A Turkish Student Letter to Sheikh Al baani

by Ahmed ansari


بسم اللہ الرحمٰن الرحیمکیف اھتدیت
الی التوحید

راہ ہدایت کیسے ملی؟

تألیف:فَضیلَۃ الشّیخ/ محمّد بن جَمِیل زَینو
مدرس دارالحدیث الخریۃ مکہ مکرمہ

مترجم
شمس الحق بن اشفاق اللہ

کمپوزنگ: أبوبکرالسلفی

مقدمہ

الحَمدُ للہ، وَالصّلاۃ وَالسَلام عَلی رَسُولِ اللہِ۔ ۔ ۔ أمّا بَعد:
ترکیا کے شہر قونیہ کے ایک طالب علم کا مکتوب مجھے ملا جس کا مضمون یہ تھا :
محمد بن جمیل زینو۔ مدرس دارلاحدیث الخیریۃ مکہ مکرمہ کی جانب۔۔۔۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وربرکاتہ


استاذ مکرم: میں قونیہ میں کلیۃ الشریعہ کا طالب علم ہوں، آپ کی کتاب (اسلامی عقیدہ) کہیں ادھر اُدھر پڑی مجھے ملی میں نے اس کا ترکی زبان میں ترجمہ کر ڈالا مگر اس کی طباعت کے لئے آپ کے سوانح عمری درکار ہے، لہٰذا آنجناب سے گزارش ہے کہ یہ معلومات درج ذیل پتہ پر ارسال فرمائیں، آپ کا پیشگی مشکور ہوں۔ سلامتی ہو ہدایت کی اتباع کرنے والے پر[1]

“بلال باروجی”

اسی طرح میرے بعض احباب (طالب علموں) نے بھی مجھ سے مطالبہ کیا کہ اپنی سوانح عمری لکھوں اور وہ مراحل تھریر کروں جن سے پچپن سے لے کر 70 سالہ زندگی تک گذرا ہوں، اور یہ بیان کروں کہ سلف صالح کا صحیح اسلامی عقیدہ جو کتاب وسنت کی صحیح دلیلوں پر مبنی ہے مجھے کیسے ملا، یہ بڑی عظیم نعمت ہے اسے وہی شخص جان سکتا ہے جسے یہ لذت ملی ہو۔


رسول اکرم ﷺ نے سچ فرمایا:” ذَاق طَعمَ الاِیمَان ِ مَن رَضِی َ بِاللہِ رَباً، وَبِالاِسلَامِ دِیناً ، وَبِمُحمّد رَ سُولاً“۔[2] ۔


(جس نے اللہ کو رب، اور اسلام کو دین اور محمدﷺ کو اپنا رسول تسلیم کر لیا اس نے ایمان کی چاشنی پالی)۔


امید ہے کہ پڑھنے والا اس واقعہ سے عبرت و نصیحت حاصل کرے گا جو اسے حق و باطل کی تمیز میں فائدہ دے گی، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچائے اور اسے اپنی کوشنودی کا ذریعہ بنائے۔

محمد بن جمیل زینو
1/1/1415ھ


ولادت وپرورش

1. پاسپورٹ کے مطابق میں شامل کے شہر حلب میں 1925م[3] مطابق 1344ھ میں پیدا ہوا، بروقت میری عمر37 سال ہے، جب میں تقریباً دس سال کا ہوا تو ایک مدرسہ میں داخلہ اور لکھنا پڑھنا سیکھا۔
2. مدرسہ دار الحفاظ میں نام درج کرایا اور وہاں مسلسل پانچ سال رہ کر قرآن مجید مع تجوید حفظ کرلیا۔
3. حلب میں ایک مدرسہ جس کا نام (کلیۃ الشریعہ اعدادیہ) ہے اس میں داخلہ لیا، جاہں فی الحال ثانویہ شرعیہ تک تعلیم ہوتی ہے ، یہ اسلامی اوقاف کے تابع ہے، اس مدرسہ میں شری اور عصری علوم کی تعلیم ہوتی تھی، چنانچہ میں نے اس میں تفسیر، فقہ حنفی، نحو، صرف تاریخ، حدیث ، علوم حدیث ، علوم حدیث نیز دیگر علوم شرعیہ کی تعلیم حاصل کی۔
نیز عصری علوم مثلاً فزیا لوجی، کیمسٹری، ریاضیات ، فرانسیسی ذبان اور دیگر علوم مثلاً الجبرہ جس میں پرانے زمانے میں مسلمانوں کو تفوق حاصل تھا اس کی تعلیم حاصل کی۔
أ۔ اپنی یادداشت کے مطابق علم توحید میں ایک کتاب (الحصون الحمدیۃ) پڑھی، جس میں توحید ربوبیت پر خصوصی زور تھا، اور یہ کہ اس دنیا کا کوئی خالق اور پالنہار ہے۔ میں بعد سمجھ سکا کہ یہ ایک غلطی ہے جس میں بہت سے مسلمان اور مؤلفین، اور بہت سے جامعات ومدارس جس میں علوم شرعیہ کی تعلیم ہوتی ہے پڑے ہوئے ہیں، کیونکہ مشرکین جن سے رسول اکرمﷺ نے قتال کیا وہ بھی اعتراف کرتے تھے کہ اللہ ہی انہیں پیدا کرنے والا ہے۔
ارشاد الہی ہے: وَ لَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ فَاَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ(الزخرف:87۔)
(اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ انہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یقیناً یہ جواب دیں گے کہ اللہ نے، پھر یہ کہاں الٹے جاتے ہیں)۔
بلکہ شیطان ملعون بھی معترف تھا کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا رب ہے۔
اللہ تعالیٰ اس کی حکایت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغْوَيْتَنِيْ لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْاَرْضِ وَ لَاُغْوِيَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ (الحجر:39۔)
(کہا کہ اے میرے رب! چونکہ تونے مجھے گمراہ کیا ہے مجھے بھی قسم ہے کہ میں زمین میں ان کے لئے معاصی کو مزین کروں گا)۔
ب۔ البتہ توحید الوہیت جو ایک مسلم کی نجات کے لئے بنیاد ہے تو اسے نہ تو میں نے پڑھا اور نہ ہی اس کے متعلق کچھ جانا جس طرح دوسرے مدارس وجامعات کہ نہ تو وہاں اس کی تعلیم ہوتی ہے اور نہ ہی اس کے بارے میں طلبہ کچھ جانتے ہیں۔
حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اسی کی طرف دعوت دینے کا تمام رسولوں کو حکم دیا، اور آخری نبی جناب محمدﷺ نے بھی اپنی قوم کو اسی کی دعوت دی، جس کا انہوں نے انکار کیا اور تکبر کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق خبر دی ہے: اِنَّهُمْ كَانُوْۤا اِذَا قِيْلَ لَهُمْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ١ۙ يَسْتَكْبِرُوْنَ۠ (الصافات:35)
(یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو یہ سرکشی کرتے تھے)۔
کیونکہ عرب کے مشرکین اس کا معنی جانتے تھے، اور یہ بھی کہ اس کا اقرار کرنے والے کے لئے غیر اللہ کو پکارنا جائز نہیں،، بعض مسلمان زبانی طور پر اس کا اقرار کرتے ہیں اور غیر اللہ کو پکار کر اس کی مخالفت کرتے ہیں۔
ج۔ باقی رہی توحید اسماء وصفات ، تو مدرسہ میں صفات والی آیات کی تأویل کی جاتی تھی جس طرح اکثر اسلامی ممالک کے اندر مدرسوں میں تأویل کی جاتی ہے جو نہایت افسوسناک ہے۔
مجھے یاد ہے کہ وہاں کا مدرس اللہ تعالیٰ کے فرمان (الرَّحمَنُ عَلَی العَرشِ السَتوَی) میں” استوی” کا معنی “استولی” سے کرتا تھا یعنی گالب و قابض ہوا۔ اور بطور دلیل شاعر کا یہ قول پیش کرتا تھا:

قَدِاستَوَی بِشرُ عَلیَ العِرَاق۔۔۔۔۔۔۔۔۔مِن غَیرِ سَیف وَدَم مُھرَاقِ
(بشر عراق پر بغیر تلوار اور قتل وخونریزی کےقابض ہوگیا)۔

ابن جوزی نے کہا ہے کہ اس شعر کا کہنے والا مجہول ہے۔
دوسروں نے کہا کہ وہ نصرانی تھا۔
کلمہ” استوی” کی تفسیر بخاری شریف میں اللہ تعالیٰ کے فرمان(ثُمّ استَوَی الَی السّمَاءِ) تفسیر میں مذکور ہے۔
مجاہد اور ابوالعالیہ نے کہا کہ” استویٰ” کا معنی” عَلَاوَارتَفَعَ” یعنی بلند ہوا[4] ۔
تو کیا کسی مسلمان کے لئے یہ جائز ہے کہ بخاری شریف میں تابعین کے مذکور اقوال کو ترک کرکے کسی مجہول شاعر کے قول سے استدلال کرے؟ یہ فاسد تأویل جو اللہ تعالیٰ کے عرش پر بلند ہونے کی منکر ہے یہ امام ابو حنیفہ اور امام مالک وغیرہ کے عقیدہ کے خلاف بھی ہے چنانچہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ جن کا مذہب یہ لوگ پڑھتے پڑھاتے ہیں ان کا قول ہے(جس نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ میرا رب آسمان میں ہے یا زمین میں تو اس نے کفر کیا!! کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے(الرَّحمَنُ عَلَی العَرشِ السَتوَی
اور اس کا عرش ساتویں آسمان کے اوپر ہے)[5] ۔
4. 1948م میں مدرسہ سے مجھے انٹرمیڈیٹ کی سر ٹیفیکیٹ ملی ، اور ازہر بھیجی جانے والی ٹیم کے کمپٹیشن میں کامیاب ہوا، مگر اپنی صحت کے پیش نظر وہاں نہیں جاسکا اور شہر حلب کے دارالمعلمین میں داخل ہوگیا اور تقریباً 29/ سال تک تدریسی خدمات انجام دیتا رہا پھر تدریس ترک کردیا۔
5. تدریس سے مستعفی ہونے کے بعد1399ھ میں مکہ مکرمہ عمرہ کی ادائیگی کے لئے آیا اور سماحۃ / عبد العزیز بن باز سے متعارف ہوا، یہ جاننے کے بعد کہ میں عقیدتاً سلفی ہوں شیخ نے حرم مکی میں حج کے اوقات میں تدریس کے لئے میری تعیین فرمادی، اور جب حج کا موسم ختم ہوگیا تو دعوت و تبلیغ کے لئے مجھے اردن بھیج دیا، چنانچہ وہاں میں شہر “رمثا” کی صلاح الدین نامی جامع مسجد میں ٹھہرا، میں امامت و خطابت اور تدریس قرآن کے فرائض انجام دیتا رہا، اور ابتدائی مدارس کی زیارت بھی کرتا رہا اور طلبہ کی عقیدہ توھید کی رہنمائی کرتا رہا جسے وہ بحسن و خوبی قبول کرتے تھے۔
6. رمضان 1400ھ میں دوبارہ عمرہ کی غرض سے مکہ حاضر ہوا اور حج کے بعد تک وہاں تھہرا رہا، دارالحدیث الخیریۃ کے ایک طالب علم سے میرا تعارف ہوا ، وہاں مدرسین کی حاجت تھی(خصوصاً علوم حدیث کی تدریس کے لئے) اس نے مجھ سے انے یہاں تدریس کی پیش کش کی، میں نے ا س کے مدیر سے رابطہ قائم کیا، انہوں نے بھی اپنی رغبت ظاہر کی اور سماحۃ الشیخ عبد العزیزی بن باز۔ رحمہ اللہ ۔ سے آرڈر کروانے کا مطالبہ کیا، چنانچہ شیخ نے مدیر کو لکھا کہ بطور مدرس میری تقرری کرلیں، اس کے بعد میں مدرسہ میں آگیا اور بچوں کو تفسیر، توحید، قرآن وغیرہ پڑھانے لگا۔

میں نقشبندی تھا

بچپن ہی سے میں ذکر واذکار کی محفلوں اور مساجد کے دروس میں حاضر ہوتا تھا، طریقہ نقشبندیہ کے عالم نے مجھے دیکھا اور مسجد کے ایک گوشہ میں لے گیا اور نقشبندی طریقہ کے وظائف مجھے سکھانے لگا، مگر کم سنی کی وجہ سے مطلوبہ وظائف میں صحیح ڈھنگ سے ادانہ کرسکا البتہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ خانقاہ کی ان مجلسوں میں حاضر ہوتا تھا، اور ان کے اشعار وقصیدے سنتا تھا، ان اشعار میں جب شیخ کا نام آتا تو بہت زور سے آواز بلند کرتے، رات کے وقت یہ بھیانک آواز مجھے پریشان کرتی اور میرے لئے خوف و دہشت اور مرض کا سبب بنتی جب میں تھوڑا بڑا ہوا تو میرا ایک رشتہ دار مجھے محلّہ کی مسجد (خاتمہ) کی مجلس میں شرکت کے لئے لے جانے لگا، ہم حلقہ کی شکل میں بیٹھتے تھے، ایک شیخ ہمیں کنکریاں دیتا اور کہتا : (فاتحہ شریف، اخلاص شریف) پڑھو پس ہم فاتحہ ، اخلاص ، استغفار ، نبی ﷺ پر درود و سلام (جو ان کے یہاں مروج ہے) کنکریوں کی تعداد کے مطابق پڑھتے تھے، اس میں سے مجھے بعض چیزیں یاد ہیں: ” الّلھُمّ صَلّ عَلَی مُحَمّد عَدَدَالدّوَابِ”(اے اللہ تو محمدﷺ پر رحمت و سلامتی نازل فرما جانوروں کی تعداد کے برابر)، اسے وظائف میں بلند آواز سے کہتے تھے، اس کے بعد (خاتمہ) کی مجلس کا شیخ کہتا (رابطہ شریفہ) رکھو ، اس سے مقصود ہوتا کہ ذکر واذکار کے وقت شیخ کا بھی تصور کریں کیونکہ( ان کے گمان کے مطابق) شیخ انہیں اللہ کے ساتھ ملا دیتا ہے، تو وہ کچھ چیزیں خفیہ طور پر ہلکی آواز مٰں اور پھر بلند آواز میں کہتے، ان پر خشوع طاری ہوجاتا یہاں تک کہ میں نے بعض لوگوں کو جوش میں آکر کافی بلندی سے حاضرین پر چھلانگ لگاتا دیکھا، گویا وہ پہلوان ہے، ان کے اس تصرف اور شیخ طریقت کے ذکر کے وقت چیخنے پر میں حیران رہتا، ایک بار میں اپنے اس رشتہ دار کے گھر گیا، تو نقشبندی طریقہ کے پیروکاروں کے کچھ اشعار سنے وہ کہہ رہے تھے:

دُلَونِی بِاللہِ دُلّونِی عَلَی شَیخِ النَّصرِ دُلُّونِی
اللّی یُبرِی العَلِیل وَیشفِی المَجنُونَا !!


خدا کے واسطے میری رہنمائی کرو۔ شیخ النصر کی طرف میری رہنمائی کرو
جو مریضوں کو شفا دیتے ہیں۔ اور پاگلوں کو شفا اور عقل بخشتے ہیں!!

میں اندر نہیں گیا بلکہ دروازہ ہی پر کھڑا رہا، اور مکان مالک سے کہا:
کیا شیخ مریضوں اور پاگلوں کو شفا دیتے ہیں؟
انہوں نے کہا: جی ہاں۔
میں نے کہا: عیسیٰ بن مریم علیہ السلام جو رسول تھے اللہ نے انہیں مُردوں کو زندہ کرے اور مجذوم کو شفا دینے کا معجزہ عطا کیا تھا وہ بھی کہتے تھے” بِاذنِ اللہ” اللہ کے حکم سے۔
گھر کے مالک نے مجھ سے کہا: ہمارے شیخ بھی اللہ کے حکم سے ہی کرتے ہیں!
میں نے ان سے کہا: پھر آپ لوگ کیوں نہیں کہتے کہ اللہ کے حکم سے؟!
جبکہ شفا دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا:

وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ
(الشعراء:80)
( اور جب میں بیمار پڑ جاؤں تو مجھے شفا عطا فرماتا ہے)۔سلسلہ نقشبندیہ پر کچھ ملاحظات

1. یہ سلسلہ اپنے کچھ لطیف اور سرَی وظائف کی وجہ سے نمایاں حیثیت رکھتا ہے، ناچ گانے اور تالی وغیرہ بجانے سے بالکل پاک ہے جیسا کہ بہت سے دوسرے معروف سلسلوں میں پایا جاتا ہے۔
2. اذکار و وظائف کے لئے اجتماع ، سب کے لئے کنکریاں تقسیم کرنا، امیر مجلس کاتمہ کا انہیں ان چیزوں کے کرنے کا حکم دینا، کنکریوں کا پانی کے گلاس میں رکھ کر اس کا پانی پینا اور شفا کی امید لگانا یہ سب ایسی بدعات ہیں جن کی مشہور صحابی عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے تردید کی تھی، واقعہ اس طرح ہے کہ ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوئے تو ایک جماعت کو حلقہ کی شکل میں دیکھا ان کے ہاتھ میں کنکریاں تھیں ان میں ایک شخص کہتا : اس طرح تسبیح بیان کرو، اپنے ہاتھ کی کنکریوں کی تعداد کے مطابق ایسا کرو۔
تو عبد اللہ بن مسعود نے انہیں ڈانٹتے ہوئے فرمایا:” یہ تم کیا کر رہے ہو؟” لوگوں نے کہا: ابو عبد الرحمٰن یہ کنکریاں ہیں اس سے ہم تکبیر و تہلیل اور تسبیح بیان کرتے ہیں۔
فرمایا: اپنے گناہوں کو شمار کرو، میں ضمانت لیتا ہوں کہ تمہاری کوئی نیکی ضائع نہیں ہوگی، تمہاری بربادی ہو، اے امت محمدیہ! کتنی تمہاری تباہی آگئی؟ تمہارے نبی پاک کے صحابہ ابھی تمہارے درمیان کثرت سے موجود ہیں، اور یہ آپ کے کپڑے ابھی بوسیدہ نہیں ہوئے اور برتن بھی نہیں ٹوٹے ، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے کیا تمہارا طریقہ طریقہ محمدی سے افضل ہے کیا تم ضلالت و گمراہی کا دروازہ کھول رہے ہو؟!
اور یہ ایک صحیح منطقی مسئلہ ہے، کہ یا تو یہ لوگ رسول اکرمﷺ سے زیادہ ہدایت یافتہ تھے کیونکہ انہیں ایک ایسا عمل ملاجہاں تک نبی ﷺ کی معلومات نہ تھی، یا پھر گمراہی میں ہیں، اور احتمال اول قطعی طور پر باطل ہے کیونکہ نبی ﷺ سے افضل کوئی بھی نہیں ہے، لہذا دوسری صورت ہی لازم آتی ہے کہ وہ بدعت و گمراہی میں ہیں۔
3. رابطہ شریفہ: اس سے مقصود ہوتا تھا کہ ذکر واذکار کے دوران شیخ کی شکل اپنے تصور میں اس طرح رکھیں گویا انہیں دیکھ رہے ہیں ، اور وہ ان کی نگرانی کر رہے ہیں، اسی لئے آپ انہیں دیکھیں گے کہ وہ خشوع کا اظہار کرتے ہوئے ناپسندیدہ اور غیر واضح آواز میں چینختے ہیں، اصل میں یہی احسان کا درجہ ہے جو رسول اکرم ﷺ کے ارشاد گرامی سے واضح ہے: “ الِا حسَانُ أَن تَعبُدَ اللہَ کَأَنّکَ تَراہُ، فَان لَم تَکۃن تَرَاہ فَا نّہ یَرَاک“[6] ۔
(احسان یہ ہے کہ آپ اللہ کی اس طرح عبادت کریں گویا آپ اسے دیکھ رہے ہیں، اگر یہ تصور ہیں کرسکتے تو اتنا تو خیال ہی رکھیں کہ وہ آپ کو دیکھ رہا ہے)
اس حدیث میں رسول اللہﷺ ہماری رہنمائی کررہے ہیں کہ ہم اللہ کی عبادت اس طرح کریں گویا اسے دیھ رہے ہیں، اور اگر ہم اسے نہیں دیکھتے تو وہ ہمیں دیکھ رہا ہے ، یہ احسان کا درجہ صرف اللہ کے لئے ہے جسے ان لوگوں نے اپنے شیخ کو دے دیا ہے اور یہ شرک ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے، جیسا کہ ارشاد باری ہے: وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَيْـًٔا(النساء:36)
(اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو)۔
لہذا ذکر بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے اس میں کسی دوسرے کو شریک کرنا جائز نہیں ، خواہ کوئی فرشتہ ہو یا رسول اور مشایخ کا درجہ تو بہر حال ان سے کمتر ہے پھر انہیں شریک کرنا بدرجہ اولیٰ جائز نہیں! اور حقیقت یہ ہے کہ ذکر و اذکار میں شیخ کا تصور سلسلہ شاذلہ اور دیگر صوفیہ کے سلاسل میں پایا جاتا ہے جیسا کہ عنقریب آئے گا۔
4. شیخ کے ذکر کے وقت ان کا چینخنا یا غیر اللہ(مثلاً اہل بیت یا اولیاء اللہ) سے مدد طلب کرنا منکرات میں سے ہے بلکہ شرک ہے جس سے شریعت نے منع کیا ہے، تو جب اللہ کے ذکر کے وقت چینخنا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مخالف ہے ، ارشاد باری ہے: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ(الأنفال:2)
(بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں)۔
نیز رسول اکرمﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ ، وَلَا غَائِبًا ، اِنَّکُم تَدعُونَ سَمِیعاً قَرِیباً وَھُومَعَکُم [7] ۔
(اے لوگو! اپنے اوپر رحم کھاؤ، تم کسی بہرے اور غائب ذات کو نہیں پکار رہے ہو بلکہ ایسی ہستی کو پکار رہے ہو جو سننے والی اور قریب ہے اور وہ تمہارے ساتھ ہے)۔
تو معلوم ہوا کہ اولیاء کے ذکر کے وقت آواز بلند کرنا، خشوع پیدا کرنا اور رونا سخت ترین منکر ہے کیونکہ یہ اس طریقہ پر دلالت کرتا ہے جس کی اللہ نے مشرکین کے متعلق حکایت بیان کرتے ہوئے فرمایا: وَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اِذَا ذُكِرَ الَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ۠(الزمر:45)
(جب اللہ اکیلے کا ذکر کیا جائے تو ان لوگوں کے دل نفرت کرنے لگتے ہیں جو آخرت کا یقین نہیں رکھتے اور جب اس کے سوا اور کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل کھل کر خوش ہو جاتے ہیں)۔
5. سلسلہ نقشبدیہ میں شیخ کی شان میں غلو ہوتا ہے، ان کا اعتقاد ہے کہ وہ بیماروں کو شفا دیتے ہیں ، جبکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ابراہیم علیہ السلام کا قول ذکر کرتے ہوئے فرمایا: وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ(الشعراء:80)
( اور جب میں بیمار پڑ جاؤں تو مجھے شفا عطا فرماتا ہے)۔
اور اس مومن لڑکے کا واقعہ جو مریضوں کو دعا کرتا تھا پس اللہ تعالیٰ شفا دیتا تھا جب اس سے بادشاہ کے ہمنشین نے کہا: ” اگر تم نے مجھے شفا دیدی تو تمہارے لئے یہ سار امال ہوگا!” لڑکے نے جواب دیا: ” میں کسی کو شفا نہیں دیتا ہوں صرف اللہ شفا دیتا ہے اگر تم اللہ پر ایمان لے آؤ تو میں اللہ سے دعا کرتا ہوں وہ تمہیں شفا دے گا”۔
6. صرف لفظ(اللہ) سے ان کا ذکر کرنا اور اسے ہزار وں بار دہرانا یہی ان کا خاص وظیفہ ہے، جبکہ صرف لفظ (اللہ) سے ذکر کرنا نہ رسول اللہﷺ سے ثابت ہے اور نہ صحابہ و تابعین سے اور نہ ہی ائمہ مجتہدین سے ثابت ہے بلکہ یہ صوفیہ کی بدعت ہے کیونکہ لفظ(اللہ) مبتدا ہے، اس کے بعد خبر نہ آنے کی وجہ سے کلام ناقص رہ جاتا ہے، اگر کوئی آدمی (عمر ) کا نام باربار دہرائے ، تو ہم کہیں گے کہ تم عمر سے کیا چاہتے ہو؟ اور جواباً وہ (عمر۔عمر) ہی کہے تو ہم اسے پاگل کہیں گے، کچھ نہیں معلوم کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے؟
مفرد ذکر پر صوفیہ اللہ تعالیٰ کے فرمان(قُل اللہُ) سے دلیل پکڑتے ہیں، اگر یہ ماقبل کا کلام پڑھتے تو جانتے کہ اس کا مقصود: قُلِ اللہُ أنزِلَ الکِتابَ” ہے۔ آیت اس طرح ہے: وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖۤ اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَيْءٍ١ؕ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِيْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى۔۔۔ قُلِ اللّٰهُ١ۙ( الانعام:91) ۔
( اور ان لوگوں نے اللہ کی جیسی قدر کرنا واجب تھی ویسی قدر نہ کی جب کہ یوں کہہ دیا کہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز نازل نہیں کی، آپ یہ کہئے کہ وہ کتاب کس نے نازل کی ہے جس کو موسیٰ لائے تھے۔۔۔ اے نبی آپ بتادیجئے کہ : اللہ۔)
یعنی کہہ دیجئے کہ اللہ نے کتاب نازل فرمایا ہے۔

میں سلسلہ شاذلیہ کی طرف کیسے منتقل ہوا؟

سلسلہ شاذلیہ کے ایک شیخ سے میرا تعارف ہوا جو شکل و صورت اور اخلاقی حیثیت سے بہتر تھے انہوں نے میرے گھر آکر میری زیارت کی اور میں بھی ان کے گھر گیا، مجھے ان کے کلام کی لطافت ، ان کی گفتگو ، اخلاق اور نوازش پسند آئی اور میں نے ان سے مطالبہ کیا کہ سلسلہ شاذلیہ کے وظائف مجھے بھی سکھادیں، چنانچہ انہوں نے اس مذہب کے مخصوص وظائف مجھے بتلائے ، ان کی ایک خاص خانقاہ تھی جہاں بعض نوجوان اکھٹا ہوتے تھے، اور نماز جمعہ کے بعد ذکر واذکار کرتے تھے۔ ایک بار میں نے ان کے گھر پر ان سے ملاقات کی ، میں نے دیکھا طریقہ شاذلی کے بہت سارے مشایخ کی تصویریں دیوار پر لگی ہوئی ہیں میں نے انہیں تصاویر لٹکانے کی ممانعت یاد دلائی، تو حدیث کے واضح ہونے کے باوجود انہوں نے بات نہ مانی، حالانکہ یہ حدیث ان کو بھی معلوم تھی، اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: “ اِنّ البَیہتَ الّذِی فِیہ الصُّوَر لاتَد خُلُہ المَلائِکَتۃ[8] ۔
(بیشک وہ گھر جس میں تصویریں ہوتی ہیں اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے)۔
نیز آپ ﷺ کا ارشاد گرامی :” نَھَی رَسُول اللہِ ﷺ عَنِ الصُّورِ فِی البَیتِ وَنَھَی الرَّجُلَ أَن یَصنَعَ ذَلک“[9] ۔
(رسول اکرمﷺ نے گھر میں تصویریں رکھنے اور آدمی کو اسے بنانے سے منع کیا ہے)۔
تقریباً ایک سال بعد مجھے شیخ کی زیارت کی خواہش ہوئی ، جب میں عمرہ کی ادائیگی کے لئے سفر پر تھا، چنانچہ شیخ نے میرے لڑکے اور دوست کے ساتھ مجھے شام کے کھانے پر بلایا، کھانے سے فارغ ہونے کے بعد کہا: کیا تم ان نوجوانوں سے کچھ دینی اشعار سنو گے۔
میں نے کہا: جی ہاں!
انہوں نے پاس بیٹھے ہوئے نوجوانوں کو جن کے چہروں پر نورانی داڑھی تھی۔ شعر پڑھنے کا حکم دیا، سب نے ایک آواز ہو کر شعر پڑھنا شروع کیا جس کا خلاصہ یہ ہے:
(جس نے اللہ کی عبادت جنت کی آرزیا جہنم کے خوف سے کی تو اس نے بت کی پوجا کی)۔
میں نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ قرآن میں ایک آیت کے اندر انبیاء کی تعریف کرتے ہوئے فرماتا ہے: اِنَّهُمْ كَانُوْا يُسٰرِعُوْنَ فِي الْخَيْرٰتِ وَ يَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًا١ؕ وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِيْنَ(الانبیاء:90)
(یہ بزرگ لوگ نیک کاموں کی طرف جلدی کرتے تھے اور ہمیں لالچ طمع او ڈر خوف سے پکارتے تھے اور ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے)۔
شیخ نے مجھ سے کہا: یہ قصیدہ جسے یہ لوگ پڑھ رہے ہیں یہ میرے آقا عبد الغنی النابلسی کا ہے!
میں نے کہا: کیا شیخ کا کلام اللہ کے کلام سے فوقیت رکھتا ہے جبکہ وہ اللہ کے کلام کے مخالف بھی ہے؟!
تو اشعار پڑھنے والوں میں سے ایک شخص نے کہا: میرے آقا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو شخص اللہ کی عبادت جنت کی لالچ میں کرتا ہے وہ تاجر ہے۔ میں نے اس سے کہا: سیدنا علی کا یہ قول تمہیں کس کتاب میں ملا؟ اور کیا یہ صحیح ہے؟
پس وہ خاموش ہو گیا۔
میں نے اس سے کہا: کیا یہ بات عقل میں آتی ہے کہ علی رضی اللہ عنہ قرآن کی مخالف کریں گے حالانکہ وہ اللہ کے رسول کے صحابہ میں سے ہیں، اور جنت کی بشارت پانے والے لوگوں میں سے ہیں؟
پھر میں نے ان سے بات جاری رکھتے ہوئے اپنے دوست کی طرف متوجہ ہوکر کہا: اللہ تعالیٰ مومنوں کی صفات حمیدہ بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:
تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا(السجدۃ:16)
(ان کی گردنیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں اپنے رب کو خوف و امید کے ساتھ پکارتے ہیں)۔
لیکن وہ سب میرے جواب پر مطمئن نہیں ہوئے، میں نے بھی ان سے جدال ترک کر دیا اور اٹھ کر نماز کے لئے مسجد چلا گیا، ان میں سے ایک نوجوان میرے پیچھے آگیا، ان میں سے ایک نوجوان میرے پیچھے آگیا، اور مجھ سے کہنے لگا: ہم آپ کے ساتھ ہیں اور آپ ہی حق پر ہیں مگر ہم شیخ کی تردید میں بول نہیں سکتے۔
میں نے اس سے پوچھا : تم حق بات کیوں نہیں کہہ سکتے؟
اس نے کہا: اگر ہم بولیں گے تو وہ ہمیں رہائش گاہ سے نکال دیں گے۔
یہ صوفیاء کا ایک اصول ہے، کیونکہ تصوف کے مشایخ اپنے شاگردوں کو ہمیشہ یہ وصیت کرتے ہیں کہ شیخ کتنی بھی غلطی کرے اس پر اعتراض نہ کریں، ان کا بہت مشہور قول ہے:” وہ مرید کامیاب نہیں ہوسکتا جس نے اپنے شیخ سے کہا : کیوں!!؟”۔
وہ رسول اکرمﷺ کے اس ارشاد مبارک سے تجاہل برتتے ہیں ، آپ نے فرمایا: کُلُّ بَنی آدَمَ خَطَاء خَیرُ الخَطّائِینَ التَوَبُون“۔
(ہر انسان خطا کار ہے اور خطاکاروں میں سب سے بہترین توبہ کرنے والے ہیں)۔
امام مالک رضی اللہ عنہ کا قول ہے: “کُلُّ وَاحِد یُوخَذُ من قَولِہ وَیُرَدالا الرّسُولﷺ۔
(رسول اکرم ﷺ کے فرمان کے علاوہ ہر آدمی کاقول قبول بھی ہو سکتا ہےاور مردود بھی ہوسکتا ہے)۔

نبی ﷺ پر درود و سلام کی مجلس

ایک مرتبہ درود و سلام کی مجلس میں حاضر ہونے کے لئے بعض شیوخ کے ساتھ ایک مسجد میں گیا ہم ذکر و اذکار کے حلقہ میں داخل ہوئے ، دیکھا کہ وہ لوگ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ناچ رہے ہیں!! گرتے پڑتے ہیں، اٹھتے اور پھر جھکتے ہیں!! اور اللہ ، اللہ ۔۔۔۔۔ کہتے ہیں!
حلقہ سے ایک ایک آدمی نکل کر درمیان میں آتا ہے اور اپنے ہاتھ سے حاضرین کی طرف اشارہ کرتا ہے تاکہ حرکت و میلان میں نشاط پیدا کریں۔۔۔!! ہوتے ہوتے میری باری آتی ہے، صدر مجلس نے میری طرف نکلنے کا اشارہ کیا تاکہ میں ان کی حرکت و رقص میں اضافہ کروں ، مگر ایک شیخ جو ہمارے سارھ تھے انہوں نے معذرت کی اور کہا کہ : وہ کمزور ہے اس لئے اسے چھوڑ دو۔ کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ میں اس طرح کا کام نا پسند کرتا ہوں، اور صدر نے بھی مجھے بغیر حرکت کے ٹھہرا ہوا دیکھ کر چھوڑ دیا اور حلقہ کے درمیان نکلنے سے معاف کردیا۔
میں سریلی آوازوں میں قصائد سنتا رہا، مگر یہ شرکیات اور غیر اللہ سے مدد حاصل کرنے سے خالی نہ تھے! میں نے یہ بھی دیکھا کہ عورتیں اونچی جگہوں پر بیٹھی ہیں اور مردوں سے لطف اندوز ہو رہی ہیں ان میں سے ایک نوجوان لڑکی بے پردہ تھی اس کے بال پنڈلی ، ہاتھ اور گردن سب کھلے ہوئے تھے ، میں نے اپنے دل میں اسے بہت برا سمجھا اور مجلس کے اختتام پر صدر مجلس سے کہا: اوپر ایک لڑکی بے پردہ ہے، اگر آپ مسجد میں اسے دوسری عورتوں سے ساتھ پردہ کی نصیحت کرتےتو نیک کام ہوتا ۔
اس نے کہا: ہم عورتوں کو نصیحت نہیں کر سکتے اور نہ انہیں کچھ کہہ سکتے ہیں!
میں نے کہا: کیوں؟
اس نے کہا: اگر ہم ان کو نصیحت کریں گے تو پھر ذکر کی مجلسوں میں وہ حاضر ہی نہ ہوں گی!
میں نے اپنے دل میں “ لاحَولَ وَلا قُوّۃَ الا بِاللہِ” پڑھتے ہوئے کہا: یہ کون سا ذکر ہے جس میں عورتیں عریاں شریک ہوں اور انہیں کوئی نصیحت نہ کرے؟ کیا رسول اکرم ﷺ یہ پسند کرسکتے تھے جن کا فرمان ہے:” مَن رَأَی منکُم مُنکَراً فَلیُغَیرہُ بیَدِہ ، فَاِن لَم یَستَطِع فَبِلسَانِہ، فَاِن لَم یَستَطع فَبِقَلبِہ، وَذَلِکَ أَضعَف الایمَان“۔مسلم۔
(تم میں سے جو شخص منکر دیکھے اسے چاہئے کہ اپنے ہاتھ سے روک دے اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے منع کرے، ایسا نہ کرسکےتو دل سے برا سمجھے، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے)۔

سلسلہ قادریہ

سلسلہ قادریہ کے ایک شیخ نے ہمارے نحو وتفسیر کے استاذ کے ساتھ ہماری دعوت کی، ہم ان کے گھر گئے، شام کے کھانے سے فارغ ہونے کے بعد حاضرین کھڑے ہو کر ذکر واذکار اور اچھل کودکرنے لگے اور جھوم جھوم کر اللہ،اللہ کرنے لگے۔ میں ان کے ساتھ بغیر حرکت کھڑا تھا ، پھر کرسی پر بیٹھ گیا یہاں تک کہ پہلا چکر ختم ہوگیا، میں نے دیکھا کہ ان کے اوپر سے پسینہ بہہ رہا ہے، پسینہ صاف کرنے کے لئے ایک رومال لائے، چونکہ آدھی رات ہو چکی تھی اس لئے میں انہیں چھوڑ کر اپنے گھر چلا گیا، دوسرے دن حاضرین مجلس میں سے ایک شخص سے میری ملاقات ہوئی جو ہمارے ساتھ مدرس تھا۔
میں نے اس سے پوچھا: تم لوگ اپنی ھالت پر کب تک جمے رہے؟
اس نے جواب دیا: رات دو بجے تک وہاں رہے، پھر اپنے گھر سونے چلے گئے۔
میں نے کہا: نماز فجر کب ادا کی؟
اس نے کہا: ہم وقت پر نہیں ادا کر سکے، بلکہ فوت ہو گئی!!
میں نے اپنے جی میں کہا اس ذکر کے بھی کیا کہنے ہیں جس میں نماز ضائع ہو جائے، مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول یاد آیا جو اللہ کے رسول ﷺ کی صفت بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں:” کَانَ یَنَام أوَّلَ اللّیل وَیُحییِ آخِرَہ” ۔بخاری ، مسلم۔
(آپ ﷺ اول رات میں سوتے تھے اور آخری حصہ میں شب بیداری کرتے )۔
اور یہ صوفیاء حضرات اس کے برخلاف رات کے اول حصہ میں بدعات اور ناچ گانے کے ساتھ شب بیداری کرتے ہیں اور آخری حصہ میں سوکر نماز ضائع کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشا د ہے: فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ، الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ(الماعون:4-5(
(ان نمازیوں کے لئے افسوس اور ویل ہے جو اپنی نماز سے غافل ہیں)۔
یعنی اس کے وقت سے موخر کرتے ہیں۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:” رَکَعتَا الفَجرِ خَیر مِنَ الدُّنیَا وَمَا فیھَا” ترمذی۔
(فجر کی دو رکعتیں دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے افضل ہیں)۔

ذکر میں تالی بجانا

میں ایک مسجد میں تھا جس میں نماز جمعہ کے بعد ذکر ک محفل شروع ہوئی، میں بیٹھ کرانہیں دیکھنے لگا، ان کا جوش اور مستی بڑھانے کے لئے ایک آدمی تالیان بچانے لگا، میں نے اس کی طرف اشارہ کیا کہ یہ حرام ہے مگر اس نے تالی بچانا بند نہیں کیا، جب وہ فارغ ہوگیا تو میں نے اسے پھر نصیحت کی مگر اس نے قبول نہیں کی، ایک مدت بعد پھر میں نے اس سے ملاقات کی اور اسے بتایا کہ تالی بجانا مشکرین کا کام ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ان کے متعلق فرماتا ہے: وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَيْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِيَةً١ؕ(الأنفال:35)
(اور ان کی نماز کعبہ کے پاس صرف یہ تھی سیٹیاں بجانا اور تالیاں بجانا)۔
المکاء: سیٹی بجانا۔
التصدیۃ: تالی بجانا۔
اس نے مجھے جواب دیا کہ فلان شیخ نے اسے جائز قرار دیا ہے!
میں نے اپنے دل میں کہا کہ: ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا یہ قول صادق آتا ہے:
اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ١ۚ(التوبۃ:31)
(ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنایا ہےاور مریم کے بیٹے مسیح کو )۔
چنانچہ جب عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے جو اسلام لانے سے قبل نصرانی تھے یہ آیت سنی تو کہا اے اللہ کے رسول: ہم تو ان کی عبادت نہیں کرتے !
تو نبیﷺ نے فرمایا:”ألَیسَ یُحِلّون لَکُّم مَاحَرّم اللہُ فَتُحلّو نَہ وَیُحَرّمُون مَاأحَلّ اللہُ فَتُحَرّ مُونَہ؟ قَالَ بَلَی ، قَالَ النّبِی ﷺ فَتلکَ عبَادَتھُم“۔ ترمذی، بیھقی
(کیا ایسی بات نہیں تھی کہ وہ اللہ کی حرام کردہ چیزیں تمہارے لئے حلال کر دیتے تھے پس تم انہیں حلال مان لیتے تھے، اور اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزیں حرام کہہ دیتے تو تم انہیں حرام مان لیتے تھے؟ کہا: ہاں ضرور ایسا ہوتا تھا۔ آپﷺ نے فرمایا: یہی ان کی عبادت ہے)۔
ایک بار ایک دوسری مسجد میں ذکر میں حاضر ہوا، شعر پڑھنے والا دوران ذکر تالیاں بجاتا تھا، فارغ ہونے کےبعد میں نے اس سے کہا: تمہاری آواز بڑی پیاری ہے، مگر یہ تالی بجانا حرام ہے۔
اس نے کہا: گانے کے نغمے بغیر تالی کے جَمتے ہی نہیں ہیں! اور اس سے پہلے ایک بڑے شیخ نے مجھے دیکھا مگر انہوں نے کوئی اعتراض نہیں کیا!
اس ذکر کے اندر حاضرین کو دیکھا گیا کہ وہ اللہ کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں اور اس طرح کہتے ہیں: (اللہ۔ آہ۔ ھِی۔ ھُو۔ یَاھُو!) اس قسم کی تبدیلی اور تحریف حرام ہے جس پر قیامت کے دوز ان کا محاسبہ ہوگا۔

لوہے کی سلاخوں سے کھیلنا

ہمارے گھر سے قریب ہی صوفیاء کی ایک کانقاہ تھی، میں ان کا ذکر و اذکار دیکھنے وہاں گیا، عشاء کے بعد اشعار پڑھنے والے آئے، سب داڑھی منڈائے ہوئے تھے اور ایک آواز ہوکر کہنے لگے:

ھَات کَاسَ الرّاح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وَاسقنَا الأَقَدَاح
شراب کا پیالہ لاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ہمیں جام پلاؤ

یہ شعر باربار دہراتے ہوئے لچک رہے تھے، ان کا صدر اکیلے یہ شعر دہراتا پھر اس کے پیچھے دوسرے لوگ دہراتے جو گانے بجانے والی جماعتوں کے بالکل مشابہ تھے! مسجد جو نماز اور قرآن کے لئے بنی ہے اس میں شراب کا ذکر کرتے ہوئے ذرا بھی نہیں شرماتے نہ تھے، کیونکہ اس شعر میں” الراح” کے معنی شراب کے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں اور نبیﷺ نے حدیث پاک میں شراب حرام قرار دی ہے، پھر زور زور سے دف بجنے لگے، ان میں سے ایک بوڑھا آدمی آگے بڑھا اور اپنی قمیص نکال کر زور زور سے چینخنے لگا(یاجدّاہ۔ اے میرے دادا)! اس کا مقصود اپنے گزرے ہوئے آباء واجداد میں سے کسی کے ذریعہ فریاد کرنا تھا جو رفاعی سلسلہ کا پیرو کار رہا ہو، کیونکہ یہ عمل ان کے یہاں مشہور ہے! پھر لوہے کی ایک سنحیچی لیکر اپنی کمر کے چمڑے میں داخل کرلیا، اور “ہائے دادا” کی چیخ لگا تارہا، پھر دوسرا شیخ جو فوجی لباس پہنے ہوئے تھاآیا، داڑھی منڈائے ہوئے تھا، شیشہ کا ایک گلاس لیکر اپنے دانتوں سے چبانے لگا!
میں نے اپنے جی میں کہا: یہ اگر واقعی فوجی ہے تو اپنے دانتوں سے گلاس توڑنے کے بجائے یہودیوں سے جاکر کیوں لڑائی نہیں کرتا، یہ 1967 کا واقعہ ہے جب یہود سرزمین عرب کے اکثر حصہ پر قبصہ کئے ہوئے تھے اور عرب فوج شکست خوردہ ہوکر پیچھے ہٹ آئی تھی اور لڑائی ناکام ہوچکی تھی یہ فوجی انہیں میں سے تھا مر کچھ نہیں کرسکا۔

ان تمام کاموں پر چند باتیں غور طلب ہیں جو درج ذیل ہیں:

1. بعض لوگ اس کام کو کرامت سمجھتے ہیں، وہ نہیں جانتے کہ یہ شیطانوں کا کام ہے جو ان کے ارد گرد اکھٹا ہو کر گمراہی پر ان کی مدد کرتے ہیں! کیونکہ ان لوگوں نے اپنے باپ دادا سے فریاد کرکے اللہ کے ذکر سے اعراض اور اس کے ساتھ شرک کیا، جیسا کہ ارشاد باری ہے: وَ مَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَيِّضْ لَهٗ شَيْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيْنٌ،وَ اِنَّهُمْ لَيَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِيْلِ وَ يَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ(الزخرف:36۔37)
(اور جو شخص رحمٰن کی یاد سے غفلت کرے ہم اس پر ایک شیطان مقرر کر دیتے ہیں وہی اس کا ساتھی رہتا ہے، اور وہ انہیں راہ سے روکتے ہیں اور یہ اسی خیال میں رہتے ہیں کہ یہ ہدایت یافتہ ہیں)۔
اللہ تعالیٰ ان کے لئے شیطانوں کو مسخر کردیتا ہے تاکہ انہیں مزید گمراہ کریں، ارشاد باری ہے:
قُلْ مَنْ كَانَ فِي الضَّلٰلَةِ فَلْيَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا١ۚ۬(مریم:75)
(کہہ دیجئے کہ جو گمراہی میں ہوتا ہے رحمٰن اس کو خوب لمبی مہلت دیتا ہے)۔
2. اس میں کوئی تعجب نہیں کہ شیطان ان کی مدد کرتا ہے اور انہیں یہ قدرت حاصل ہو جاتی ، کیونکہ سلیمان علیہ السلام نے اپنے بعض لشکریوں کو ملکہ بلقیس کا تخت لانے کا حکم دیا تھا قَالَ عِفْرِيْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِيْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ١ۚ(النمل:39)
(ایک قوی ہیکل جن کہنے لگا آپ اپنی اس مجلس سے اٹھیں اس سے پہلے ہی پہلے میں اسے آپ کے پاس لادیتا ہوں)۔
اور جن لوگوں نے ہندوستان کا سفر کیا ہے مثلاً ابن بطوطہ وغیرہ انہوں نے مجوس کے یہاں اس سے بھی بڑھ کر چیزیں دیکھی ہیں!
3. یہاں معاملہ کرامت اور ولایت کا نہیں ہے، بلکہ لوہے کے چھڑیوں سے کھیلنا شیا طین کا کام ہے جو گانے اور موسیقی وغیرہ کے پاس موجود ہوتے ہیں جو کہ شیطان کی بانسری ہے، اور اکثر و بیشتر اس طرح کا کام کرنے والے لوگ اللہ کی نافرمانی کےمرتکب ہوتے ہیں، بلکہ کھلم کھلا اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں، تویہ اولیاء اور اصحاب کرامات کیسے ہو ں گے؟! جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِيَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ،الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا يَتَّقُوْنَ(یونس:62۔63)
(یاد رکھو اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور برائیوں سے پرہیز رکھتے ہیں)۔
تو ولی وہ پرہیز گار مومن ہے جو شرک و معاصی سے دور رہتا ہے اور خوشحالی و سختی ہر حالت میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتا ہے، کبھی اس کے پاس کرامت آٹومیٹک بغیر مانگے اور بغیر لوگوں کے سامنے اس کا اظہار کئے آجاتی ہے۔
4. شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اس قسم کے لوگوں کے کرتوتوں کے متعلق ذکر کرتے ہوئے کہا ہے: تلاوت قرآن اور نماز کے وقت یہ افعال ان سے سرزد نہیں ہوتے، کیونکہ یہ ایمانی و شرعی عبادات ہیں جو رسول اکرمﷺ کی سنت کے مطابق ہیں اور شیطانوں کو دور بھگاتی ہیں ۔۔۔۔ اور ان کی عبادتیں شرک وبدعت پر قائم ہیں ، شیطانی و فلسفی طرز پر ہیں وہ شیطانوں کو جمع کرتی ہیں۔
5. ان شعبدہ بازوں سے جو لوہے کے چھڑوں سے خود کو ماررہے تھے ایک سلفی آدمی نے مطالبہ کیا کہ اپنی آنکھ میں ایک(پن) سوئی داخل کرلے، تو وہ ڈر کے مارے ہمت نہ کرسکا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اپنے چمڑوں میں لوہےکی جو سلاخ داخل کر رہے تھے وہ کوئی مخصوص سلاخ ہوتی ہے، اور وہ لوگ جو اس قسم کا کام کرتے تھے پھر توبہ کرنے کے بعد س خون کی حقیقت بیان کی جس کے بعد میں جاکر دھولیتے تھے۔
6. ایک سچے مسلمان نے مجھ سے بیان کیا جس نے اپنی آنکھوں سے ایک فوجی کو لوہے کی سلاخ سے مارتے ہوئے دیکھا تھا، اور سلاخ کی جگہ سے خون بہہ رہا تھا، جب اسے اسکے کمانڈر کے پاس لے گئے اس نے کہا کہ: ہم تمہارے پیر پر بارود سے مارتے ہیں اگر تم سچے ہو تو صبر کرو اور برداشت کرکے دکھاؤ، مگر جب اس پر چوٹ نے اثر کیا تو رونے ، چلانے اور واویلا کرنے لگا، اور دہائی دینے لگا، چوٹ برداشت نہ کرسکا، دوسرے فوجی اس پر ہنسنے اور اس کا مذاق اڑانے لگے!!

خلاصہ

لوہے کی سلاخوں سے مارنانہ رسول اکرم ﷺ سے ثابت ہے اور نہ ہی صحابہ و تابعین اور ائمہ مجتہدین سے، اگر اس میں بھلائی ہوتی تو وہ ہم سے سبقت لے جاتے، یہ بعد کے بدعتیوں کی ایجاد ہے جو شیطانوں سے مدد طلب کرتے اور اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں، حالانکہ رسول اکرم ﷺ نے ہمیں اس طرح کی بدعت سے ڈرایا ہے جیسا کہ ارشاد گرامی ہے:”اِیّاکُم وَمُحدَثَاتِ الأُمُور، فَاِنّ کُل مُحدَثَۃ بِدعَۃ، وَکلّ بِدعَۃ ضَلَالَۃ وَکُلّ ضَلَالَۃ فِی النّارِ”۔
(نئی چیزوں سے بچو کیونکہ ہر نئی چیز بدعت ہے ، اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے)۔
ان بدعتیوں کے کارنامے رسول اکرمﷺ کے فرمان کے ذریعہ مردود ہیں، آپﷺ نے فرمایا:” مَن عَمِلَ عَمَلاً لَیسَ عَلَیہ أَمرُنَافَھُورَدّ” مسلم۔
(جس نے کوئی ایسا کام کیا جو ہمارے طریقہ پر نہیں تو وہ مردود ہے)۔
یہ بدعتی حضرات مُردوں اور شیطانوں سے مدد طلب کرتے ہیں، حالانکہ یہ شرک ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں ڈرایا ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: اِنَّهٗ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ(المائدۃ:72)
(یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے، اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے اور گنہگاروں کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا)۔
نیز نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:” مَن مَاتَ وَھُوَ یَد عُومِن دُون اللہ نِداً دَخَلَ النّار” بخاری۔
(جس کی موت اس حالت میں ہوئی کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا تھا وہ جہنم میں داخل ہوگا)۔
ند کے معنی: ہمسر اور شریک ۔
ان پر اعتقاد رکھنے والا یا ان کی مدد کرنے والا ہر شخص انہیں میں سے ہے۔

سلسلہ مولویہ

ہمارے شہر میں سلسلہ مولویہ کی ایک مخصوص خانقاہ تھی، یہ ایک بڑی مسجد تھی جس میں نمازیں ادا کی جاتی تھی، اس مسجد میں بہت سارے مردے دفنائے ہوئے تھے، اس پر چہار دیواری بنی ہوئی تھی، قبروں پر خوبصورت پتھروں ے قبے بنائے ہوئے تھے، جس پر قرآنی آیتین، مُردے کا نام اور اشعار لکھے ہوئے تھے، اور یہ لوگ ہر جمعہ یاد یگر مناسبات پر” مجلس” منعقد کرتے تھے، اور اپنے سروں پر خاکی رنگ کی اونی ٹوپی پہنتے ، اور ذکر کے وقت بانسری اور بعض دوسرے موسیقی کے آلات بجاتے جس کی آواز دور سے سنائی دیتی، میں نے دیکھا کہ ایک شخص حلقہ کے درمیان کھڑا ہوا ہے، وہ اس جگہ سے بغیر حرکت کئے ناچ رہا ہے، اور میں نے دیکھا کہ اپنے شیخ جلال الدین وغیرہ سے مدد طلب کرتے وقت اپنے سروں کو جھکاتے ہیں۔
1. امر تعجب یہ ہے کہ بہت سارے مسلم ممالک میں یہود ونصاری کی طرح مسجدوں میں مردوں کو دفناتے ہیں اور یہ مسجد بھی انہی میں سے ایک تھی، چنانچہ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فعرمایا:” لَعَنَ اللہُ الیَھُودَوَالنّصَارَی اتّخَذُوا قُبُورَأَ نبِیَائِھم مَسَاجدیُحَذّرُمَاصَنَعُو ا“بخاری۔
(اللہ تعالیٰ یہود ونصاریٰ پر لعنت کرے جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجد بنالیا، آپ ان کے کردار سے لوگوں کو ڈرارہے تھے)۔
قبروں کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے سے نبی اکرمﷺ نے منع فرمایا، جیسا کہ ارشاد گرامی ہے:” لا تَجلِسُوا عَلَی القُبُور، وَلاتُصَلُّوااِلَیھَا” مسلم، احمد۔
(قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ ہی اس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھو)۔
اور قبروں پر تعمیری کام مثلاً تاریخی یاد گار، قبے اور دیوار وغیرہ قائم کرکے اس پر لکھنا، اسے چونا کاری کرنا تو اس کے متعلق نبی اکرم ﷺ کا فرمان سنئے:
“نَھَی أَن یُجَصّص القَبر، وَأَن یُبنَی عَلَیہِ” مسلم۔
(آپ ﷺ نے قبروں کو پختہ کرنے اور اس پر تعمیر کرنے سے منع فرمایا ہے)۔
ایک دوسری روایت میں ہے :” نَھَی أَن یُکَتب عَلَی القَبر شَیء” ترمذی۔
(آپﷺ نے قبرپر کچھ بھی لکھنے سے منع فرمایاہے)۔
یجصص کے معنی: چونا یا پینٹ وغیرہ سے لیپ کرنا۔
2. البتہ مسجدوں میں ذکر واذکار کے وقت آلات موسیقی کا استعمال تو یہ متأخرین صوفیہ کی بدعت ہے، جبکہ رسول اکرمﷺ نے موسیقی حرام قراردی ہے، ارشاد فرمایا:” ليكوننّ من أمتي قوم يستحلون الحر والحرير والخمر والمعازف“۔
(میری امت میں ایسی قومیں ہوں گی جو شرمگاہ(زنا کاری)، ریشم ، شراب اور گانے بچانے کے آلات حلال کرلیں گی)۔
عید ے دن یا نکاح کے موقع پر عورتوں کے لئے دف بجانا آلات موسیقی سے مستثنی ہے۔
3. یہ لوگ مسجدوں میں بانسری کے ساتھ ذکر قائم کرنے کے لئے ادھر اُدھر جایا کرتے ، شب بیداری کرتے ،اور محلّہ والے بدترین سارنگیوں کی آواز سنتے ۔
4. ان میں سے ایک شخص کو میں پہنچانتا تھا یہ اپنے لڑکے کو ہیٹ پہنا تا تھا جسے کفار پہنتے ہیں، میں نے اسے چپکے سے لیکر پھاڑدیا، ہیٹ پھاڑنے کی وجہ سے صوفی مجھ سے ناراض ہوگیا اور مجھے ڈانٹا۔
میں نے اس سے کہا کہ تمہارے لڑکے کے اس طرح کا لباس پہننے پر جو کفار پہنتے ہیں مجھے غیر ت آگئی بہر حال میں نے اس سے معذرت کی، وہ اپنی آفس میں ایک تختی لگائے ہوئے تھا جس پر لکھا تھا(اے حضرت مولانا جلال الدین)۔
میں نے اس سے پوچھا: تم اس شیخ کو کیسے پکارتے ہو جو نہ سنتے ہیں اور نہ تمہارا جواب دے سکتے ہیں؟ وہ میری بات سن کر کاموش ہی رہا۔
یہ سلسلہ مولویہ کا خلاصہ ہے۔

ایک صوفی شیخ کا عجیب و غریب درس

ایک مرتبہ کسی شیخ کے ساتھ ایک مسجد کے درس میں حاضرہوا اس میں بہت سارے اساتذہ و مشائخ حاضر تھے، وہ ابن عجیبہ کی کتاب (الحِکم) پڑھ رہے تھے ، درس کا موضوع ” صوفیہ کے نزدیک نفس کی تربیت” کے متعلق تھا ایک شخص نے کتاب مذکور میں سے یہ عجیب و غریب قصہ پڑھا:
(ایک صوفی حمام میں غسل کے لئے داخل ہوا جب یہ صوفی باتھ روم سے نکلا تو وہ رومال جو باتھ روم کے مالک نے غسل کرنے والے کو بدن پوچھنے کے لئے دیا تھا چوری کرلیا، لیکن اس کا ایک کنارہ ظاہر رہنے دیا تاکہ لوگ اسے دیکھ کر ڈانٹیں اور برا بھلا کہیں، تاکہ اس سے اس کے نفس کی تذلیل ہو اور صوفیہ کے طریقہ پر اس کی تربیت ہو، اور واقعی وہ صوفی باتھ روم سے اسی طرح نکلا، باتھ روم کا مالک اس کے پاس پہنچا اور رومال کا کنارہ اس کے کپڑے کے نیچے دیکھ کر اسے ڈانٹا اور برا بھلا کہا، سارے لوگ سن رہے تھے اور اس صوفی شیخ کو دیکھ رہے تھے جس نے باتھ روم سے رومال چوری کیا تھا ، لوگ اس پرپل پڑے گالی گلوج دینے لگے اور وہ سب کچھ اس کے ساتھ کیا جو چور کے ساتھ کرتے ہیں، اس طرح اس صوفی آدمی کے متعلق غلط تصور لوگوں نے اپنے دل میں بٹھالیا۔
ایک دوسرے صوفی نے اپنے نفس کی تربیت اور تذلیل کرنا چاہی ، تواپنی گردن میں اخروٹ سے بھرا ہوا ایک تھیلا باندھا ، اور بازار کی طرف نکلا، جب بھی اس کے پاس سے کوئی بچہ گزرتا اس سے کہتا:” میرے چہرے پر تھوکو تمہیں اخروٹ دوں گا”۔ بچہ شیخ کے چہرے پر تھوکتا اور وہ اسے ایک اخروٹ دیتا ، اس طرح اخروٹ کی لالچ میں بچوں کا شیخ کے چہرے پر تھوکنا جاری رہا، اور صوفی شیخ خوش تھا۔
یہ قصے سن کر قریب تھا کہ میں غصہ سے پھٹ پڑتا، اور اس فاسد تربیت سے میرا سینہ تنگ ہوگیا مذہب اسلام جس نے انسان کو عزت بخشی ہے اس طرح کے کاموں سے براءت کا اظہار کرتا ہے۔ ارشاد باری ہے: وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ۔۔۔۔۔۔ (الاسراء:70)
(یقیناً ہم نے اولاد آدم کو بڑی عزت دی اور انہیں خشکی اور تری کی سواریاں دیں)۔
نکلنے کے بعد میں نے اپنے ساتھ کے شیخ سے کہا: تربیت نفس کا یہی صوفی طریقہ ہے! کیا نفس کی تربیت حرام طریقہ پر چوری کرنے سے ہوسکتی ہے جس پر شریعت نے چور کا ہاتھ کا ٹنے کا حکم دیا ہے؟ یا یہ کہ نفس کی تربیت تذلیل اور اعمال خسیسہ کے ارتکاب سے ہوسکتی ہے؟ اسلام اس عمل کا بالکل منکر ہے، اور عقل سلیم بھی اس کی منکر ہے جس کے ذریعہ اللہ نے انسان کو فضیلت بخشی ، اور کیا یہی وہ حکمتیں ہیں جن کی وجہ سے شیخ نے اپنی کتاب کا نام (الحِکم لابن عجیبہ) رکھا!! یہ بات قابل ذکر ہے کہ وہ شیخ جو درس کی صدارت کر رہے تھے ان کے بہت سارے شاگرد اور پیرو کار تھے، ایک مرتبہ شیخ نے اعلان کیا کہ وہ حج کا ارادہ کررہے ہیں، ان کے بہت سارے شاگرد ان کے پاس اپنا نام لکھوانے گئے تاکہ حج میں ان کی رفاقت رہے، یہاں تک کہ عورتوں نے بھی اپنا نام لکھوایا، بلکہ بسا اوقات بعض کو اس کے لئے اپنے زیورات بھی بیچنے کی ضرورت پڑی ، اس طرح خواہشمند وں کی بہت بڑی تعداد ہوگئی، اور شیخ کے پاس بہت سارا مال اکھٹا ہوگیا، پھر دوبارہ شیخ نے حج کی عدم استطاعت کا اعلان کیا، مگر کسی کا بھی مال واپس نہیں لوٹایا، بلکہ حرام طریقہ پر کھاگئے!! اللہ رب العزت کا فرمان ان پر صادق آیا: يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّهْبَانِ لَيَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ يَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ١ؕ۔۔۔۔۔(التوبۃ:34)
(اے ایمان والو! اکثر علماء اور عابد لوگوں کا مال ناحق کھا جاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روک دیتے ہیں)۔
میں نے ان کے بعض پیروکاروں سے جو سرمایہ دار تھے اور شیخ کے ساتھ معاملات کرچکے تھے شیخ کے متعلق کہتے ہوئے سنا:” سب سے بڑا دجال اور عظیم حیلہ ساز ہے”!!

صوفیہ کے یہاں مسجدوں کا ذکر

1. محلّہ کی مسجد میں جہاں میری رہائش تھی ایک بار صوفیہ کی مجلسِ ذکر میں حاضر ہونے کا موقع ملا، دوران ذکر حلقہ میں جہاں محلّہ والے اکھٹا تھے ایک کوش گلو آدمی اشعار وقصائد پڑھنے کے لئے آیا، اس صوفی سے جو قصیدہ میں نے سنا اس کی ایک بات مجھے یاد ہے، وہ کہہ رہا تھا:” اے غیب جاننےو الو!! ہماری مدد کرو، ہمیں بچاؤ، ہماری مدد کرو وغیرہ۔۔۔۔ حالانکہ مردوں سے حاجات طلب کرنا اللہ کا کفر ہے، اگر وہ سنیں بھی تو ان کی پکار قبول نہیں کرسکتے خود اپنے لئے نفع کے مالک نہیں چہ جائیکہ دوسروں کے لئے، قرآن کریم نے انہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: وَ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا يَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِيْرٍ،اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا يَسْمَعُوْا دُعَآءَكُمْ١ۚ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ١ؕ وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ١ؕ وَ لَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيْرٍ(فاطر:13۔14)
(جنہیں تم اس کے سوا پکار رہے ہو وہ تو کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کےبھی مالک نہیں، اگر تم انہیں پکارو تو وہ تمہاری پکار سنتے ہی نہیں اور اگر بالفرض سن بھی لیں تو فریاد رسی نہیں کریں گے بلکہ قیامت کے دن تمہارے اس شرک کا صاف انکار کرجائیں گے، آپ کو کوئی بھی حق تعالیٰ جیسا خبردار خبریں نہ دیگا)۔
ذکر سے فارغ ہونے اور وہاں سے نکلنے کے بعد میں نے شیخ سے جو امام مسجد تھے اور اس محفل میں شریک تھے کہا: اس ذکر کو ذکر نہیں کہہ سکتے، کیونکہ میں نے اس میں اللہ کا کوئی ذکر نہیں سنا اور نہ ہی اللہ سے حاجت روائی اور کوئی دعا سنی، بلکہ میں نے تو مُردوں سے جو موجود نہیں دعا و پکار سنی، اور رجال غیب کون ہیں جو ہماری مدد کرسکتے ہیں اور مصیبتوں سے نجات دے سکتے ہیں۔ اس پر شیخ خاموش رہ گئے!
ان پر سب سے بڑا رد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: وَ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ۠ نَصْرَكُمْ وَ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ(الأعراف:197)
(اور تم جن لوگوں کی اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو وہ تمہاری کچھ مدد نہیں کرسکتے ارو نہ وہ اپنی مدد کرسکتے ہیں)۔
2. دوسری مرتبہ ایک دوسری مسجد میں گیا جس میں نمازیوں کی بہت بڑی تعداد تھی، مسجد میں ایک صوفی شیخ تھے جن کے پیرو کار بھی تھے، نماز کے بعد ذکر کے لئے کھڑے ہوئے ،د وران ذکر یہ لوگ نا چ کود کرنے لگے اور یہ کہتے ہوئے چیخنے لگے (اللہ۔ آہ۔ھی۔۔۔۔!!) ایک شعر پڑھنے والا شیخ سے قریب ہوا ، اور ان کے سامنے ناچنے اور تھرکنے لگا گویا گانے یا ناچنے والا ہے، وہ اپنے شیخ کے حسن کی تعریف میں اشعار پڑھ رہا تھا، اور شیخ خوشی سے مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہے تھے۔۔۔!!

صوفیہ کا لوگوں کے ساتھ برتاؤ

1. میں نے مذکورہ صوفی شیخ کے ایک شاگرد سے حانوت (دوکان) خریدی ، اور ان سے یہ شرط رکھی کہ کرایہ دار کے کرایہ کی ادائیگی پر ضمانت لے لیں اس پر وہ راضی ہو گئے، ایک وقفہ کے بعد کرایہ دار نے کرایہ روک لیا، سابق مالک جس سے میں نے خریدا تھا اس کی طرف رجوع کیا ، مگر اس نے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ اس کے پاس ادائیگی کے لئے کچھ نہیں ہے، تھوڑے دنوں بعد یہ صوفی اپنے شیخ کے ساتھ حج کے لئے چلا گیا، جس پر مجھے بہت تعجب ہوا، اور اس کا جھوٹ مجھ پر کھل گیا، پھر میں نے اپنی آپ بیتی اور جو دھوکہ میرے ساتھ اس آدمی نے کیا تھا شیخ کے بعض قریبی شاگردوں سے بیان کیا۔ مگر اس نے بھی کچھ نہیں کیا، بلکہ جواب دیا: ہم اس کا کیا کریں؟ اگر وہ منصف ہوتا تو اسے بلاتا اور لوگوں کے حقوق کی ادائیگی کا اس سے مطالبہ کرتا۔
میں اس ضامن کے مکان کا چکر لگاتارہتا تھا، ا س کے پاس بننے کا کارکانہ تھا، شیخ کے ایک شاگرد نے مجھے دیکھ لیا جو اشعار پڑھا کرتا تھا اور ناچتے ہوئے شیخ کے سامنے تھرکتا تھا، اس نے سمجھ لیا کہ میں اس کے ساتھی کی تلاش میں ہوں ، میں نے اس سے اس کا پتہ معلوم کیا ، اور اس کا کرتوت ذکر کیا، تو مجھ سء انصاف کی بات کرنے کے بجائے الٹا مجھے گالیاں دینے لگا، میں اسے چھوڑ کر چلا آیا اور دل مٰں کہا یہی صوفیہ کے اخلاق ہیں۔ جس سے نبی اکرمﷺ نے ہمیں ڈرایا ہے:” أربَع مَن کُنّ فِیہِ کَانَ مُنَافِقاً خَالِصاً، وَمَن کَانَت فِیہِ خصلَۃ مِنھُنّ کَانَت فِیہِ خَصلَۃ مِنَ النّفَاق حَتّی یَدَعھَا: اِذَا حَدّثَ کَذَبَ، وَاِذَاوَ عَدَأَخلَفَ وَاِذَاعَاھَدغَدَرَوَاِذَ ا خَاصَمَ فَجَرَ” بخاری، مسلم۔
(چار صفات جس کے اند رپائی جائیں وہ پکّا منافق ہے، اور جس میں ان میں سے ایک صفت ہوگی اس کے اندر نفاق کی ایک خصلت ہوگی یہاں تک کہ اسےچھوڑ دے: (1) بات کرے تو جھوٹ بولے، (2) وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے،(3) عہدو پیمان کرے تو بدعہدی کرے(4) لڑائی جھگڑا کرے تو گالی گلوج بکے)۔

Advertisements