہی رائے ہے؟

الشیخ: کیا آپ بھی انہی میں سے ہیں؟

سائل: جی، میں امید کرتا ہوں (کہ میں انہی میں سے ہوں)۔

الشیخ: امید کرتے ہو کہ ان میں سے ہو، یعنی سلفی ہو؟

سائل: جی، بالکل۔

الشیخ: اچھی بات ہے، تو کیا آپ ان متشدد وشدت پسند سلفیوں میں سے ہیں؟

سائل: میں اپنے نفس کا تزکیہ(پارسائی) تو بیان نہیں کرسکتا۔۔۔

الشیخ: اس وقت معاملہ اپنی پارسائی بیان کرنے کا نہیں ہے بلکہ حقیقت حال بیان کرنے کا ہے۔ معاملہ تو وہ ہے جیسا کہ آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات نصیحت کا سبب ہو، لہذاجب میں نے آپ سے یہ دریافت کیا کہ کیاآپ بھی انہی متشدد سلفیوں میں سے ہیں؟ تو اس میں اپنے آپ کی پارسائی بیان کرنے کا معاملہ کہاں سے آگیا، کیونکہ اس وقت آپ ایک فی الواقع چیز کا بیان کررہے ہیں۔ جیسے اگر آپ مجھ سے یہی سوال کریں گے تو میں کہوں گا میرے خیال میں میں تو متشدد سلفیوں میں سے نہیں ہوں، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہيں کہ میں اپنے آپ کی پارسائی بیان کررہا ہوں بلکہ میں تو فی الواقع جو معاملہ ہے اس کا تذکرہ کررہا ہوں۔ تو ذرا اس بات پر غور کریں آپ۔

سائل: جی یا شیخ، جو آپ کا جواب ہے وہی میرا بھی جواب ہے۔

الشیخ: (اگر آپ سلفی کہلانے کے باوجود خود کو متشدد نہیں سمجھتے) تو اس کا مطلب ہوا کہ مطلقاً یہ کہنا کہ (سب) سلفی متشدد ہوتے ہیں صحیح نہیں، بلکہ صحیح یہ ہے کہ کہا جائے کہ ان میں سے بعض متشدد ہوتے ہیں۔ کیا یہاں تک بات واضح ہوگئی آپ پر؟

سائل: جی بالکل۔

الشیخ: چناچہ ہم یہ کہیں گے کہ بعض سلفی ہوتے ہیں کہ جن کے اسلوب میں کچھ شدت پائی جاتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ صفت صرف سلفیوں ہی کے ساتھ مخصوص ہے؟

السائل: نہیں تو۔۔

الشیخ: تو پھر یہ سوال پوچھنے کا کیا فائدہ ہوا؟! پہلی بات تو یہ ہوئی۔۔

اور دوسری بات یہ کہ: جس نرمی کی ہم بات کرتے ہیں کہ جسے اپنانا چاہیے، کیا وہ ہروقت وہرپل واجب ہے؟

السائل: نہیں ایسا تو نہیں۔۔

الشیخ: پس یہ ثابت ہوا کہ نہ آپ کے لئے اور نہ کسی اور کے لئے مندرجہ ذیل نتائج نکالنا جائز ہوگا:

1- نہ آپ کے لئے اور نہ کسی اور کے لئے یہ جائز ہوگا کہ آپ بعض مخصوص افراد کی صفت کو پوری جماعت پر چسپاں کردیں۔

2- آپ کے لئے یہ بھی جائز نہیں کہ آپ مطلقاً یہ صفت مسلمانوں کے کسی بھی فرد پر چسپاں کردیں خواہ وہ سلفی ہو یا (جیسا کہ ہم غیرسلفی منہج والوں کو کہتے ہیں)خلفی ہو، الا یہ کہ کسی معین معاملے میں اس نے تشدد برتا ہو۔ جبکہ ہم اس بات پر بھی متفق ہیں کہ ہمیشہ ہی نرمی کرتے رہنا بھی کوئی مشروع ومطلوب نہيں ہے۔ ہم تو پاتے ہیں کہ رسول اللہ نے کبھی کبھی ایسی شدت بھی اختیار کی کہ جو آج اگر کوئی سلفی کرے تو بیچارے کے خلاف لوگ شدید قسم کا احتجاج کریں گے۔ مثلاً آپ ابوالسنابل کا قصہ جانتے ہیں، آپ کو یاد ہے؟

سائل: نہیں۔

الشیخ: ایک عورت کا شوہر فوت ہوگیا جبکہ وہ حاملہ تھی، پس وفات کے بعد اس کا وضع حمل ہوگیا۔ اور اسے رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف سے یہ بات پہنچ چکی تھی کہ حاملہ عورت کا اگر شوہر فوت ہوجائے تو اس کی عدت وضع حمل ہے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ وضع حمل کے بعد انہوں نے زینت وسرما وغیرہ استعمال کیا کیونکہ وہ نکاح کے لئے حلال ہوچکی تھیں۔ انہیں ابو السنابل رضی اللہ عنہ نے دیکھ لیا، جبکہ ابوالسنابل نے پہلے انہیں نکاح کا پیغام بھیجا تھا توا نہوں نے منع کردیا تھا۔ ابوالسنابل نے انہیں کہا کہ: تیرے لئے نکاح حلال ہی نہيں جب تک تو وفات کی پوری عدت یعنی قاعدے کے مطابق چار ماہ اور دس دن نہ گزار لے[1]۔ جیسا کہ ظاہر ہوتا ہے وہ بہت پکی دین دار خاتون تھیں انہوں نے پردہ کیا اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم)کےپاس جاپہنچیں اور جو کچھ ابوالسنابل نے انہیں کہا تھا وہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)سے بیان کیا۔ اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)نے فرمایا: ‘‘كَذَبَ أَبُو السَّنَابِلِ’’[2] (ابوالسنابل جھوٹ بولتا ہے!)

کیا یہ شدت ہے یا نرمی ہے؟

سائل: جی یہ تو شدت ہے۔

الشیخ: (یہ شدت) کس کی طرف سے ہے؟ جو کہ سب سے بڑے شفیق ونرمی فرمانے والے ہیں، اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ﴾

(آل عمران: 159)

(اللہ تعالی کی رحمت سے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ان کے لئے بہت نرم وشفیق ہیں اور اگر آپ سخت دل وسخت مزاج ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے چھٹ جاتے)

پس ہم اس بات پر متفق ہوگئے ہیں کہ ہمیشہ نرمی برتنا کوئی مستقل قاعدہ ہے ہی نہیں (کہ جس کی پابندیکی جائے)۔

بلکہ ایک مسلمان سے جو مطلوب ہے وہ یہ کہ نرمی کو اس کے اپنے لائق مقام پر رکھےاور شدت یا سختی کو اس کے اپنے لائق مقام پر رکھے۔

اسی طرح سےمسند احمد میں ہے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)خطبہ ارشاد فرمارہے تھے تو صحابہ میں سے کسی نے کہا: ‘‘مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ’’ (جو کچھ اللہ اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)چاہیں) تو آپ نے (سختی سے اسے روک دیا) فرمایا: ‘‘أَ جَعَلْتَنِي لِلَّهِ نِدًّا’’[3] (کیا تو نے مجھے اللہ کے برابر والا بنادیا)

کیا یہ شدت ہے یا نرمی؟

سائل: یہ تو ایک بات کرنے کا ایک نبوی اسلوب ہے۔

الشیخ: اسے میں ڈگمگانے کا نام دیتا ہوں، یعنی جس طرح سے دوٹوک جواب آپ نے مجھے پہلے دیا کہ جب میں نے ابوالسنابل کی حدیث بیان کی آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)نے اسے کہا: ابو السنابل جھوٹ بولتا ہے، تو اس بارے میں آپ نے سیدھا جواب دیا یہ تو شدت ہے(مگر اب تھوڑی محتاط روش اختیار کررہے ہیں!)۔

سائل: چلیں صحیح ہے یہ بھی شدت ہے۔

الشیخ: اور یہ دوسری مثال ہوگئی، صحیح؟

سائل: دراصل نبی (صلی اللہ علیہ وسلم)نے اسے صرف بیان کیا تھا کہ : کیا تو نے مجھے اللہ کا برابر والا بنا دیا۔

الشیخ: یہی تو ڈگمگانا ہے- بارک اللہ فیک- کیونکہ میں نے آپ سے نہیں پوچھا کہ اسے بیان کیا وضاحت کی یا نہ کی، میں نے تو بس یہی پوچھا کہ شدت یا نرمی؟ تو اب کیوں آپ کا جواب دینے کا طرزعمل کچھ بدل

سا گیا ہے؟

پہلی مثال میں کہ ابو السنابل جھوٹ بولتا ہے اس کے بارے میں تو آپ نے نہیں کہا کہ یہ تو محض اسے بیان کرنے، وضاحت کرنے کے لئے تھا؟ ہم بھی مانتے ہیں کہ اسے وضاحت کی، بیان کیا مگر کیا وہ بیان نرمی سے تھا جیسا کہ ہم اس قاعدے پر متفق ہوئے تھے یا پھر شدت سے تھا؟

آپ نے بالکل دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا کہ یہ تو شدت ہے، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ اب اس دوسرے جواب میں آخر کیا چیز آپ کے سامنے ظاہر ہوئی جو پہلے نہ ہوئی تھی؟

سائل: کیونکہ دوسرے جواب میں نہیں کہا کہ جھوٹ بولتے ہو، بلکہ کہا کہ کیا تو نے مجھے اللہ تعالی کا برابر والا بنادیا۔

الشیخ: اللہ اکبر! یہ تو اس سے بھی بڑھ کر انکار ہے۔ بارک اللہ فیک۔

سامعین میں سے کسی نے کہا: یا شیخ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)نے ایک اور موقع پر صحیح مسلم میں ایک خطیب کو کہا: ‘‘بِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ’’ (تو کتنا برا خطیب ہے!)۔

الشیخ: بالکل، یہ تو ایک اور مثال ہوگئی، کیا آپ کو یہ حدیث یاد آئی؟

خطیب نے کہا: ‘‘يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَقَدْ غَوَى’’ (جس نےاللہ تعالی کی اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)کی اطاعت کی تو وہ ہدایت پاگیا، اور جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی تو وہ گمراہ ہوگیا) اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)نے فرمایا: ‘‘بِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ’’[4] (تو کتنا برا خطیب ہے!) کیا یہ شدت ہے یا نرمی؟

سائل: ہاں یہ تو شدت ہے۔

الشیخ: الغرض- بارک اللہ فیک- ایک اسلوب ہوتاہے نرمی کااور ایک اسلوب ہوتا ہے سختی کا۔ اور ہم اب اس بات پر متفق ہوگئے ہیں کہ یہ کوئی مستقل قاعدہ نہیں ہے کہ بس نرمی نرمی نرمی کئےجاؤ اور نہ ہی یہ کوئی مستقل قاعدہ ہے کہ سختی سختی سختی کئے جاؤ۔

سائل: جی۔

الشیخ: بلکہ کبھی ایسے کرو اور کبھی ویسے۔اب دیکھو کہ سلفیوں پر عمومی طور پر جو یہ تشدد کا بہتان لگایا جاتا ہے ، کیا آپ نہیں محسوس کرتے یہ بات کہ سلفی لوگ دوسرے فرقوں، جماعتوں اور تنظیموں سے بڑھ کر شرعی احکام کی معرفت اور اس کی جانب لوگوں کو دعوت دینے کا اہتمام کرتے ہیں؟

سائل: بلاشبہ۔

الشیخ: بلاشبہ۔ بارک اللہ فیک۔ تو پھر اس حیثیت سے کہ یہ لوگ دوسروں سے بڑھ کر ان باتوں کا اہتمام کرتے ہیں یہی سبب بن جاتا ہے ان کو شدت پسند کہنے کا، کیونکہ جو دوسرے لوگ ہیں وہ امربالمعروف ونہی عن المنکر (نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا) ہی کو شدت پسندی گردانتے ہیں خواہ وہ کتنے ہی نرمی سے کیا جائے بلکہ بعض تو کہہ دیتے ہیں اس کازمانہ گیا، اور بعض تو بالکل ہی حد سے تجاوز کرتے ہوئے یہ تک کہہ جاتے ہیں کہ آج توحید وشرک کا بیان کرنا امت کی صفوں میں انتشار کا باعث ہے۔

پس جس نتیجے تک میں آپ کے ساتھ پہنچنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ یہ مسئلہ ہر شخص کی اپنی نسبت کے لحاظ سے ہے۔ یعنی ایک انسان خود ہی دعوت کے بارے میں کوئی جذبہ نہیں رکھتا خصوصاً فروعی مسائل کی تحقیق جسے یہ لوگ القشور (چھلکے)[5] کا نام دیتے ہیں یا ثانوی امور کہتے ہیں۔ تو اس قسم کا شخص بھلے آپ کتنے ہی اچھے اور پیارے اسلوب سے دعوت یا ان مسائل پر تحقیق کریں وہ اسے شدت کا بے موقع استعمال ہی کا نام دے گا۔

اور جیسا کہ آپ ہماری طرح سلفی ہیں آپ کے لئے بھی یہ جائز نہیں کہ لوگوں میں یہ تاثر پھیلاتے پھریں کہ سلفی متشدد ہوتے ہیں اگرچہ ایسے بدظن لوگ اب تک کم ہی ہیں۔ کیونکہ ہم تو اس بات پر متفق ہوگئے ہیں کہ بعض متشدد ہوتے ہیں اور بعض نہیں، بلکہ یہ بات تو خود صحابہ کرام (صلی اللہ علیہ وسلم) میں بھی پائی جاتی تھی کہ ان میں سے کچھ نرم مزاج اور کچھ سخت مزاج تھے۔

شاید کہ آپ کو وہ اعرابی والا قصہ یاد ہوگا کہ اس نے مسجد میں آکر پیشاب کرنا شروع کردیا تھا، تویاد ہے اس پر صحابہ نے کیا ارادہ کیا تھا؟ اسے مارنے پیٹنے کاارادہ فرمایا تھا، کیا یہ نرمی ہے یا شدت؟

سائل: یہ تو شدت ہے۔

الشیخ: لیکن انہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)نے کیا فرمایا: ‘‘دَعُوهُ’’[6] (اسے چھوڑ دو، کرنے دو)

چناچہ یہ بات معلوم ہوئی کہ بہت کم ہی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو شدت سے مستقل طور پر بچ سکیں، لیکن حق بات تو یہی ہے کہ دعوت میں اصل اصول حکمت اور اچھے طور پر وعظ ونصیحت کرنا ہی ہے۔ اور حکمت کا یہ تقاضہ ہے کہ نرمی کو اس کے مقام پر رکھا جائے اور شدت کو اس کے مقام پر رکھا جائے(ناکہ ہمیشہ نرمی ہی کرتے رہنا)۔

لہذا میں نہیں سمجھتا کہ اس بات کا انصاف سے کوئی دور کا بھی واسطہ ہے، بلکہ شریعت سے بھی کوئی واسطہ نہیں کہ جو تمام اسلامی جماعتوں میں سب سے بہترجماعت ہو،اتباع کتاب وسنت اور جس چیز پر سلف صالحین تھے اس کی جانب سب سے زیادہ حریص ہو اسے متشدد کہا جائے۔ بلکہ انصاف تو یہ ہے کہ کہا جائے ان میں سے بعض ہوتے ہیں (اور یہ کوئی عیب تو نہیں) اور اس کا کون انکار کرسکتا ہے، جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تک میں بعض تشدد کو بے موقع استعمال کرجاتے تھے تو ہم جیسے خلف (لغوی معنی کے اعتبار سے خلف نہ کی خلفیوں کی طرح خلف) میں تو بالاولی ایسے متشدد پائے جائیں گے۔

چلیں اب ہم ایک معین شخص کی بات کرتے ہیں کہ وہ واقعی نرمی مزاج وشفیق ہے کیا وہ بھی کبھی نہ کبھی بے موقع شدت استعمال کرنے سے بچ سکتا ہے؟

سائل: ہرگز نہیں۔

الشیخ: تو پھر – بارک اللہ فیک – اس مسئلہ میں تو کوئی نزاع باقی ہی نہ رہا۔ ہمارے ذمہ تو صرف یہی باقی رہا کہ اگر ہم کسی شخص کو وعظ ونصیحت میں شدت استعمال کرتے ہوئے دیکھیں تو اسے نصیحت کریں اگر وہ سنبھل جائے تو بہتر ہے ورنہ ہوسکتا ہے کہ وہ اسے کسی خاص تناظر میں صحیح طور پر استعمال کررہا ہو جسے ہم نہیں جانتے تو وہ ہمیں بیان کردے گا اور معاملہ ختم ہوجائے گا۔

سائل: لیکن شیخ بہت سے سلفی شدت کا استعمال کرتے ہیں نرمی کا استعمال تو کرتے ہی نہیں، اور شدت کو بےموقع ہی استعمال کرتے ہیں جبکہ نرمی کو اس کے موقع محل پر بھی استعمال نہیں کرتے۔ اور یہ لوگ قلیل نہیں کہ ہم یہ کہہ دیں کہ ہر جماعت میں ایسے کچھ لوگ ہوتے ہیں بلکہ ایسے سلفی بہت کثیر تعداد میں ہیں۔ اور میں اپنے سوال میں سلفیوں کو دوسری جماعتوں پر قیاس نہیں کررہا ، مجھے دوسری جماعتوں سے کوئی سروکار نہیں۔ مجھے صرف اور صرف سلفیوں سے غرض ہے کہ ان میں سے شدت پسندی کرنے والے اور اپنے دشمنی والے اسلوب کی وجہ سے سلفی منہج سے لوگوں کو متنفر کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔میرا سوال سے یہی مقصود تھا کہ جسے محمد بھائی ریکارڈ بھی کررہے ہیں کہ آپ ایسے سلفیوں کو نصیحت کیجئے جوشدت پسندی اور تنگ دلی کا شکار ہیں، یہی اصل مقصود تھا۔

الشیخ: -بارک اللہ فیک۔ مجھ جیسا شخص کیا نصیحت کرے گا جبکہ سلفیوں اور غیرسلفیوں کو یہ آیت نصیحت کررہی ہے کہ:

﴿ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾

(النحل: 125)

(اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اوراچھے کلام کے ساتھ بلاؤ اور ان سے اس طور پر بحث مباحثہ کرو جو بہت احسن ہو)

اور یہ حدیث سب جانتے اور پڑھتے ہیں یعنی سیدہ عائشہ کا واقعہ کہ جب یہودی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)پر سلام کیا اپنی زبان کو ٹیڑھا کرتے ہوئے :السام علیکم کہا (یعنی تم پر موت ہو)۔ تو یہ ٹیڑھی زبان کے ساتھ کیا گیا سلام آپ رضی اللہ عنہا نے سن لیا تو پردے کے پیچھے انتہائی غصہ میں آگئی اور جیسا کہ بعض روایات کے الفاظ ہیں شدید غصہ میں گویا پھٹ پڑیں اور یہ جواب ارشاد فرمایا: ‘‘عَلَيْكُمُ السَّامُ، وَغَضِبُ اللَّهِ وَلَعْنَتُهُ، يَا إِخْوَةَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ’’[7] (تم پر موت، اللہ کا غضب اور لعنت ہو اے بندروں اورخنزیر کے بھائیوں) اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)نے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ‘‘وَعَلَيْكُمْ’’(تم پر بھی یہی ہو) سے زیادہ کچھ نہ فرمایا۔ جب وہ یہودی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)کے پاس سے چلا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس فعل پر نکیر کرتے ہوئے فرمایا کہ : ‘‘يا عائشة ما كان الرفق في شيء إلا زانه ، وما كان العنف في شيء إلا شانه’’[8] (اے عائشہ نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے خوشنما بنادیتی ہے اور سختی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے بدنما بنادیتی ہے) اس پر آپ نے فرمایا: ‘‘يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا ! قَالَ رَسُولُ اللَّهِ أَوَلَمْ تَسْمَعِي مَا قُلْتُ: وَعَلَيْكُمْ’’ (یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)کیا آپ نے سنا نہیں جو انہوں نے کہا، اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)نے فرمایا: اور کیا تم نے سنا نہیں جو میں نے جواب دیا، میں نے کہا: تم پر بھی ہو یعنی جو کچھ تم نے کہا وہی)

ملاحظہ کیجئے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جو اپنے لڑکپن سے ہی گھرانۂ نبوت ورسالت میں پلی بڑھی ان سے بھی نرمی کے موقع پر سختی ہوگئی تو پھر ہم ان سے کہیں درجہ کم تر سلفیوں کے بارے میں کیا کہیں گے جنہوں نےگھرانۂ نبوت ورسالت میں تو پرورش نہیں پائی بلکہ میں تو اب یہ بھی کہوں گا جو آپ نے شاید میری کسی کیسٹ میں سنا بھی ہو کہ آج عالم اسلام کی مصیبت جیسا کہ اصطلاح آجکل استعمال کرتے ہیں کہ” اسلامی بیداری” کے مقابلے میں یہ ہے کہ اس (نام نہاد) اسلامی بیداری کی صحیح اسلامی تربیت ہی مفقود ہے!۔

لہذا میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ اس علمی بیداری کے نتیجے میں ہونے والی اسلامی بیداری کی حدود میں پرورش پانے والی ان نسلوں پر تربیتی آثار کو ظاہر ہونے میں کافی طویل عرصہ لگے گا ۔

مگر یہ سب کچھ بعض افراد کے اپنے تصرفات واعمال ہیں جو اللہ تعالی کے رحمت کے سائے میں جی رہے ہیں کہ ان میں سے کوئی (صحیح دعوتی انداز کو اپنانے میں) قریب ہے تو کوئی بعید۔ اسی لئے فکری اور علمی زاویے سے آپ کو کوئی بھی ایسا نہیں ملے گا جو آپ پر اس بات پر جھگڑے کہ دعوت الی اللہ میں اصل اصول تو نرمی، اچھی بات وموعظت ہونی چاہیے لیکن جو بات اہمیت کی حامل ہے وہ اس کی عملی تطبیق ہے۔ اس تطبیق کے لئے کسی مربی ومرشد (استاد) کی ضرورت ہے جس کے تحت دسیوں طالبعلم تربیت پائيں اور وہ ان سے دست شفقت کے تحت تربیت پاکر فارغ ہوں اور پھر دوسروں کی اسی طرح سے تربیت کریں ۔ اور پھر اسی طرح سے صحیح اسلامی تربیت کی رفتہ رفتہ ترویج ہو۔

اور بلاشبہ یہ بات جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا آسان نہیں بلکہ:

﴿وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ﴾

(حم السجدۃ: 35)

(یہ خوبی تو نہیں ملتی مگر اسے جو صبر کرے اور یہ نہیں ملتی مگر اسے ہی جو بڑے نصیبوں والا ہو)

اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ وہ ہمیں امت وسط (میانہ رو امت) بنادے جو کسی افراط وتفریط کا شکار نہ ہو۔

سائل: جزاک اللہ خیرا ًیا شیخ۔

حاضرین میں سے کسی نے کہا: یا شیخ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب کوئی سنی سلفی کسی گھمنڈی ومتکبر بدعتی سے ملتا ہے تو جیسے اللہ تعالی نے سیدنا موسی علیہ السلام کو متکبر فرعون کے سامنے نرمی سے بات کرنے کا حکم فرمایا[9] اس کے باوجود سیدنا موسی علیہ السلام نے اسے یہ کہہ دیا تھا کہ:

﴿وَإِنِّي لَأَظُنُّكَ يَا فِرْعَوْنُ مَثْبُورًا﴾

(بنی اسرائیل: 102)

(اور مجھے لگتا ہے کہ اے فرعون تو یقینا ًہلاک وبرباد کیا گیا ہے)

یعنی یا شیخ ہم کالج میں پڑھتے ہیں اللہ کی قسم ڈاکٹریٹ تک کئے ہوئے لوگ ہمارا مذاق اڑاتے ہیں جب ہم کہتے ہیں کہ قال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)۔۔۔یعنی اگر انسان اپنے عمومی مزاج سے تھوڑا ہٹ کر ان کے ساتھ سختی برتے، جس شدت کو شاید اس موقع پر شدت نہیں کہا جائے گا، اور مجھے وہ مثال بہت اچھی لگتی ہے جو میں نے آپ سے ایک بار سنی تھی کہ:

قال الحائط للوتد لم تشقني قال سل من يدقني

(دیوار نے کیل سے کہا کیوں مجھ پر سختی کرتی ہو؟ کیل نے کہا اس سے پوچھو جو مجھے ٹھوک رہا ہے!)

الشیخ: صحیح۔

الشیخ: بہرحال اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ وہ ہمیں حکمت عطاء فرمائے کہ ہم ہر چیز کو اس کے اپنے مقام پر رکھنے والے بن جائیں۔

حاضرین میں سے کسی نے کہا: یا شیخ احکام الجنائز میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ جب انہوں نے کسی شخص سے کہا: ‘‘استغفروا لأخيكم’’ (اپنے بھائی کے لئے مغفرت کی دعاء کرو) تو اس نے کہا: ‘‘لا غفر الله له’’ (اللہ تعالی اسے نہ بخشے)

الشیخ: ان بہت سی مثالوں کے بعد ہمیں ابو عبداللہ بھائی نے ایک اور اثر یاد دلادیا کہ صحابہ میں سے کوئی شخص شاید کہ عبداللہ بن مسعود رضہ اللہ عنہ یا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ۔

حاضرین میں سے کسی نے بتایا: نہیں بلکہ خود عمر رضی اللہ عنہ تھے۔

الشیخ: کیا خود عمررضی اللہ عنہ ؟

حاضرین میں سےکسی نے کہا:جی خود عمر رضی اللہ عنہ نے کسی شخص کو کہا: ‘‘استغفروا لأخيكم’’ (اپنے بھائی کے لئے مغفرت کی دعاء کرو) تو اس نے کہا: ‘‘لا غفر الله له’’ (اللہ تعالی اسے نہ بخشے)

الشیخ : اب اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ۔ اگر تم مجھے ایسی بات کرتے ہوئے دیکھتے تو کہہ اٹھتے کہ شیخ متشدد ہیں۔ لیکن یہاں بھی وہی بات ہے کہ شریعت کے لئے غیرت کا آجانا جس کی وجہ سے الفاظ میں ایسی سختی ہوجائے، جبکہ دوسرے اس موقع کو ایسا نہیں سمجھے کہ اس انسان جیسی غیرت کا مظاہرے کرتے ہوئے ایسا سخت کلام کریں۔ اور ہمارے یہاں شام میں کہا جاتا ہے کہ : “شو هذه الشدة يا رسول الله” (یہ شدت دیکھیں اے اللہ کے رسول ) اور یہ شامی لہجہ بالکل غلط ہے، کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)سے ایسے مخاطب ہوتے ہیں! یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کلام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے صادر ہوا حالانکہ یہ کلام تو اس شخص کا تھا۔ سبحان اللہ! اسی لیے ایک شخص کو چاہیے کہ اس مسئلہ کے تمام جوانب پر غوروفکر کرکے ہی کوئی نتیجہ نکالے تاکہ اس کا حکم مکمل عدل پر مبنی ہو۔

پھر ابھی ابھی میرے دل میں ایک اور بات آئی کہ اگر اسے تہمت کہنا درست ہو تو اس تہمت (کہ سلفی متشدد ہوتے ہیں)کے پھیلنے کے اسباب میں سے یہ بھی ہے کہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ جو باکثرت کلام کرتا ہے اس کی خطاء بھی زیادہ ہوجاتی ہیں۔ پس جب شرعی مسائل پر کلام کرنے والے ہوتے ہی سلفی ہیں (دوسرے تو صحیح عقیدے، شرک، سنت وبدعت کی اتنی بات کرتے ہی کہاں ہیں) تو ظاہر ہے ان کی غلطیاں بھی کثرت سے ہوجاتی ہیں۔ وہ کوئی بات نہیں کرتے مگر فوراً ان کی غلطیاں نمایاں ہوکر لوگوں کو دکھنے لگتی ہیں۔ اور انہی غلطیوں میں سے وہ شدت ہے جو ان لوگوں میں نہیں جو ان مسائل میں پڑتے ہی نہیں ، حالانکہ اگر یہ لوگ انصاف کی نظر سے اس شدت کو جو عمومی طور پر ان سے صادر ہوتی ہے دیکھیں تو وہ ان کے عدل وانصاف اور نرمی سے نصیحت کرنے کے مقابل میں ایسی ہی ہوگی جیسے بعض سلف سے اور امام الانبیاء علیہم السلام سے ہم نے کچھ مثالیں بیان کی جس میں شدت تھی۔ لیکن اس کبھی کبھار کی شدت کی وجہ سے ہمارے لیے جائز نہیں کہ ہم ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر جو کسی مخصوص جزئی معاملے میں شدت برت جاتے تھے شدت پسند ی کا مستقل حکم لگا دیں۔ بلکہ یہ تو وہ شدت ہے جس میں کبھی بھی میں، آپ اور دوسرے لوگ پڑتے رہتے ہیں۔

والحمد الله والصلاة والسلام على رسول الله

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حواشی:

[1]: اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ﴿وَأُولاتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾ (الطلاق: 4) (اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ وہ وضع حمل کرلیں) (ط ع)

[2]: صحیح بخاری 3991 اور ” كَذَبَ أَبُو السَّنَابِلِ” کے الفاظ مسند احمد 4261 کے ہيں۔ (ط ع)

[3]: مسند احمد 1842، 2557 میں “أَجَعَلْتَنِي لِلَّهِ عَدْلًا” کے الفاظ ہیں، احمد شاکر نے صحیح کہا 3/253 ۔البتہ ” أَ جَعَلْتَنِي لِلَّهِ نِدًّا ” کے الفاظ بھی صحیح ہیں دیکھیں تحذیر الساجد للالبانی ص 145۔ پھر آگے فرمایا کہ: “بَلْ مَا شَاءَ اللَّهُ وَحْدَهُ ” (بلکہ کہہ کہ جو اکیلا اللہ تعالی چاہے) (ط ع)

[4]: صحیح مسلم 873، اسی حدیث میں آگے فرمایا: “قُلْ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ” (بلکہ کہو جو اللہ تعالی کی اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وعلیہ وسلم) کی نافرمانی کرے تو۔۔) یعنی اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وعلیہ وسلم) کو ایک ہی ضمیر میں جمع نہ کرو۔ (ط ع)

[5]: یہ خاص اصطلاح ہے جو اخوان المسلمین اور جماعت اسلامی قسم کی جماعتیں استعمال کرتی ہیں کہ دین کی تقسیم لب اور قشور یعنی پھل کے اصل گودے اور اس کے اوپر کے چھلکے سے کررکھی ہے۔ لہذا ان کے نزدیک لب بڑے بڑے اہم احکام ہیں جیسے اقامت دین، خلافت، سیاست، معیشت وغیرہ وغیرہ، اور قشور ثانوی اور کسی قدر قابل نظر انداز احکام جیسے خاص طریقے سے نماز پڑھنا، ظاہری وضع قطع جیسے داڑھی رکھنا، ٹخنوں سے اونچے پائنچے کرنا وغیرہ ہیں۔ جیسے استاد مودودی کہتے ہیں: (داڑھی، رفع الیدین، آمین بالجہر پر زور دینا بدعت ہے تحریف دین ہے۔عادت رسول ہے سنت نہیں)۔ (رسائل ومسائل ج 1 ص 189، ترجمان قرآن مئی جون 1945ع)) بلکہ اس سے بڑھ کر ارکان اسلام تک ان کے نزدیک خلافت والے بڑے مقصد کا محض تربیتی کورس ہیں(مجلہ کوثر9 فروری، 1991ع)۔ شیخ البانی رحمہ اللہ کی اس پر ایک مکمل تقریر بھی ہے “لاقشور فی الاسلام” (اسلام میں یہ تقسیم اہم وغیراہم کی کوئی حقیقت نہیں)۔ بلکہ اپنے فتاوی میں دوسرے مقام پر فرماتے ہیں خود پھل کے اصل گودے کی حفاظت اس کے چھلکے سے ہی ہوتی ہے ورنہ وہ پھل جسے وہ اصل اسلام کہہ رہے ہیں سڑ جاتا ہے!۔ (ط ع)

[6]: صحیح بخاری 6128، صحیح مسلم 286 پھر آپ (صلی اللہ علیہ وعلیہ وسلم)نے اس نجاست پر پانی کا ڈول بہا دینے کا حکم ارشاد فرمایا۔ (ط ع)

[7]: صحیح بخاری 6024 اور صحیح مسلم 2167، بخاری 6030 میں اور مسند اسحاق بن راھویہ 1685 میں ہے کہ: اللہ تعالی ان کی بددعاء ہمارے خلاف قبول نہیں کرے گا لیکن ہماری تو ان کے خلاف قبول فرمالے گا۔ (ط ع)

[8]: صحیح مسلم 2597 کے الفاظ ہیں: “إِنَّ الرِّفْقَ لَا يَكُونُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ، وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ” (بے شک نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے زینت بخشتی ہے، اور جس چیز سے بھی اٹھا لی جاتی ہے اسے بدنما کردیتی ہے)

[9]:

(طہ: 44) (تم دونوں(موسی وہارون علیہم السلام ) اس (فرعون) سے نرمی سے بات کرنا ہوسکتا ہے کہ وہ نصیحت حاصل کرے یا (اللہ سے) ڈر جائے) (ط ع) اس آیت کی جانب اشارہ ہے

Advertisements